مسئلہ کشمیر فلش پوائنٹ، سیزفائز جیسے اقدامات سے کشمیریوں کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا،کشمیر گلوبل کونسل

سرینگر( سٹیٹ ویوز)کشمیر گلوبل کونسل نے پاکستان اور بھارت کی طرف سے سیز فائر لاین کی پاسداری کرنے پر دو طرفہ اتفاق اور عمل یقینی بنانے پر کہا کہ کشمیریوں کو اس طرح کے اقدامات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان۔ بھارت اور چین سیکیورٹی کے مقاصد اور امن کیلیے آپس میں جو بھی معاہدے کریں اس سے کشمیریوں سے چھینی گئی آزادی واپس نہیں ہوتی۔

کشمیری ان معاہدوں کی وجہ سے اپنے بنیادی موقف یعنی حق آزادی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ بھارت مقبوضہ وادی میں بندوق کے زور پر کشمیریوں سے آزادی سلب کیے ہوئے ہے۔ کشمیر گلوبل کونسل کی مرکزی ترجمان حمیرہ گوہر نے سیکرٹری جنرل اور صدر کونسل کی طرف سے بیان جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ اصل مسئلہ کشمیریوں کی آزادی اور ان پر ہونے والے مظالم ختم کرانا ہے۔

کونسل کے نایب صدر مفتی شوکت فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن معاہدے پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرانا ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن دونوں ملکوں کو یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ اس طرح اصل تنازعہ یعنی مقبوضہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی کو حل نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر حمیرہ گوہر کا مزید کہنا ہے کہ جموں کشمیر کا وہ سٹیٹس جو 47 میں تقسیم برصغیر سے پہلے تھا اس کو بحال ہونا چاہیئے۔ کشمیریوں سے ایک مکمل آزاد اور خودمختار سٹیٹس چھینا گیا جس کو حاصل کرنے کیلیے 7 دہائیوں سے کشمیری عوام جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اس تمام متنازعہ علاقہ سے افواج کو نکال کر رائے شماری کرائی جائے تا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے تنازعہ میں کشمیری اصل فریق ہیں اور انکی رائے کو حتمی تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں