وے وارڈ کمپنی کے غیر قانونی کاموں پر حکومتی اداروں کی کاروائی قابل ستائش، معاونین کو بھی بے نقاب کیا جائے، سول سوسائٹی

مظفرآباد( سٹیٹ ویوز)دارلحکومت مظفرآباد کی سول سوسائیٹی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بابر تاج کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، وے وارڈ فیکٹری اور اس کے مالک کی مبینہ طور پر پشت پناہی کرنے والے ان لینڈ ریونیو افسران کیخلاف کارروائی کا آغاز کردیاگیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو ایکسائز خواجہ محمد خالد کو عہدے سے ہٹا دیا گیاہے۔ دیگر افسران کا ریکارڈ بھی تحقیقاتی اداروں نے منگوالیا۔بابر تاج کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے‘مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع۔تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد روانی کے مقام پر قائم جعلی فیکٹری سے عرصہ دراز سے دیگر رجسٹرڈ کمپنیوں کے ٹریڈ مارک استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر دونمبر سیگریٹ تیار کرکے مارکیٹوں میں سپلائی کئے جارہے تھے۔

فیکٹری کے مالک بابر تاج کو سیاسی شخصیات‘بیوروکریٹس اور ان لینڈ ریونیو کے افسران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چند روز قبل فیکٹری پر چھاپہ پڑا جس دوران جعلی سیگریٹس کے ثبوت مل گئے اور فیکٹری میں موجود عملہ نے خود ہی تیار شدہ سیگریٹس کی بھاری کھیپ کو ثبوت مٹانے کیلئے آگ لگا دی۔ اس سے قبل جعلی سیگریٹو ں کے کئی ٹرک پکڑے گئے۔جن کے حوالے سے محکمہ ان لینڈ ریونیوکے کمشنر سردار ظفر‘ ڈپٹی کمشنر کرامت شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر خواجہ محمد خالد نے کلین چٹ دی کہ یہ سیگریٹ وے وارڈ فیکٹری کے نہیں ہیں۔ ان سیگریٹس کے وے وارڈ فیکٹری میں تیاری کے مصدقہ ثبوت مل چکے ہیں۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سید آصف شاہ نے جعلی سیگریٹ فیکٹری وے وارڈ کی مبینہ پشت پناہی کرنے اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد کی سرپرستی کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو ایکسائز خواجہ محمد خالد کو فوری طور پر عہدے سے ہٹادیاہے اور ان کی جگہ محمد تحسین خان کو تعینات کردیا ہے۔

خواجہ خالد کیخلاف محکمانہ طور پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ادھر وے وارڈ فیکٹر ی کے مالک جن کیخلاف متعدد ایف آئی آر موجود ہیں ان کی اوران کے ہمنواؤں کی گرفتار ی کیلئے بھی پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ملزمان بااثر ہونے کے باعث قانون کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔ علاوہ ازیں فیکٹری پر چھاپہ کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں چیف سیکرٹری‘آئی جی پولیس‘ چیئرمین سی بی آر اور مظفرآباد ضلعی انتظامیہ افسران سمیت ان لینڈ ریونیو کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ حکومت رٹ کو ہر صورت بحال رکھا جائے گا۔جرائم پیشہ افراد کیخلاف گھیرا مزید تنگ کرنیکا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ عوامی حلقوں اورسول سوسائٹی نے چیئرمین سی بی آر کے اس اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دیگر ملوث کرداروں کو بھی بے نقاب کرنے عہدوں سے فارغ کرنے اور تحقیقات کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ بااثر بابر تاج کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کیلئے کارروائی تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں