پاک بھارت بیک ڈور رابطوں اور کشمیر کمیٹی کے موقف پر کشمیری ناراض . مقبوضہ کشمیر کے میڈیا نے بھی اہم انکشاف کردیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، خواجہ کاشف میر) بزرگ کشمیری حریت رہنماء سید علی گیلانی کی طرف سے سیز فائر لائن معاہدے کی تجدید پر تحفظات کے اظہار میں لکھے گئے خط کے جواب میں قومی کشمیر کمیٹی کی طرف سے انتہائی سخت رد عمل سامنے آنے پر آزادکشمیر کے وزیر اعظم سمیت کشمیریوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے معروف اخبار روزنامہ اڑان کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات جلد ہی مکمل بحال ہو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق 25 فروری کو پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے اور ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ پاکستان اور بھارت کی فوج کے ڈی جی ایم اوز کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک اچھے ماحول میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سرحدوں پر پائیدار امن کے لیے ڈی جی ایم اوز نے ایک دوسرے کے خدشات، جو پُرتشدد واقعات کا باعث بنتے ہیں، کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا ، دونوں جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے تمام سیکٹرز پر فائر بندی کے حوالے سے تمام معاہدوں اور سمجھوتوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہاٹ لائن رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور بارڈر فلیگ میٹنگز کے ذریعے ہر قسم کی غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔ 28 فروری کو سید علی گیلانی کے پاکستان میں مقیم خصوصی نمائندے نے سیز فائز لائن معاہدے کی تجدید بارے سید علی گیلانی کی طرف سے ایک خط جاری کیا۔ خط میں اٹھائے جانے والے سوالات میں کہا گیا تھا کہ کیا ڈی جی ایم اوز کے اس معاہدے سے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی طرف سے جو خون کی ہولی کھلی جا رہی ہے وہ کیا رک جائے گی؟ اور اس دو طرفہ معاہدے کے ذریعے کیا امن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ 5 اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے مقوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد پاکستان کی طرف سے مسلسل یہ کہا جاتا رہا کہ جب تک بھارت اپنے ان اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹ جاتا اور خصوصی حیثیت بحال نہیں ہو جاتی تب تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کا سفارتی تعلق نہیں رکھا جائے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے بیک ڈور رابطے بحال کیے ہوئے ہیں اور ابھی ڈی جی ایم اوز کا حالیہ نیا معاہدہ انہیں رابطوں کا نتیجہ ہے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ پالیسی میں یہ تضاد کیوں ہے؟ ڈی جی ایم اوز کے مشترکہ بیان میں دو ممالک کی رضہ مندی شامل کی گئی، اس معاہدے میں جموں کشمیر تنازعے کا ذکر نہیں اور نہ ہی اس تنازعے کے اصل فریق یعنی کشمیریوں کو مشاورت میں کہیں شامل نہیں کیا گیا۔ معاہدے میں 5 اگست 2019ء کو بھارت کی طرف سے یکطرفہ طور پر کشمیری اسٹیٹس ختم کرنے کا ذکر موجود نہیں ہے۔ شملہ معاہدے کے وقت بھی ایسا ہی دو طرفہ اقدام کیا گیا تھا۔ سید علی گیلانی کے خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ کیا اس دو طرفہ معاہدے کے بعد سیز فائر لائن پر امن کے علاقہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم رک جائے گا؟کیا بھارتی ریاستی دہشت گردی سے کشمیریوں کا بچایا جا سکے گا۔

یہ معاہدہ کشمیریوں کی خواہشات کی کسی طور پر ترجمانی نہیں کرتا۔ عبداللہ گیلانی کی طرف سے ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے اس خط کو قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ” کوئی بھی کبھی بھی کشمیر کاز کے ساتھ غداری نہیں کرسکتا۔ جنگ بندی کا معاہدہ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف میں بسنے والے کشمیریوں کو تحفظ دلانے میں مدد گار ہو گا۔جو کوئی بھی اسے فروخت کی نشانی قرار دے گا وہ صرف ہندوتوا حکومت کی خدمت کرے گا۔” میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے اس وقت سربراہ رکن قومی اسمبلیی شہریار خان آفریدی ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر آفیشل آکاونٹ کے ذریعے ایسا موقف جاری نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کمیٹی کے آفیشل اکاونٹ سے سید علی گیلانی کو اس طرز کا سخت رد عمل جار ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری کمیونٹی نے پارلیمانی کمشیر کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جبکہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کشمیر کمیٹی نابلد اورکشمیر کے حوالہ سے نااہل ہیں ،سید علی گیلانی کے حوالہ سے چیئرمین کشمیر کمیٹی نے جو بیان دیا اس پر انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، کشمیر کمیٹی والے بیان دے کر عمر عبداللہ، فاروق عبداللہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں، میں اس بیان کی مذمت کرتا ہوں۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر سے شائع ہونے والے معروف اخبار اڑان نے یہ خبر سامنے لائی ہے کہ ڈی جی ایم اوز کے معاہدے اور مشترکہ بیان کے بعد اب اسلام آباد اور دہلی کے درمیان سفارتی روابط بحال ہونے کا امکان ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ فروری 2019ء میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت نے اپنے ہائی کمشنر واپس بلا لیے تھے ، اس وقت سے نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنر موجود نہیں ہیں بلک سفاتخانوں کا کام ڈپٹی ہائی کمشنر سنبھالے ہوئے ہیں ۔ اب ایسے آثار نمودار ہورہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اپنے اپنے ہائی کمشنروں کو اسلام آباد اور دہلی میں میں تعینات کر کے سفارتی روابط فعال و مستحکم بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس سے قبل سال 2002 میں آپریشن مشن کے دوران دونوں ممالک نے اپن ہائی کمشنرز کو واپس بلا لیا تھا

۔پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان 2003 میں جنگ بندی معاہدہ ہوا، اس کے ایک سال بعد اٹل بہاری واجپائی سارک سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے پر آئے تھے اور پھر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی بہتر ہوئے اور کشمیر سمیت کئی باہمی تنازعات ع معاملات کو سلجھانے کیلئے دونوں ممالک نے کافی حد تک راہ ہموار کر لی تھی لیکن 2004 کے انتخابات میں کانگریس کی حکومت بنی اور من موہن سنگھ وزیر اعظم بنے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سرد ہوگئے۔ تاہم مشرف واجپائی پہل کی طرح کچھ ایسا ہی اس بار ہو سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق رواں سال کے اختتام پر اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سارک سربراہی اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم کا شرکت کرنا مشکل لگتا ہے تاہم آنے والے وقتوں میں تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

اڑان کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ انڈین ایکسپریس اخبار یہ دعویٰ پہلے ہی کر چکا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں پاکستان کی سول اور آرمی قیادت کے ساتھ این ایس اے اجیت ڈوھال پردے کے پیچھے بات چیت کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے اہم لوگوں کے درمیان کسی تیسرے ملک میں مستقبل میں ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈی جی ایم اوز کے معاہدے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ وجے شنکر چینی ہم منصب س ایک گھنٹہ فون پر بات چیت بھی کر چکے ہیں اور چین اور بھارت کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطے کی یقین دہانی بھی کرائی جا چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا یہ نیا معاہدہ امریکہ کے دباو پر نہیں بلکہ چین، پاکستان اور بھارت کے درمیان آپسی رابطہ کاری کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں