عورت مارچ اور اسلام میں نسوانی حقوق

گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں “عورت مارچ” کے نام سے خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے ایک دن منانے کے سلسلے کا آغاز ہوا ہے ۔ ہر سال مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی عورت مارچ کا شور ہر طرف سنائی دینے لگتا ہے ۔ 8 مارچ کو ہر سال منعقد ہونے والے عورت مارچ کے حق اور مخالفت میں لبرل اور دینی طبقات کی ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہو جاتی ہے ۔ عورتوں کے حقوق کے لیے ہر دور میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور خواتین میں ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے طریقہ کار میں اچانک ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

جہاں اکثر خواتین اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہوئے نظر آئیں وہیں لبرل خواتین کی ایک قابلِ ذکر تعداد حد سے زیادہ با اختیار ہونے کی خواہش کا اظہار کرتی ہوئی بھی نظر آئی ۔ دین اسلام سے عاری اس گروہ کے خلاف عوامی ردعمل اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ان لبرل خواتین نے اخلاقیات سے عاری پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھا کر مارچ کیا جس کے باعث عوام میں اس عورت مارچ کے خلاف شدید غم و غصّہ پیدا ہوا ۔ “میرا جسم ، میری مرضی” جیسے غیر اخلاقی اور محدود نعرے کے باعث عورتوں پر ہونے والے حقیقی مظالم کہیں غائب ہی ہو کر رہ گئے ۔

نا پختہ نعروں اور غیر اخلاقی پوسٹرز کا شور ایسا مچا کہ عورتوں کے اصلی حقوق ، جن کی وہ حق دار ہیں اور یہ حقوق سلب کئے جا رہے ہیں ، کے لیے بھرپور آواز نہ بلند کی جا سکی ۔ عورت مارچ کے نام سے چلائی جانے والی مہم کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے ۔ جن حقوق کے لیے ہر سال خواتین مارچ کیا جاتا ہے وہ تمام حقوق دین اسلام آج سے کئی سو سال پہلے عورت کو با عزت طریقے سے عطا کر چکا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے عورت کو اس سے زیادہ کیا اختیار دینا ہے کہ نئی نسل پیدا کرنے اور اس نسل کی تربیت کا اختیار عورت کے پاس ہے ۔ اب یہ انسانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ عورتوں کو اسلام کی جانب سے دئیے گئے تمام حقوق کی پاسداری کرے ۔

انسان کا جسم خدا تعالیٰ کا تخلیق کردہ ہے ۔ یہ انسانی جسم نمود و نمائش یا کسی کھلونے کا نام نہیں بلکہ اخلاقی ، شعوری اور عقلی وجود رکھتا ہے ۔ عورت شرم و حیا اور وفا کا ایک انمول پیکر ہے ۔ محبت کا یہ پیکر ماں ، بہن ، بیٹی اور بہو کی صورت میں انسانی معاشرے کو قائم و دائم رکھے ہوئے ہے ۔ ان رشتوں کی تذلیل زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتی تھی جس کا خاتمہ دین اسلام نے کیا ۔ اسلام نے باپ ، بھائی ، بیٹے اور شوہر کی صورت میں ایک مرد کو عورت کا محافظ بنایا اور آج لبرل خواتین کا ایک گروہ اسی مرد سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عورت مارچ کر رہا ہے ۔ اور اسی عورت مارچ میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے نظر آنے والے مرد خواتین کے حقوق کس قدر پورے کر رہے ہیں ، یہ وہی بہتر جانتے ہیں ۔ المختصر ، عورت مارچ کے نام پر ہونے والے عورتوں اور مردوں کے اس مخلوط مارچ کے اصل مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے ۔

آئیے ! خواتین کے ان اصل اور حقیقی مسائل کا جائزہ لیتے ہیں جن کا حل ہونا خواتین کا بنیادی حق ہے ۔آج کے انسانی معاشرے کے اکثر گھروں میں بیٹی کے پیدا ہونے کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے زحمت سمجھا جاتا ہے ۔ وہ بیٹی جسے اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت بنا کر بھیجا اسے زحمت سمجھنے کا حق انسان کو کسی صورت بھی حاصل نہیں ہے ۔ بیٹی کی پیدائش پر ناگواری کے اظہار کی اصل وجہ عورت کا وراثت میں حصہ ہے جس کا حق اسلام نے عورت کو دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو اس کا وراثتی حق کوئی بھی دینے کو تیار نہیں ہے ۔ بیٹی کو شادی کے بعد قانونی اور عدالتی جنگ کے بعد اپنا حق مل پاتا ہے ۔

وراثت میں حصہ مانگنے والی عورت کو خاندان کی ناراضگی سے لے کر قطع تعلقی تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس طرح کے مسائل عورتوں کے حقیقی مسائل ہیں جو عورت مارچ کے غیر اخلاقی نعروں کے پیچھے چھپ کر رہ گئے ہیں ۔ عورتوں کو عورت مارچ کرنا ہی ہے تو پلے کارڈز پر “میرا جسم ، میری مرضی” کے بجائے ” وراثت میں عورت کو شرعی حق دو ” تحریر کریں ۔تعلیم حاصل کرنے کا حق عورتوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ مردوں کا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کے بجائے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔ خواتین اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے آواز بلند کریں اور پلے کارڈز پر غیر اخلاقی نعروں کے بجائے ” اعلیٰ تعلیم مرد کے ساتھ ساتھ عورت کا بھی حق ہے ” تحریر کریں ۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں ملازمت کے اعتبار سے بھی عورت تفریق کا شکار ہے ۔ عورتوں کے گھر سے نکل کر ملازمت کرنے کو بھی اکثر لوگ معیوب سمجھتے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شرعی پردہ میں رہ کر ملازمت کرنا ہر عورت کا حق ہے جو اسے دیا جانا چاہیے ۔ لیکن عورت مارچ میں خواتین کے لباس دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لبرل خواتین کا یہ گروہ کس قسم کی آزادی مانگ رہا ہے ۔ اپنے لئے اپنی پسند کے جیون ساتھی کا اتنخاب ہر عورت کا حق ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہوئے بیٹی کی مرضی پوچھی جائے ۔ بیٹی پر کسی مرد کو مسلط نہ کیا جائے ۔ اپنی مرضی سے شادی کا حق اسلام نے ہر عورت کو دیا ہے لیکن اس بات کی اجازت کسی مرد اور عورت کو نہیں دی گئی کہ جنس مخالف سے ناجائز تعلقات قائم کئے جائیں ۔

پاکستان میں اس وقت گھریلو تشدد ، وٹہ سٹہ ، بلیک میلنگ اور جنسی زیادتی عروج پر ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خواتین کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں ۔ عورتوں کا اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا وقت کا تقاضا ہے ۔ خواتین کا اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا بھی بعض لوگوں کو گوارہ نہیں ۔ اسلام نے عورت کو بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا اتنا ہی حق دیا ہے جتنا کہ ایک مرد کو حاصل ہے ۔ عورتوں کو اپنے مذہبی اور اخلاقی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پوری اجازت ہے لیکن چند لبرل لوگوں کے جھانسے میں آ کر اسلامی تعلیمات کو بھول جانا اور پھر انتہائی غیر مناسب نعروں کے ذریعے اپنا حق مانگنا کسی صورت درست نہیں ہے ۔
عورتوں کے اصل محافظ ان کے باپ ، شوہر ، بھائی اور بیٹے ہیں ۔ ان رشتوں کے علاوہ اگر عورت کسی کو اپنا محافظ سمجھتی ہے تو یہ اس کی غلطی اور بھول ہے ۔ اسی طرح سے اسلام نے مرد کو عورت کا حاکم بنایا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مرد کا آدھا ایمان اس کی بیوی کو قرار دیا گیا ہے ۔ انسانی معاشرہ مرد اور عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے ۔ عورتوں کو با اختیار کر کے اور ان کے حقوق کی پاسداری کر کے ہی معاشرے میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں