تابناکیاں/سجاد اظہر

اسامہ کے پیغام رساں کویتی برادران کون تھے؟

ایبٹ آباد آپریشن کو ٹھیک چھ دن ہو چکے ہیں۔ آٹھ مئی 2011 کی معمول کی ایک رات ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین میں کوہاٹ سے شائع ہونے والے روزنامہ تاثیر کا دفتر بند ہو چکا ہے کیونکہ اخبار رات آٹھ بجے ہی پریس میں چلا جاتا ہے۔ 24 سالہ عبدالسلام دفتر میں ہی دیگر دو دوستوں کے ساتھ رہتا ہے۔ رات گئے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ عبدالسلام کا ساتھی اٹھتا ہے جونہی دروازہ کھلتا ہے سول کپڑوں میں ملبوس کئی مسلح لوگ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو جاتے ہیں۔سلام کو پکڑتے ہیں اور رات کی تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں۔ سلام تین سال سے اس اخبار میں بطور سرکولیشن مینیجر کام کر رہا ہے۔

یہ واقعہ معروف صحافی اعزاز سید کی کتاب ’دی سیکریٹس آف پاکستان وار آن القاعدہ‘ کے صفحہ 30 پر درج ہے جسے نیریٹوز پبلیکیشنز نے 2015 میں اسلام آباد سے شائع کیا تھا۔ کتاب کئی حیرت انگیز واقعات لیے ہوئے ہے جن کا ذکر اسامہ پر دوسرے ممالک سے شائع ہونے والی کتابوں میں نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اعزاز کو بطور فیلڈ اور تحقیقاتی رپورٹرکے جو رسائی پاکستان میں میسر تھی پیٹر برگن سمیت باقی ان نامی گرامی صحافیوں کو نہیں تھی جو امریکہ میں بیٹھ کر لکھ رہے تھے۔

عبدالاسلام کون تھا، اور اسے کیوں اٹھایا گیا؟ اس سوال کا جواب اعزاز سید نے یوں دیا ہے کہ سلام کویتی برادران کے ایک اور بھائی موسیٰ کا سالا تھا جس کی کویت میں شہد کی دوکان تھی۔ موسیٰ کی شادی 2003 میں کوہاٹ میں ہوئی تھی جس میں کویتی برادران بھی شریک ہوئے تھے۔

سلام کو اس کے ایک کزن محمد کی فون کال پر اٹھایا گیا تھا جس نے اسے کہا تھا کہ ٹی وی پر جو لاشیں دکھائی جا رہی ہیں وہ ان کے دو قریبی رشتہ داروں کی ہیں۔ یہ دو رشتہ دار کویتی برادران تھے جو دو مئی کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کے ساتھ مارے گئے تھے۔

جاوید ملک جو خود بھی صحافی ہیں اور جس وقت عبدالسلام کو اٹھایا گیا تھا اس وقت وہ روزنامہ تاثیر کے ایڈیٹر تھے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مجھ سے پہلے کمال اظفر اس اخبار کے ایڈیٹر تھے جن کا اپنا تعلق بھی کوہاٹ سے تھا اور انہی نے ہی عبدالسلام کو روزنامہ تاثیر کے بیورو آفس میں تعینات کیا تھا جسے بعد ازاں اسلام آباد میں بطور سرکولیشن منیجر تعینات کر دیا گیا تھا۔

کمال اظفر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایک کالعدم جماعت کے میڈیا ونگ سے تھا۔ بعد ازاں وہ حامد میر کی زیرادارت نکلنے والے روزنامہ اوصاف سے منسلک ہو گیا تھا جس کی شہرت نہ صرف طالبان کے حمایتی اخبار کی تھی بلکہ خود حامد میر دو بار اسامہ بن لادن کا انٹریو بھی کر چکے تھے۔

کمال اظفر کا تعلق بھی کوہاٹ سے تھا اور طالبان کے اندرونی سرکل تک اسے رسائی حاصل تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی کمال اظفر جس کی شہرت مین سٹریم میڈیا سے پہلے جہادی میڈیا کی تھی وہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے اس ونگ کا صدر بھی بن گیا جو خود کو بائیں بازو کا نمائندہ کہتے ہیں۔

یہ کمال اظفر اب کہاں ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ گذشتہ چار سال سے وہ غائب ہے اور اس کے گھر والوں نے اس کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرا رکھی ہے۔

جاوید ملک کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ عبدالسلام کا تعلق کویتی برادران کی فیملی سے تھا لیکن وہ کویتی برادران کی سرگرمیوں کی بارے میں آگاہ نہیں تھا، یہی وجہ تھی کہ اسے ایجنسیوں نے جلدی چھوڑ دیا جس کے بعد وہ کویت چلا گیا تھا۔

امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد یکم مارچ 2003 کو راولپنڈی سے گرفتار ہو گیا۔ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسامہ سے اس کا آخری رابطہ تب ہوا تھا جب وہ کنڑ صوبے میں تھا۔

تورا بورا سے احمد الکویتی اور امین الحق نامی دو لوگ اسامہ کو نکال کر لے گئے تھے۔ اس کے بعد القاعدہ کے جتنے بھی اہم لوگ گرفتار ہوئے ان سے صرف اتنا پتہ چلتا تھا کہ اسامہ بن لادن کا سرکل بہت محدود ہے اور صرف دو آدمی اس کے قریب ہیں جو اس کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں۔

چنانچہ اگلے سالوں میں سی آئی اے نے اپنی تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز کر دیں کہ یہ پیغام رساں کون ہیں اور جب تک ان کااتا پتہ نہیں لگایا جاتا اسامہ بن لادن تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

معروف امریکی صحافی پیٹر برگن کی کتاب ’مین ہنٹ‘ مطبوعہ 2012 میں لکھا ہے کہ محمد الخطانی جسے القاعدہ نے بیسویں ہائی جیکر کے طور پر امریکہ بھیجا تھا، لیکن اسے اولینڈو ایئرپورٹ سے ہی ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں جب تورا بورا میں اسے گرفتار کیا گیا تو وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسامہ کے اس پیغام رساں کے بارے میں زبان کھولی تھی اور کہا تھا کہ جولائی 2011 میں وہ کراچی میں الکویتی سے ملا تھا جس نے اسے القاعدہ کی خفیہ پیغام رسانی کے طریقوں سے آگاہ کیا تھا۔

لیکن پھر بھی سی آئی اے اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی کہ الکویتی کوئی انتہائی اہم فرد ہے یا القاعدہ کے ان سینکڑوں ارکان کی طرح ہے جو گوانتانامو بے، مشرقی یورپ اور افغانستان میں سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں پڑے ہوئے ہیں۔

لیکن جب سی آئی اے نے تھائی لینڈ سے القاعدہ کے ایک رہنماحمبالی کو گرفتار کیا تو اس نے بتایا کہ افغانستان سے فرار کے بعد وہ کراچی میں القاعدہ کے ایک سیف ہاؤس میں ٹھہرا تھا جس کا انتظام الکویتی کے پاس تھا۔

2004 میں جنوری کے وسط میں عراق سے ایک پاکستانی حسن گل گرفتار کر لیا گیا جس کے پاس اسامہ کا القاعدہ عراق کے نام ایک خط تھا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ وہ عراق کی شیعہ آبادی کے خلاف کھلی جنگ کریں۔

اس نے بتایا کہ اسے یہ خط اسامہ کے پیغام رساں الکویتی نے دیا تھا جس کی اسامہ سے ملاقاتیں رہتی ہیں اور الکویتی ہی خالد شیخ محمد کا آدمی ہے اور اب وہ خالد شیخ محمد کی جگہ القاعدہ کے نئے آپریشن کمانڈر فراج الیبی کے بھی قریب ہے۔ یہ فراج الیبی ہی تھا جس نے دسمبر 2003 میں اس وقت کے صدر مشرف پر دو قاتلانہ حملے کیے تھے۔

اسے دو مئی 2005 کو مردان سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے بتایا کہ الکویتی القاعدہ کا کوئی اہم رہنما نہیں ہے، بلکہ دراصل مولوی عبدالاخالق جان تھا جس نے اسامہ کی جانب سے اسے خط پہنچایا تھا جس میں اسے خالد شیخ محمد کی جگہ القاعدہ کے تیسرے اہم رہنما کی طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

لیبی کو یہ خط اس وقت ملا تھا جب وہ ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دراصل الکویتی کا ہی ایک اور فرضی نام تھا اس کے علاوہ وہ محمد خان، شیخ ابو احمد اور ارشد خان کے فرضی ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔ تاہم تفتیش نگاروں کے لیے مخمصہ یہ تھا کہ کویتی ہے کون؟

تاہم موریطانیہ کے ایک قیدی نے سی آئی اے کو بتایا کہ کویتی تورا بورا کی جنگ میں اس کے سامنے مارا گیا تھا، اس بیان سے اور زیادہ کنفیوژن پھیلی۔ تاہم اب تفتیش نگاروں کی نظروں کا تمام تر محور الکویتی ہی تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ الکویتی تک پہنچے بغیر وہ اسامہ تک نہیں پہنچ سکتے۔

2010 وہ سال تھا جب ایک تیسرے ملک کی مدد سے سی آئی اے یہ جاننے میں کامیاب ہو گیا کہ لکویتی کا اصل نام ابراہیم سعید احمد ہے۔ اس کے زیر استعمال جو فون تھا وہ کبھی کبھی ہی آن ہوتا اور جب ہوتا تو اس کی جیو لوکیشن پشاور، راولپنڈی اور جی ٹی روڈ کی ملتی تھی۔ فون کرنے کے بعد نہ صرف فون بند ہو جاتا تھا بلکہ اس کی بیٹری بھی نکال لی جاتی تھی۔

یہ 2010 کی گرمیوں کے دن تھے جب کویتی نے فون آن کیا تو دوسری جانب اس کا ایک پرانا دوست تھا جو خلیجی ملک سے بول رہا تھا جس کا فون پہلے ہی آبزرویشن پر تھا۔ اس نے کہا:

’ہم تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔‘

الکویتی نے گول مول سا جواب دیا، ’میں انہی لوگوں کے پاس ہوں جن کے پا س پہلے ہوتا تھا۔‘اس کے بعد گہری خاموشی، پھر خلیجی دوست نے جواب دیا، ’خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘

اس کال کے بعد تفتیش نگاروں کو یقین ہو گیا کہ الکویتی ہی اسامہ کا پیغام رساں ہے اور اگر وہ کویتی کا سراغ لگا لیں تو اسامہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اگست 2010 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اسامہ کے پیغام رساں کا پتہ چلا لیا گیا ہے جو ایبٹ آباد میں ایک قلعہ نما گھر میں رہتا ہے۔ تاہم یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پیغام رساں اور اسامہ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔

اعزاز سید اپنی کتاب کے صفحہ 38 پر لکھتے ہیں کہ کویتی برادران کا ایک کزن محمد تھا جو کوہاٹ میں رہتا تھا جس کا ان سے رابطہ تھا اور وہ پشاور میں کئی بار ان سے مل چکا تھا، ہر ملاقات میں اس کے حوالے کچھ چیزیں کی جاتی تھیں جو اس نے آگے پہچانی ہوتی تھیں۔ محمد خود بھی ایک جہادی تھا جس کا تعلق لشکر طیبہ سے رہا تھا وہ اپنے چچاؤں کے ذریعے افغانستان میں اسامہ بن لادن سے بھی مل چکا تھا۔

کویتی برادران کے اصل نام ابرار اور ابراہیم تھے۔ ابرار ارشد کے فرضی نام سے اور ابراہیم طارق کے فرضی نام سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ساتھ اپنے بیوی بچوں سمیت رہ رہے تھے۔

مقامی لوگ اتنا ہی جانتے تھے کہ ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے اس لیے ان کے گھر کو وزیرستانی حویلی کہا جاتا تھا۔ دراصل ان دونوں بھائیوں کا تعلق کوہاٹ کے گاؤں سلمان تالاب سے تھا۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں انگریزوں کے دور میں عجب خان آفریدی نے بغاوت کرتے ہوئے کمشنر کی بیٹی ایلس کو اغوا کر لیا تھا۔

کویتی برادران اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والد احمد سعید اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے طالبان کے امیر ملا عمر بھی پڑھ چکے تھے۔ احمد سعید کی شادی حامد ہ بی بی سے ہوئی اور پھر وہ کویت چلے گئے۔ جہاں اس کے آٹھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

اس کے چھ بچے جن میں ابرار اور ابراہیم بھی تھے کویت میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ دونوں بھائی 11 ستمبر کے حملوں سے کچھ عرصہ پہلے ہی کویت سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ اسی سال ابراہیم کی شادی سعید کے بھتیجے کی 14 سالہ بیٹی مریم سے ہو ئی جبکہ بڑے بھائی ابرار کی شادی بشریٰ سے 2002 میں سوات میں ہوئی۔

بشری ٰ کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ کویتی برادران کے دو بھائی افغانستان میں مارے جا چکے تھے ایک 1980 میں دوسرا 2001 میں۔

خیال ہے کہ ان کا جو بھائی 2001 میں مارا گیا وہ وہی تھا جو تورا بورا میں اسامہ کی حفاظت کر رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسامہ کویتی برادران پر اعتماد کرتا تھا اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسامہ کی ایک بیٹی کا رشتہ بھی کویتی فیملی میں ہوا تھا۔

کوہاٹ سے سابق ایم این اے جاوید ابراہیم پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ الکویتی فیملی کویت میں اسامہ بن لادن کے پراجیکٹس میں ملازمت کرتی تھی۔ مسلکی ہم آہنگی بعد میں قربت میں بدل گئی۔

اسامہ کو تورا بورا سے زندہ نکال کر اپنے گاؤں سلمان تالاب لانے والے یہی کویتی برادران تھے جہاں اسامہ لمبے عرصے تک اپنی فیملی کے ساتھ مقیم رہا۔ یہاں کویتی فیملی کا ایک بہت بڑا گھر ہے، حجرہ ہے اور فٹ بال کا میدان ہے جہاں اسامہ کے بچے فٹ بال کھیلتے تھے۔

جاوید ابراہیم پراچہ کا کہنا ہے کہ اسامہ کے دو بیٹوں کی شادیاں بھی یہاں سلمان تالاب میں ابراہیم اور ابرار کی بھانجیوں سے ہوئی تھیں۔

کویتی برادران کو اسامہ سے متعارف کرانے والا 11 ستمبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد تھا۔ ان تینوں کے روابط کویت میں ہی ہوئے تھے۔ مریم جو بڑے کویتی بھائی ابراہیم کی بیوی ہے وہ شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہی وہ گھر تھا جہاں وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کو احمد عمر سعید شیخ اغوا کر کے لایا تھا اور یہیں خالد شیخ محمد نے اسے ہلاک کر دیا تھا۔

تین مہینے بعد مریم اپنے والدین سے ملنے آئی جب واپس گئی تو ابراہیم ایک اور گھر میں منتقل ہو چکا تھا۔ ابراہیم کچھ عرصہ گھر سے غائب رہا اور واپس آ کر بیوی کو بتایا کہ وہ کویت چلا گیا تھا، کراچی میں ہی مریم کا تعارف اسامہ کی بیوی امل سے ہوا تھا جس کا تعارف ابراہیم نے اپنے دوست کی بیوی کے طور پر کرایا تھا۔

پھر مریم نے امل سے عربی سیکھنی شروع کر دی۔ کچھ عرصہ بعد ابراہیم اس کی بیوی مریم، امل اور اس کے بچے کراچی سے سوات آ گئے۔

راستے میں انہیں ایک کوچ میں بٹھایا گیا جس میں ایک پولیس والا اور ایک کلین شیو آدمی تھا جس نے ہیٹ پہن رکھا تھا۔ وہ سب سوات میں دریا کنارے ایک گھر پہنچے جس میں ابرار پہلے سے ہی موجود تھا۔

بعد میں جب امل اور کلین شیو والا آدمی ایک ہی کمرے میں رہنے لگے تو مریم کو پتہ چلا کہ یہ امل کا خاوند ہے۔ سوات میں کراچی کی طرح مہمان نہیں آتے تھے تاہم 2003 میں ایک مرد اپنے سات بیوی بچوں کے ساتھ آیا جس کا نام حافظ بتایا گیا۔

حافظ کی بیوی وہی تھی جس کے کراچی والے گھر میں ابراہیم کا ولیمہ ہوا تھا۔ یہ لوگ چند دن ٹھہرے اور پھر چلے گئے۔ ایک روز ٹی وی لگا ہوا تھا تو خبر چل رہی تھی کہ القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تب مریم کو پتہ چلا کہ وہ حافظ دراصل خالد شیخ محمد تھا اور جو کلین شیو آدمی ان کے ساتھ رہتا ہے وہ اسامہ بن لادن ہے۔

جب مریم کو یہ سب پتہ چل گیا تو ابراہیم بہت پریشان ہوا اور اس نے تب مریم کو اعتماد میں لیا کہ یہ بہت بڑے مجاہد ہیں اور ہمیں ان مجاہدوں کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہوا ہے۔

خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد انہوں نے وہ گھر خالی کر دیا، امل، بشریٰ، مریم اور بچوں کو ایک کوچ میں بٹھا کر پشاور روانہ کر دیا گیا جبکہ مرد کسی اور منزل کی جانب چل دیے، جبکہ اسامہ کی بیوی امل نے پاکستانی حکام کو جو بیان دیا تھا اس کے مطابق وہ پشاور کے بجائے شانگلہ آ گئے تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں ابرار کی بیوی بشریٰ کا گھر تھا۔

پھر کچھ عرصہ بعد یہ تمام لوگ ہری پور کے نسیم ٹاؤن میں اکٹھے ہو گئے۔ لیکن اب یہاں اسامہ کی دوسری بیوی شریف الشہام اور اس کا بیٹا خالد بن لادن اور بن لادن کی بیٹیاں مریم اور سمیرا بھی تھیں۔ ہری پور میں دو سالہ قیام کے دوران کوئی ملاقاتی نہیں آیا ماسوائے کویتی برادران کی ماں کے، جو کویت سے انہیں ملنے آئی تھی۔

ہری پور میں قیام کے دوران امل دو بار حاملہ ہوئی۔ ابرار اور اس کی بیوی اسے ہسپتال لے کر گئے اور ڈاکٹر کو بتایا کہ یہ گونگی بھی ہے اور بہری بھی۔

2005 میں یہ تینوں خاندان ایبٹ آباد میں نئے گھر میں شفٹ ہو گئے جسے کویتی برادران نے اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اسامہ تیسری منزل میں رہتا تھا اس کی دیگر دو بیویاں پہلی اور دوسری منزل میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔

ایبٹ آباد میں رہائش کے دوران بشریٰ اپنے والدین سے ملنے شانگلہ اور مریم اپنے والدین کو ملنے کوہاٹ جاتی رہتی تھیں۔ اسامہ کو ان کے باہر جانے پر خدشات تھے۔ ایبٹ آباد میں آ کر اسامہ نے دوبارہ داڑھی رکھ لی تھی۔

پیٹر برگن کی کتاب کے مطابق اسامہ کویتی برادران کو گزر اوقات کے لیے 100 ڈالر کے مساوی رقم ماہانہ اخراجات کے لیے دیتا تھا۔ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ کا ماہانہ خرچہ 1500 ڈالرز یعنی آج کے تین لاکھ دس ہزار روپے کے قریب تھا جس کو سونے کی چوڑیاں بیچ کر پورا کیا جاتا تھا۔

کمپاؤنڈ میں ہر ہفتے دو بکرے ذبح کیے جاتے تھے۔ کمپاؤنڈ کا اپنا باغیچہ تھا جہاں سبزیاں اگائی جاتیں جبکہ انڈے دینے والی سینکڑوں مرغیاں بھی پالی ہوئی تھیں اور دودھ دینے والی گائیں بھی تھیں۔

دو مئی 2011 کے آپریشن میں کویتی برادران مارے گئے۔ ابرار کی بیوی بشریٰ بھی اپنے خاوند کو بچاتے ہوئے وہ نیوی سیلز کی گولیوں کا نشانہ بن گئی۔جبکہ ابراہیم کی بیوی مریم اپنے اور ابرار کے آٹھ بچوں کے ساتھ کوہاٹ میں ہی زندگی گزار رہی ہے۔

بشکریہ : انڈیپنڈنٹ اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں