آواز دل/ سردار آفتاب عارف

27 فروری سرپرائز ڈے..

گزشتہ دو تین ایام سے 27 فروری کا راولاکوٹ میں ہونے والا پروگرام اور 27 فروری کی ڈسکشن زبان زد عام رہی سوشل میڈیا پر اس بارے چرچا عروج پر رہا سوشل میڈیا پر 27 فروری کی مناسبت سے پوسٹوں میں افواج پاکستان کا ذکر اور پاکستان فضائیہ کے دو بہادر پائلٹس کی تصاویر بھی گردش میں رہیں میرا 13 سالہ بیٹا عبد الاحد جس کو پاک فوج میں جانے کا جنون کی حد تک شوق ہے اور اس کے اس شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں کروایا عبدالاحد نے مجھ سے 27 فروری کی بابت سوال کیا 27 فروری کو کیا ہوا تھا یہ دو پائلٹ کون ہیں..

راولاکوٹ میں جو جلسہ ہوا وہ کیا تھا وغیرہ وغیرہ میں نے عبدلآحد کو اس بارے تفصیل بتانے کی کوشش کی تو اس نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں27 فروری پر لکھوں جسے وہ اپنے پاس محفوظ رکھ کر بار بار پڑھ سکے تو آج کا میرا کالم جہاں قوم کے دو بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کاوش ہے وہیں کیڈٹ عبدالاحد کی معصوم خوا ہش کی تکمیل بھی ہے 27 فروری پر لکھنے سے قبل ان تمام عوامل کو زیر قلم لانا ضروری ہے جن کی وجہ سے 27 فروری کا یہ واقعہ رونما ہوا تھا 14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبہ اونتی پور کے نزدیکی گاوں لیتھ پورہ میں کشمیر کے ایک بہادر مرد مجاہد اورشمع ِآزادی کے ایک جان نثار پروانے جس کی شناخت عادل احمد ڈار کے نام سے ہوئی تھی اس حریت پسند نے ظالم قابض بھارتی سکیورٹی فورس کے ایک قافلے پر خود کش حملہ کیا جس میں قابض بھارتی پیراملٹری فورس کے 40 اہلکار واصل جہنم ہوئے تھے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ خودکش حملہ بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں جاری انسانیت سوز مظالم جبر اور بربریت کا ری ایکشن تھا جس سے اقوام عالم بخوبی آشنا ہیں

بھارتی حکومت نے اس خودکش حملہ کے اصل حقائق اور وجوہات کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی بجائے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے اور اپنی سبکی مٹانے کے لیے کشمیری آزادی پسند کی طرف سے کیے گئے اس حملے کا ذمہ دار ہمیشہ کی طرح پاکستان اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے سر تھوپنے کی ناپاک حرکت کی اس کا ملبا پاکستان پر ڈالا اور خوب واویلا کیا بھارت کی مسلم کش حکمران نریندر مودی نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائے گا جس نے اس کی سینا (فوج ) پر حملہ کروا کر فوجی جوانوں کو مروایا ہے ابھی بھارت اپنی مردار سکیورٹی اہلکاران کا انتم سنکسار (موت کی آخری رسومات ) بھی ادا نا کر پایا تھا کہ بھارت کو ایک اور زخم سہنا پڑا بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد بالعموم پورے مقبوضہ کشمیر اور بالخصوص ضلع پلوامہ کے ایک ایک گھر میں سرچ آپریشن شروع کیا اسی سرچ آپریشن کے بہانے ضلع پلوامہ کے گاو¿ں پنگینا کے ایک گھر پر دھاوا بولا جہاں آزادی کے متوالوں نے ان کا سواگت (استقبال ) کیا اور ایک میجر سمیت 4 فوجی اہلکار ان کو جہنم کا راستہ دکھاتے ہوئے ان کی ڈیڈ باڈیز کا تحفہ پیش کیا

پلوامہ حملے کے نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے بھارت کا کہنا تھا کہ 1989 سے جاری 32 سالہ موجودہ تحریک آزادی کشمیر میں 14 فروری کو ہونے والا حملہ سب سے بڑا اور سب سے مو¿ثر حملہ تھا جس کی بازگشت بھارت کے طول و عرض میں سنائی دی اور اس کے زخموں کا اثر بھارتی ایوانوں کو بھی ہلا کر رکھ گیا بھارتی حکومت جو طاقت کے نشے میں چور تھی جو نہتے اور کمزور کشمیریوں کو دبانے کے لیے بے دریغانہ فوجی طاقت استعمال کرتی آئی تھی اس نے ان حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر بدلہ لینے کا اعلان کیا یوں بھارت نے 25 اور 26 فروری کی درمیانی رات خاموشی سے پاکستانی علاقے بالاکوٹ پر فضائی حملہ کیا حملہ آور بھارتی طیاروں کو پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرکے بھاگنے پر مجبور کیا تھا مگر بھاگتے بھاگتے حملہ آور طیاروں سے ایک طیارے نے اپنا پے لوڈ بالاکوٹ پر گرایا جس سے پاکستان کے چار درخت ضائع ہوئے جبکہ پہ لوٹ گرائے جانے والی جگہ سے دوسرے دن میڈیا نے ایک کوا مردہ حالت میں دکھایا تھا 26 فروری کو الصبع بھارتی حکمران جماعت کے رکن پارلیمان منوج کوتک نے ٹویٹ کیا کہ ہم نے پلوامہ حملے کا بدلہ لے لیا اور نریندر مودی جی کے گھر میں گھس کر ماریں گے

پالیسی کے مطابق پاکستان کو گھر میں گھس کر تین سو افراد کو مار کر بالاکوٹ میں پاکستان کو سزا دی ہے مگر بعد ازاں بھارت کے اس فضائی حملے میں پاکستان کے کسی بھی طرح کے جانی یا مالی نقصان نہ ہونے کا اعتراف اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کرچکی ہیں اس حملے کے بارے ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حملے میں کوئی پاکستانی فوجی یا سویلین نہیں مارا گیا نہ ہی پاکستان کا کوئی مالی نقصان ہوا جس پر اس وقت پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ “بالآخر بھارتی وزیر خارجہ نے سچ بول دیا “ یہ 27 فروری کی ایک روشن صبح تھی سورج چمک رہا تھا گو موسم خوشگوار تھا مگر پاکستانی عوام کے مزاج برہم تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھارت کی حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان تو نہ ہوا مگر بھارت کی طرف سے حملہ کرنے والے طیاروں کو خیریت سے واپس کیوں کر جانے دیا گیا دوسری طرف بھارت ناکام حملے پر سیخ پا تھا جھوٹ کے گھوڑے پر سوار اور طاقت کے نشے میں سرمست بھارت پلوامہ حملے میں ہونے والے جانی نقصان اور بھارتی عوام کے غیض و غضب سے بچنے اور اپنی خفت مٹانے کے لیے بالاکوٹ پرکی جانے والی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک نامی ناکام حملے کے بعد 27 فروری کو دنیا کے امن کو داو پر لگاتے ہوئے بھارت نے دن کے اجالے میں پاک سرزمین پر حملے کی کوشش کی مگر پاک فضائیہ کے دو شاہین صفت جوانوں نے بھارت کو وہ سرپرائز دیا کہ اس دن کو پاکستانی عوام رہتی دنیا تک سرپرائز ڈے کے طور مناتی جبکہ بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہونے تک یوم ندامت کے طور پر محسوس کرتا رہے گا

جب بھارتی طیاروں نے پاکستانی سرزمین پر حملے کی ناک پاک حرکت کی اور پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے حملہ آور دو طیاروں کو مار گرایا تو اس کے نتیجہ میں ایک طیارے کا ملبہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گرا جبکہ دوسرے تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ آزاد کشمیر کی تحصیل سماہنی کے گاوں
پونا حوڑاں میں گرا جہاں اس طیارے کے پائلٹ ابھی نندن نے بھی پیراشوٹ کے ذریعے تباہ ہوتے طیارے سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی جہاں مقامی لوگوں نے لاتوں گھونسوں سے اس کی خوب خاطر مدارت کی ابھی نندن کے مطابق پاک فوج کے ایک کپٹین اور سپاہیوں نے اسے سیویلین سے بچا کر اپنی تحویل میں لیا یوں 27 فروری کو آپریشن ” سوفٹ ریٹورٹ“ پاکستان کی وہ تاریخی کامیابی تھی جس کے باعث پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا جسے قوم رہتی دنیا تک نہ صرف یاد رکھے گی بلکہ اس دن کو سرپرائز ڈے کی مناسبت سے جہاں دو بھارتی طیاروں کی تباہی بھارت کے گھمنڈ کو خاک میں ملانے اور بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی زندہ گرفتاری کو جشن کے طور پر مناتی رہے گی وہیں ونگ کمانڈر محمد نعمان علی خان اسکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتی رہے گی

پاک فضائیہ کہ یہ دونوں شاہین پوری پاکستانی قوم کا فخرماتھے کا جھومر اور مسلح افواج پاکستان کا سرمایا ہےں ان پر جتنا ناز کیا جائے کم ہے دونوں افسران کو ان کی بہادری پر جہاں ستارہ جرات اور تمغہ شجاعت جیسے اعزازات سے نوازا گیا وہیں ان دونوں نے پاکستان کی دفاعی تاریخ میں اپنا نام سنہری اور انمٹ حروف میں لکھوا دیا ہے یاد رہے کہ ونگ کمانڈر نعمان نے ونگ کمانڈر ابھی نندن کے مگ 21 کو گرایا تھا جبکہ سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی نے بھارت کے ایک دوسرے جنگی جہاز کو نشانہ بنایا تھا جس کا ملبہ مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا تھا یہاں آپ قارئین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ نشان حیدر ہے جس کے بعد ہلال جرات اور تیسرے درجے پر ستارہ جرات کا اعزاز آتا ہے جبکہ تمغہ جرات چوتھا بڑا فوجی اعزاز ہے 23 فروری کو پورا پاکستان مسلح افواج پاکستان کو خراج عقیدت خراج تحسین پیش کر رہا تھا وہی یہ دن اس کے اظہار کا حق تھا کہ دفاعی وطن کے لئے پاکستانی عوام افواج پاکستان کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلح افواج پاکستان حوصلوں بہادری قربانی کی انمٹ تاریخ ہے اور مسلح افواج پاکستان کے جانثار جوان قوم کے ماتھے کا جھومر اور وطن کے درخشاں ستارے ہیں 27 فروری کی مناسبت سے کل پاک فضائیہ نے ان دونوں سپوتوں کو کی جرات و بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے” صدائے پاکستان “ کے نام سے ایک نغمہ جاری کیا ہے جسے ملک کے نامورگلوکار علی حمزہ نے گایاہے جبکہ دوسری طرف معروف پاکستانی کامیڈین ریپر اور گلوکار علی گل پیر نے مسلح افواج پاکستان کی جانب سے انجام دیے گئے کامیاب آپریشن سوفٹ ریٹورٹ کی کامیابی اور بہادری کو بیان کرنے کے لئے چار درخت “کے نام سے ایک گیت جاری کیا ہے اس گانے کو ریلیز کرتے ہوئے گلوکار علی گل پیر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس گانے کی مختصر سی ویڈیو اپلوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ دو سال پہلے بھارت کہ دہشت گرد حملے میں ہمارے چار درختوں کو نقصان پہنچا تھا اس لئے میرے گانے کا نام یا عنوان چار درخت ہے

قارئین کرام 27فروری کو جہاں ملک کے طول و عرض میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے وہی اس دن کو یادگار بنانے کے لیے کراچی میں پائلٹس کو تربیت فراہم کرنے والے ادارے اسکائی ونگز میں ایک منفرد انداز اپناتے ہوئے آپریشن سوفٹ ریٹورٹ کی یاد میں، گرفتار بھارتی سورما ابھی نندن اور پاکستانی ہیرو حسن صدیقی کی تصاویر سیسنا نامی ایک تربیتی طیارے پر پینٹ کروائی اس طیارے پر 1965 کی جنگ کے دوران پانچ بھارتی لڑاکا طیارے زمین بوس کرنے والے قومی ہیرو ایم ایم عالم کی تصاویر بھی طیارے پر پینٹ کی گئی ہے اس کے علاوہ طیارے پر کشمیر کی حسین وادی کے ساتھ پاکستان اور کشمیر کے پرچموں کی عکاسی بھی کی گئی ہے ان تصاویر کے ذریعے جہاں 27فروری اور سن 65 کی پاک بھارت جنگ کے ہیروز کو یاد کیا گیا ہے وہی اقوام متحدہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ابھی حل طلب ہے

27فروری کو پوری قوم نے بلا تخصیص رنگ نسل فرقہ کنبہ قبیلہ یا صوبہ بطور ریاست اور بطور قوم مسلح افواج پاکستان کو ان کی بہادری اور پیشہ وارانہ فرائض کی احسن انداز میں ادائیگی پر خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کی جنگ میں پوری قوم ملک اور مسلح افواج پاکستان کے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں