مکتوب /سید افتخار گیلانی

کون ہیں لاشوں کے سوداگر؟

پچھلی دو دہائیوں کے دوران بھارت اور پاکستان تقریباً تین بار جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے، جن میں 2001ء میں بھارتی پارلیمان پر حملہ، 2008ء میں ممبئی کے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں پر دہشت گردانہ کارروائی اور 2019ء میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی نیم فوجی کانوائے پر خود کش حملہ شامل ہے۔ مگر جو تار ان تینوں واقعات کو جوڑتے ہیں، وہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو انکے بارے میں پیشگی جانکاری تھی۔ آخر ان واقعات کو روکنے کے لئے انہوں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے، جو ہنوز جوا ب کا منتظر ہے۔

پلوامہ حملوں کی دوسری برسی کے موقعہ پر بھارت کے ایک معروف جریدہ فرنٹ لائن نے انکشاف کیا ہے کہ2 جنوری 2019ء سے13 فروری 2019ء تک یعنی حملہ سے ایک د ن قبل تک حکام کو 11 ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن میں واضع طور پر اس حملہ کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ عام انتخابات سے 8ہفتے قبل اس حملے اور اسکے بعد پاکستان کے بالا کوٹ علاقے پر فضائی حملوں نے ایسی جنونی کیفیت پیدا کی کہ جو بھی اس حملہ کے متعلق حقائق جاننا چاہتا تھا، اس کو خاموش کردیاگیا۔ سینئر کانگریسی لیڈراور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجے سنگھ کے مطابق 8فروری کو جب انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے ایک انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیکر سوال کیا ، کہ پیشگی اطلاع کے باوجود یہ حملہ کیسے ہوا ؟ تو ان کے اس ٹویٹ کو ہی بلاک کردیاگیا۔ فرنٹ لائن کے نمائندے آنندوبھکتو نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ خفیہ اطلاعات اتنی واضح تھیں، کہ ان پر ایکشن نہ لینا مجرمانہ زمرے میں ہی آسکتا ہے۔پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور انسپکٹرجنرل آپریشنز کی میز پر 13فروری کو جو رپورٹ پہنچی، اس میںیہ بھی بتایا گیا تھا کہ قومی شاہرا ہ پر آئی ای ڈی بلاسٹ کی تیاریا ں ہو رہی ہیں۔

ایک دوسرے خفیہ ان پٹ میں ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ تحصیل کے نزدیک قومی شاہراہ پر لتھی پورہ کراسنگ کو ہائی رسک علاقہ بتایا گیا۔ یہ وہی کراسنگ ہے ، جہاں اگلے روز یعنی 14فروری کو دوپہر سوا تین بجے ایک خود کش بمبار نے نیم فوجی دستوں کے ایک کانوائے کو نشانہ بنایا ، جس کے نتیجے میں 40اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ تقریبا ًڈھائی ہزار فوجی دستوں پر مشتمل 78گاڑیوں کا کانوائے جموں سے سرینگر آرہا تھا۔ اس اطلاع میں پولیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ قومی شاہراہ کے اس حصے میں سیکورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔

پولیس نے بعد میں ایک نوجوان مدثر احمد خان کو اس حملہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیکر 100گھنٹوں کے بعد ہلاک کرکے شاباش سمیٹی ۔بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی ماہ سے خفیہ ایجنسیوں کے رڈار پر تھا اور اسکی نقل و حرکت نہایت باریکی کے ساتھ مانیٹر کی جا رہی تھی۔ 25جنوری 2019ء کو جلی حروف میں ایک اطلاع حکام کو موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ مدثر اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مڈورہ گائوں میں موجود ہے اور اگلے چند روز میں اونتی پورہ یا پلوامہ کے آس پاس کوئی بڑی کارروائی ہونے والی ہے۔ 7جنوری کی اطلاع ہے کہ چند افراد دیہاتوں میں مقامی نوجوانوں کو آئی ای ڈی، اور دیگر گولہ بارود و اسلحہ استعمال کرنے کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص کی شناخت غیر کشمیر ی کے طور پر کی گئی تھی۔ 18جنوری کی ایک اور اطلاع میں بتایا گیا کہ 20مقامی اور ایک غیر ملکی عسکری پلوامہ اور اسکے گر د نواح میں ایک بڑی کارروائی کرنے والے ہیں۔ 22جنوری کو موصول ان پٹ میں تحریر ہے کہ مدثر اور اسکے ساتھی بڑی کارروائی کرنے والے ہیں۔ اس طرح کی کئی اور اطلاعات 13فروری تک مسلسل حکام کو موصول ہوتی رہی ہیں۔ آخری وارننگ مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشترکہ پلیٹ فارم ملٹی ایجنسی سینٹر یعنی میک پر شیئر کی گئی۔ سوال ہے کہ اتنی واضح پیشگی اطلاعات کے باوجود اس حملہ کو روکنے کیلئے پیش بندی کیوں نہیں کی گئی؟ اگر خفیہ ایجنسیوں کا دعویٰ صحیح ہے کہ مدثر ہی پلوامہ کا ماسٹر مائنڈ تھا، تو اس کے خلاف قبل از وقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ جب کی اس کی نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھی جا رہی تھی۔ حملہ کے چند روزبعد اسکو عبدالرشید غازی کے ساتھ ہلاک کرکے بظاہر تفتیش کی فائل بند کر دی گئی۔

اس خود کش حملہ کے ایک روز قبل جموں و کشمیر پولیس میں خاصا رد و بدل کیا گیا، جس میں اونتی پورہ کے پولیس آفیسر محمد زید کی ٹرانسفر بھی شامل تھی۔کسی کارروائی کے خدشہ کے درمیان پولیس میں رو د بدل کرنا اور اس علاقے کے پولیس انچارج کو عین موقع پر ایسے وقت تبدیل کرنا ، جب و ہ خفیہ اطلاعات کی بنا پر پیش بندیا ں کر رہا تھا، ایک ایسا سوال ہے ، جس کا جواب حکام کیلئے دینا لازمی ہے، کیونکہ اس حملہ کو بنیاد بنا کر پورے ملک پر ایک جنگی جنون طاری کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسری بار قطعی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی اور اسی کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسکو دو حصوں میں تقسیم کیاگیا۔ معروف صحافی اور تھنک ٹینک آبزور ریسرچ فاونڈیشن کے ایک ممبر ستیش مشرا کے بقول’’ 40سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت مودی کیلئے بھگوان کا وردان ثابت ہوگئی،

اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی غبارہ میں دوبارہ ہوا بھر دی، جو زمین کی طرف آرہا تھا ۔‘‘جس وقت پلوامہ میں حملہ ہوا، تو مودی اسوقت اتراکھنڈ صوبہ کی جم کاربٹ نیشنل پارک میں ڈسکوری ٹی وی چینل کے پروگرام Man V/S Wild کے اینکر بیر گریلز کے ساتھ شوٹنگ میں مصروف تھے۔ اس کے فوراً بعد جب وہ فون پر ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے، تو اس میں انہوں نے پلوامہ کا نام تک نہیں لیا، کیونکہ و ہ جانتے تھے، کہ اس کو کب کیش کروانا ہے۔ عام انتخابات سے قبل موخر ادارہ سینٹر فار سوسئیٹل ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے ایک جائزہ میں بتایا گیا تھا کہ 19صوبوں میں مودی مخالف لہر چل رہی ہے۔ اس سے ایک سال قبل 21اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں کے جو ضمنی انتخابات ہوئے، ان میں بی جے پی کو محض دو نشستیں حاصل ہوئی تھیں ۔ ہندو انتہا پسندوں کے گڈھ یعنی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی سیٹ گھورکھپورسے بھی بی جے پی انتخابات ہار گئی تھی۔

اس کے علاوہ پارٹی راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ صوبے گنوا چکی تھی اور مودی کی آبائی ریاست گجرات میں تو کانگریس نے کانٹے کی ٹکر دی تھی۔ ایک اور ادارے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رائٹس کے ایک سروے میں بتایا گیا تھا کہ صرف 3.6فیصد ووٹر دہشت گردی یا پاکستان کو کوئی ایشو مانتے ہیں۔ اکثریت نے معاشی صورت حال، نوکریوں کی فراہمی کو انتخابات کے اہم ایشو قرار دیا تھا۔ مگر گودی میڈیا کے ذریعے پلوامہ اور بالا کوٹ کے واقعات کو لیکر ایک جنگی جنون طاری کردیا گیا۔ نوکریا ں اور معاشی صورت حال پیچھے چلی گئیں۔ووٹروں کو بتایا گیا کہ پاکستان اور کشمیریوں کو سبق سکھانے کیلئے ایک سخت شبہہ والے حکمران کی ضرورت ہے۔ ان حملوں کے فوراً بعد بھارت کی ایما ء پر امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیش محمد کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کروانے پر ایک قرار داد پیش کی، جس کومنظور کیا گیا۔ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار مزید نیچے کی گئی۔

ووٹروں کو بتایا گیا کہ پاکستان اور کشمیریوں کو سبق سکھانے کیلئے ایک سخت شبیہہ والے حکمران کی ضرورت ہے۔ ان حملوں کے فوراً بعد بھارت کی ایما ء پر امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیش محمد کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کروانے پر ایک قرار داد پیش کی، جس کومنظور کیا گیا۔ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار مزید نیچے کی گئی۔ پلوامہ حملوں کے بعد تومشیر امریکی قومی سلامتی جان بولٹن نے تو یہ تک کہہ دیا کہ اپنے دفاع کی خاطر اور جوابی کارروائی کیلئے اگر بھارت بارڈر کراس کرتا ہے، تو وہ اسکی حمایت کریگا۔ یہ ماضی کی اس پا لیسی کے با لکل برعکس تھا، جب ایسے مواقع پر امریکہ کشیدگی کو ہو ا دینے کے بجائے کم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

ہاں ، جب پاکستان نے جوابی کارروائی کرکے ادھم پور میں موجود آرمی کی شمالی کمانڈ کے بالکل پیچھے بم گرائے اور بھارت کا طیارہ گرا کر اس کے پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گرفتار کیا، تو امریکہ نے مداخلت کرواکے اس کو فوراً رہا کرواکے انتخابات سے قبل مودی کیلئے راستی ہموار کیا، شدید دبائوکوکم کروانے میں مدد دی۔ انسانی سانحہ کو موقع میں تبدیل کرنے کا فن وزیراعظم مودی کیلئے نیا نہیں ہے۔2002ء میں پہلی بار بطور وزیر اعلیٰ گجرات میں اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے سے قبل جب دو نامعلوم افراد نے سوامی نارائن فرقہ کی عبادت گاہ اکثر دھام پر احمد آباد میں دھاوا بول کر 32 افراد کو ہلاک کیا، تو انہوں نے انتخابی مہم میں اسکا بھر پور استعمال کرکے پوری ریاست پر ایک جنون طا ری کرکے اس کیلئے پاکستان کے اسوقت کے صدر پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا کس نے اور کس کی ایما پر یہ حملہ کیا گیا تھا۔ جب ہر طرف سے اس کیس کی تفتیش کے حوالے سے لعن و طعن ہو رہی تھی، تو گجرات پولیس کی کرائم برانچ نے ایک سال بعد جمعیت علما ء ہند کے ایک سرکردہ کارکن مفتی عبدا لقیوم منصوری اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کرکے اس کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان کو نچلی عدالت نے موت کی سزا بھی سنائی جس کو گجرات ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

مگر 2014ء میں سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو رد کرکے 11 سال بعد سبھی افراد کو باعزت بری کرنے کے احکامات صادر کئے۔مفتی صاحب نے اپنی کتاب میں دردناک واقعات کی تفصیل دی ہے، کہ کس طرح ان کو اکشر دھام مندر کے دہشت گردانہ واقعہ میں فریم کیا گیا۔ سخت جسمانی اور روحانی تشدد کے بعد ان کو بتایا گیا کہ وہ باہمی مشورہ اور بات چیت سے اس واقعہ میں اپنا کردار طے کریں، بلکہ مختلف مقدمات میں سے انتخاب کا بھی حق دیا گیا، کہ وہ گو دھرا ٹرین سانحہ، سابق ریاستی وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل، یا اکشر دھام میں سے کسی ایک کیس کا انتخاب کریں ، جس میں انہیں فریم کیا جائے۔ نہ ہی نچلی عدالت اور نہ ہی ہائی کورٹ نے یہ جاننے کی کوشش کی ، کہ جب خود پولیس کے بقول حملہ آوروں کی لاشیں خون اور کیچڑ میں لت پت تھیں، اور ان کے بدن گولیوں سے چھلنی تھے اور ان حملہ آوروںکے جسموں میں 46 گولیوں کے نشانات تھے، تووہ خطوط کیونکر صاف و شفاف تھے ، جو ان حملہ آورں کی جیبوں سے برآمد ہو گئے تھے

اور جن کے بقول مفتی صاحب اس حملہ کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ ۔ مفتی صاحب کے بقول ان سے یہ خطوط تین دن تک پولیس کسٹڈی میں لکھوائے گئے تھے۔ اسی طرح 2001ء میں پارلیمنٹ حملہ کے ملزم افضل گورو نے کورٹ کو بتایا کہ حملہ کرنے والے چار افراد کو وہ پولیس کے ڈپٹی سپریڈنٹ دیوندر سنگھ کے حکم پر دہلی لے کر آیا تھا۔ ہونا تو چاہئے تھا کہ سنگھ کو سمن بھیجے جاتے اور اسکو تفتیش میں شامل کیا جاتا۔ مگر عدالت نے گورو کابیان اس حد تک ریکارڈ کیا کہ وہ ان حملہ آوروں کو سوپور سے ٹرک میں دہلی لے آیا، مگر بعد کا بیان حذف کرکے اس کو موت کی سزا سنائی۔

دیوندر سنگھ کا نام نہ صرف 2001ء میں بھارتی پارلیمان پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں آیا تھا، بلکہ جولائی 2005ء میں دہلی سے متصل گڑ گائوں میں دہلی پولیس نے ایک ا نکاونٹر کے بعد چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے پاس ایک پستول اور ایک وائر لیس سیٹ برآمد ہوا۔ گرفتار شدہ افراد نے دہلی پولیس کو ایک خط دکھایا ، جو جموں و کشمیر سی آئی ڈی محکمہ میں ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے لکھا تھا، جس میں متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ان افراد کو ہتھیار اور وائر لیس کے ساتھ گزرنے کیلئے محفوظ راہداری دی جائے۔

دہلی پولیس نے سرینگر جاکر دیوندر سنگھ سے اس خط کی تصدیق مانگی اور ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مارا، جہاں سے انہوں نے اے کے رائفل اور ایمونیشن برآمد کیا۔ یہ سب دہلی کی ایک عدالت میں دائر چارج شیٹ میں درج ہے۔ اسی طرح 1995ء میں جنوبی کشمیر میں مغربی ممالک کے پانچ سیاحوں کو جب ایک غیر معروف تنظیم الفاران نے اغوا کیا، تو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ان کے ٹھکانوں کے بارے میں پوری معلومات تھی۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے طیارے مسلسل ان کی تصویریں لے رہے تھے۔ مگر ان کو ہدایت تھی، کہ سیاحوں کو چھڑانے کا کوئی آپریشن نہ کیا جائے، بلکہ اس کو طول دیا جائے۔ بعد میں ان سیاحوں کو بھارتی آرمی کی راشٹریہ رائفلز نے اپنی تحویل میں لے لیا۔مگر بازیابی کا اعلان کرنے کے بجائے ان کو موت کی نیند سلادیاگیا۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں