ڈائیلاگ / ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم

آزاد کشمیر: انتخابی ہلچل کا آغاز

کرونا کی تباہ کن صورتحال کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں سیاسی آلودگی اور انتخابی ہلچل کا آغاز ہو چکا ہے۔ کئی فصلی بٹیرے اور خود غرض سیاسی پرندے انتخابات کی آمد سے قبل اپنے مفاداتی گھونسلے بدلنا شروع ہو گئے ہیں۔ جس کا سب سے زیادہ نقصان حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس کو ہونے کا احتمال ہے۔ تاہم کچھ سیاسی جماعتیں بہتر حکمت عملی سے خود کو بچانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ سیاسی بھل صفائی کے ماحول میں جو جماعتیں اچھے امیدواروں کو میدان میں اتاریں گی ان کا پلڑہ بھاری رہے گا۔

آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کے قیام کے محرک، بانی اور سنیر بزرگ سیاستدان سردار سکندر حیات خان نے اپنی بنائی ہوئی پارٹی کو داغ مفارقت دے کر مسلم کانفرنس میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے انکے فرزند سردار فاروق سکندر وزارت سے مستعفی ہو چکے ہیں، تاہم ایک بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ سردار سکندر حیات اور سردار عتیق کا زیادہ دیر اکٹھا رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ کیونکہ دونوں بڑوں کا ایک دوسرے کو برداشت کرنا محال ہے دونوں انتقام کی آگ میں جلنے کی مہلک بیماری میں مبتلا ہیں ۔ سردار سکندر حیات نے حسب عادت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ لگتا ہے الیکشن کے دوران بھی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف ہی رہے گا۔

دوسری طرف مسلم کانفرنس اور دیگر جماعتوں کے اہم رہنما اور سردار عتیق کے لاڈلے رہنما بھی اپنی پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں تاہم سردار سکندر کے چند خیر خواہ لوگ مسلم کانفرنس کا رخ کر رہے ہیں۔دیکھا جائے تو الیکشن کے آغاز ہی میں تحریک انصاف کو بہت بڑی کمک ملنا شروع ہو چکی ہے۔ اگر پارٹی چئرمین اور وزیر اعظم عمران خان آزادکشمیر میں اپنی پارٹی میں گروپنگ اور تقسیم کے گمان کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر تحریک انصاف کسی انتخابی اتحاد کے بغیر میدان میں اترنے کے قابل ہو سکتی ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں کئی اہم سیاسی پرندے تحریک انصاف کی طرف پرواز کرنے والے ہیں ان میں مسلم لیگ ن اور باقی جماعتوں کے الیکٹرول کی شمولیت کی خبریں گرم ہیں۔ ویسے بھی حکمرانی کے دوران پارٹیاں کمزور اور برادری ازم و مفادات زیادہ مقوی ہونے سے عوام کی توقعات معدوم اور روش تبدیل ہو جاتی ہے۔ راجہ فاروق حیدر کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور برادری ازم کے طعنے دئے جا رہے ہیں کئی بڑی برادریاں ناراض ہو چکی ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اب تو راجپوتوں کے سرخیل سردار سکندر حیات بھی انہیں آلو داع کہہ چکے ہیں۔

آزاد کشمیر کے نوجوان تبدیلی کی خواہش لے کر تیزی سے تحریک انصاف کی طرف لپک رہے ہیں اور لگتا ہے کہ پاکستان کی طرح وہ بھی تبدیلی کا طوفان لے کر میدان میں اتر نے والے ہیں۔وادی نیلم سے ممتاز روحانی اور سماجی شخصیت اور نوجوان رہنما میاں محمد شفیق چند روز قبل اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں اس خاندان کے ساتھ میرا تعلق ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ برصغیر کے نامور روحانی پیشوا حضرت میاں برکت اللہ جھاگوی رح کے پوتے اور ممتاز روحانی شخصیت میاں محمد شفیع باجی رح کے فرزند میاں محمد شفیق برطانیہ سے اعلی تعلیم یافتہ اور نوجوانوں میں مقبولیت رکھتے ہیں انکی تحریک انصاف میں شمولیت کی تقریب میں مجھے بھی انکے ساتھ تحریک انصاف کے سیکرٹیریٹ میں جانے کا اتفاق ہوا۔

چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان، صدر تحریک انصاف اے جے کے اور سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی سردار تنویر الیاس اور کئی اہم رہنما بھی وہاں موجود تھے ان سے گپ شپ میں ایسے لگا کہ تحریک انصاف انتخابات میں کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بغیر میدان میں اترنے کی حکمت عملی طے کر چکی ہے۔ اگر ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کا رجحان مرکز میں حکومت والی پارٹی کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ ویسے تو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم کانفرنس، جے کے پی پی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی زور آزمائی کے لئے پوری تیاری کر چکی ہیں تاہم الیکشن میں وہئی جماعت سبقت لے سکتی ہے جو ٹکٹوں کی تقسیم میں اچھے فیصلے کرے گی۔ تاہم تحریک انصاف کے ذمہ داروں کے امتحان کا وقت ہے اگر وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے سب مل کر اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو گئے تو وہ انتخابی معرکے میں زیادہ بہتر نتائج دے سکیں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران محض الزامات کی سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کی بھلائی اور فلاح کے ایجنڈے کو سامنے رکھا جائے اور مضبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کی جائے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے سیاستدان گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کے خلاف زبانیں بند کر کے اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے کشمیر ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں