نقطہ نظر/ افتخار اشرف

سردار عتیق احمد خان عظیم رہنما

سردار عتیق احمد خان آزاد کشمیر کے انتہائی زیرک اورقدآور سیاستدان ہیں ان کا تعلق ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ غازی آباد سے ہے اور ان کے والد محترم مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان مرحوم کی قائدانہ صلاحیتوں ہی کی وجہ سے یہ خطہ جس کو ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں آزاد ہوا۔ مجاہد اول آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے متعد بار صدر اور آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔سردار عتیق احمد خان آزاد کشمیر کے دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ۔

سردار عتیق کا پہلا دور 24 جولائی 2006 سے 6 جنوری 2009 تک رہا ہے۔دوسرا دور 29 جولائی 2010 سے 26 جولائی 2011 ہے۔قائد حزب اختلاف 15 جنوری 2009 سے 22 اکتوبر 2009 تک رہے۔5 مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر رہیسردار عتیق احمد خان وقتا فوقتا پاکستان کی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے اتحادی پلیٹ فارمدفاع پاکستان کونسل کے اسٹیج پر بھی جلوہ گر ہوتے رہے.

انہوں نے اپنے دور حکومت میں کشمیر بینک ، کشمیر ہائی وے اتھارٹی،کشمیر کلچرل اکیڈمی ، سماجی بہبود ٹرسٹ، کشمیر ٹورازم اتھارٹی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ووکیشنل اتھارتی جیسے اہم اداروں کی بنیاد رکھیان جیسی پناہ خوبیوں اور صلاحتوں کی حامل شخصیت آج اس پارلیمان میں موجود نہیں ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے ہے۔ ایسی قدرتِ کلام، ایسا شائستہ لہجہ، غیر معمولی حافظہ۔ اور تاریخ کا گہرا مطالعہ اور کشمیر کی پوری تاریخ اس طرح محفوظ ہے کہ ایک دریا بہتا چلا جاتا ہے۔ اشعار کا انتخاب اور پھر جراتِ اظہار ایسی کہ اسلاف کی یاد تازہ کر دیتی ہے ۔ سردار عتیق احمد خان نے ایسے سیاسی اور مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی جو تحریک آزادی کشمیر کا گڑھ تھا۔

والدین کا مذہب سے گہرا لگائو اور وابستگی تھی سب بھائی دورِ طالبعلمی ہی میں سیاست میں متحرک تھے۔ یہ خود مسلم سٹوڈنٹس کا حوصلہ تھے اور ان کا گھر مجاہدین تحریک ازادی کے نوجوانوں کیلئے پناہ گاہ تھی۔ اس تربیت اور پس منظر کے ساتھ عملی سیاست میں قدم رکھا اور سیاست میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا اسی طرح مسلم کانفرنس کے مشکل کے دنوں میں مسلم کانفرنس کو آزاد کشمیر کی سیاست میں زندہ رکھنے میں ان کا کلیدی کرداررہا ہے ۔موجودہ پارلیمان اکثریتی جماعت نے جس ملکی سیاست کو فروغ دیا صبح وشام تکرار جو متوازن سے متوازن آدمی کو زچ اور اسے ردِ عمل پر مجبور کر دیتی ہے ۔ برسوں کے سیکھے رکھ رکھائو کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمیشہ احترام کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیاآدمی ساغرو پیالہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک حد تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔

سردار عتیق احمد خان کی سنجیدگی اور تربیت پربھی کبھی کبھی ردِ عمل کا غلبہ ہوجاتا۔ امرِ واقعہ یہی ہے کہ پھر کوئی ان کا سامنا نہ کر سکتا۔ ان کے تاریخی حوالوں کے سامنے حکومتی جماعت بے بسی کی تصویر بن جاتی جس کا اظہار بے معنی شورو غوغا سے ہوتا تھا۔سردار عتیق خان عوامی سیاست کیساتھ نظریاتی سیاست کا علم اٹھائے رہے اور اقتدار کی سیاست بھی کرتے رہے۔ انہوں نے کبھی اپنا وقار مجروح نہیں ہونے دیا۔سردار عتیق خان نے تمام سابق مسلم کانفرنس کے قائدین کو مسلم کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی اور سالار جمہوریت سردار سکندر حیات کو نہ صرف جماعت میں شامل کیا بلکہ جماعت کا سپریم ہیڈ بھی بنایا۔ بغیر کسی تردد کے نہ انا کا مسئلہ بنایا نہ کسی ناراضی کا اظہار کیا۔ تاہم سب کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں کامیاب ہوئے۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں بھی وہ اپنی بات کہتے رہے اور اپنے موقف میں کبھی کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سب گواہ ہیں کہ وہ حکومت پاکستان کیطرف سے گلگت اور کشمیر کے بیانیے کی پرزور مذمت کرتے رہے۔ ان کے لہجے میں کوئی ضعف آیا نہ ان کی آواز مدہم ہوئی۔

ان کی شخصیت کا نظری ڈھانچہ بھی وہی رہا جو مجاہد اول کا تھا ریاست کی شناخت بارے وہ ہمیشہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے ۔ ایک دو بار ان سے ریاست کے نظریاتی تشخص پر بات ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس باب میں کسی مفاہمت کے قائل نہیں۔ مجھے ان کی اس خوبی نے متاثر کیا کہ وہ اپنے نظریہ پر شعوری طور پر کاربند ہیں ان کے نزدیک سیاست اقتدار کیلئے نہیں بلکہ ریاست کے تحفظ کیلئے کی جاتی ہے ۔نظریاتی سیاست نے ہماری سیاسی جماعتوں کو جو افرادِ کار دیئے، وہ کردار اور شعور کے اعتبار سے دوسروں سے بہتر ثابت ہوئے۔ انہوں نے سیاست کے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیا یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر نظریاتی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ استقامت اور کردار کا مظاہرہ کیا۔ نظریاتی سیاست کے خاتمے کے بعد سیاسی جماعتیں تربیت کا کوئی متبادل نظام فراہم نہ کر سکیں۔

سیاست میں نمایاں ہونے والے نئے کرداروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اس غفلت کی کتنی بھاری قیمت قوم کو ادا کرنا پڑی۔ ان نوواردانِ سیاست نے ملک کو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔سردار عتیق احمد خان کی طرح کے پختہ کار لوگ اب بہت کم پائے جاتے ہیں ۔ باقی جماعتوں کو وہ تربیت گاہیں میسر نہیں جہاں تعمیرِ کردار ہوتی ہے۔ مسلم کانفرنس کے علاوہ میں نے قوم پرست جماعتوں کو دیکھا کہ ان کے وابستگان کا سیاسی شعور دوسروں سے بہتر ہوتاہے۔ کتاب اور علوم سے کوئی تعلق ہوتا ہے، دیگر تمام قومی جماعتوں میں اس کا فقدان ہے ۔

دیگر جماعتیں سوشل میڈیا کے جتنے رضا کار تیار کر لے، ان سب کوششوں کے باوجود، سردار عتیق احمد خان کا متبادل نہیں لا سکتے۔ سیاسی جماعتوں کو ہر محاذ پر رجالِ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ اس کیلئے برسوں کی ریاضت اور کردار کی بلندی چاہیے۔۔سردار عتیق احمد خان کشمیر کاز کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اپنے وسائل کے زور پر نہیں، نصب العین کے ساتھ اپنی وابستگی کی طاقت سے سیاست میں نمایاں ہوئے۔ یہی لوگ سیاست کی آبرو ہوتے ہیں۔ سیاست کا بھرم ان ہی کے دم سے قائم ہو تا ہے۔ سردار عتیق احمد خان کشمریوں کی ایک مضبوط اواز ہے جو ان لوگوں کو حوصلہ دیتی رہے گی جو شب و روز تحریک آزادی کشمیرکو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں