ڈسکہ الیکشن کے آفٹر شاکس۔۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سیالکوٹ بھی معطل

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے دوران فرائض میں غفلت برتنے اور الیکشن کمیشن کی سفارش کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو معطل کردیا ہے۔ ڈسکہ این اے 75 کے ضمنی انتخاب کے آفٹر شاکس تاحال جاری ہیں۔

الیکشن کمیشن کی سفارش پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سیالکوٹ کو معطل کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈسکہ الیکشن میں بے ضابطگیوں ،ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد الیکشن کمیشن نے انتخاب کو معطل کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے غفلت برتنے پر انتظامیہ کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی اور چیف سیکریٹری جواد رفیق ملک کو انتخابات میں غفلت برتنے پر طلب کیا تھا۔

اس کے ساتھ کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ذیشان جاوید لاشاری، ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسد علوی، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ آصف حسین اور ڈسکہ و سمبڑیال کے ڈی ایس پیز کو معطل کیا جائے اور انہیں کسی الیکشن ڈیوٹی پر مامور نہیں کیا جائے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو ان کے موجودہ عہدوں سے تبدیل کرکے گوجرانوالہ ڈویژن سے باہر بھیجنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

جس پر 27 فروری کو صوبائی حکومت نے ڈسکہ کے اسسٹنٹ کمشنر آصف حسین مہدی، سمبڑیال کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) ذوالفقار علی ورک اور ڈی ایس پی ڈسکہ محمد رمضان کمبوہ کو معطل کردیا تھا۔

بعدازاں یکم مارچ کو پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ریاض نذیر گارا اور ڈویژنل کمشنر گلزار حسین شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھاجس کے بعد 4 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ 19 کے افسران، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ذیشان جاوید لاشاری اور پولیس سروس آف پاکستان کے حسن اسد علوی کو ان کے عہدے سے معطل کردیا۔

الیکشن کمیشن نے یہ دیکھنے کے بعد کہ کچھ پریزائیڈنگ افسران نے نتائج میں ردو بدل کئے، 25 فروری کو ڈسکہ میں ہوا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ ن لیگ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 میں ہوئے ضمنی انتخاب کے دوران 20 پریذائڈنگ افسران اور عملے کے دیگر ارکان کواغوا کرنے اور نتائج میں دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جس میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں