مسلم کانفرنس آمدہ انتخابات میں کیوں اہم ؟

سردار عامر عنصر خان

مسلم کانفرنس۔ پی ٹی آئی۔جماعت اسلامی کے بارے میں گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر ایسی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہیں جس میں مسلم کانفرنس کے کارکنان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ۔ آزاد کشمیـــــــر میں 2016 میں جو انتخابات ہوئے ان میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا حلقہ ایل اے 20 پونچھ 4 جو موجودہ حلقہ 5 ہے کا جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد تھا جس کی مدت 2021 میں ختم ہو رہی ہے ۔

پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے دوست دوست جن کا آج کل تکیہ کلام ہے کہ فلاں مسلم کانفرنســــں کا آدمی ہے اور پی ٹی آئی کی سپورٹ کر رہا ہے ۔آنے والے الیکشن میں اتحاد ہو نہ ہو وہ بعد کی بات ہے ابھی 2016 کے اتحاد کی مدت ختم نہیں ہوئی۔ اس لیے سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ آنے والے الیکشن میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت میں سے کسی نے خط بھی نہیں لکھا کہ اتحاد کس سے ہو گا اور کس سے نہیں ۔

کچھ احباب کو اس بات کی بہت فکر لگی ہوئی ہے کہ کیا ہو گا تو بھایئو اتحاد ہوا اور اگر پی ٹی آئی سے ہوا تو آپ کو بذریعہ نوٹیفکیشن جو اسلام آباد سے ایشو ہو گا ان کو معلوم ہو جائے گا کیونکہ کوی بھی برانچ اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی بلکہ فیصلہ ہیڈ آفس میں ہوتے ہیں اس لیے ہیڈ آفس سے رابطہ میں رہیں تاکہ آپ کو علم ہو سکے ۔

صرف ریاستی جماعتوں اس چیز میں آزاد ہیں کہ وہ کب اور کس وقت کیا فیصلہ کریں ۔ سیاسی جماعتوں میں اتحاد بھی ہوتے ہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوتی ہیں ۔اس لیے ان ساری باتوں پر بحث کرنا قبل از وقت ہو گا اور 2021 کے بعد سب کو اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ جس سے چاہیں اتحاد کریں یا نہ کریں ۔ہیڈ آفس والوں کو محسوس ہوا کہ اتحاد کرنا ضروری ہے تو وہ کر لیں گے ۔اس لیے اس پریشانی میں نہ پڑیں۔

باقی 27 تاریخ کو سردار تنویر الیاس خان راولاکوٹ میں دفاع وطن پروگرام میں جا رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ مسلم کانفرنس کے کارکنان کو اس پروگرام میں ضرور شرکت کرنی چاہیے کیونکہ 2016 کے الیکشن میں سردار تنویر الیاس خان نے ہماری جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے امیدوار سردار صغیر خان کی بھرپور سپورٹ کی تھی اور کامیاب کروانے میں فعال کردار بھی ادا کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں