لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کر لی

لاہور(سٹیٹ ویوز) لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی درخواست ضمانت متفطہ طور پر منظور کی۔

شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ نے ہماری بے گناہی کی گواہی دی ہے، سلیکٹڈ حکمران نے قوم کے تین سال کیوں ضائع کیے، ملک میں صرف انتقام اور بربادی کی گئی۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکمران نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، تین سالوں میں ملک کی معیشت بدنام ہوئی اور صرف انتقام کی سیاست کی گئی، آج انتقام کی سیاست زمین بوس ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی سلیکٹڈ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں، نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان آگے بڑھے گا۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کروائے جائیں، تمام مسائل کا واحد حل فری فیئر الیکشن ہے، عوام کے ووٹ سے حکومت بنے۔

گزشتہ دنوں شہباز شریف کے وکیل اعظم تارڑ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے جس کے بعد آج پراسیکیوٹر نیب فیصل بخاری نے دلائل دیتے ہوئے شہباز شریف کی ضمانت کی مخالفت کی۔

نیب وکیل نے کہا کہ وراثت میں رمضان شوگر مل شہباز شریف خاندان اور چوہدری شوگر مل نواز شریف خاندان کو ملی، 1990 سے قبل شہباز شریف خاندان کے اثاثے ایک کروڑ 65 لاکھ روپے تھے۔

نیب وکیل کے مطابق 2018 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 7 ارب 32 کروڑ پر پہنچ گئے، ان کے 9 بے نامی دار ہیں جن کے نام پر بھی اثاثے بنائے گئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف صاحب کہتے ہیں انہیں 12 کروڑ 40 لاکھ روپے منافع آیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کاروبار کون سا تھا، حمزہ اور سلمان شہباز کو جو ٹی ٹیز آتی تھیں وہ یہ اپنی والدہ کو دیتے تھے، ٹی ٹیز کے علاوہ ان کی والدہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف فیملی کا ایک طریقہ کار تھا، یہ جس دوران حکومت میں ہوتے تھے اس وقت ٹی ٹیز نہیں آتی تھی، مثال کے طور شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں پبلک آفس کے دوران کوئی ٹی ٹی نہیں آئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نصرت شہباز کے 29 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثہ جات ہیں، ان کے اکاؤنٹ میں 26 ٹی ٹیز بھجوائی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 13کروڑ 70 لاکھ روپے ہے، 96 ایچ گھر اور 87 ایچ گھر ٹی ٹی کی رقم سے خریدا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان گھروں کو وزیراعلیٰ کا کیمپ آفس بنا کر ساڑھے پانچ کروڑ روپے تزئین و آرائش پر لگائے گئے، جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان تمام دلائل کا اس سے تعلق نہیں ہے۔

پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ نصرت شہباز نے ٹی ٹیز سے کمپنی بنائی جس کی ڈائریکٹر بنیں، جس پر عدالت نے انہیں کہا کہ یہ تو آپ بے نامی دار کا بتا رہے ہیں شہباز شریف کا بتائیں۔

جس پر نیب وکیل نے کہا کہ سلمان شہباز نے 2003 میں اپنے 19 لاکھ کے شئیر ڈیکلیئر کیے، جو بھی اثاثے بنے 2005 کے بعد بنے جب ٹی ٹیز آنا شروع ہوئیں، پاپڑ والے کے اکاؤنٹ میں 14 لاکھ ڈالر بھیجے گئے، اسی طرح محبوب علی کو 10 لاکھ ڈالر آئے جس کا پاسپورٹ ہی نہیں بنا۔

نیب وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران کے اکاؤنٹ میں 10 ٹی ٹیز بھیجی گئیں، شہباز شریف کے شریک ملزم طاہر نقوی اشتہاری ہیں ان کے اکاؤنٹ میں بھی لاکھوں کی ٹی ٹیز آئیں، طاہر نقوی ٹی ٹیز کی ساری رقم سلمان شہباز کو دیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے پورے خاندان نے ٹی ٹیز وصولی کیں، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں پیسے آتے رہے جنہیں ہارون یوسف آپریٹ کر رہا تھا اور ان سب کا تعلق کہیں نہ کہیں شہباز شریف سے تھا۔

نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس میں شریک ملزمان کی ضمانت ہوئی ہے شہباز شریف تو مرکزی ملزم ہیں، عدالت شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست خارج کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں