افادات/ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری۔ -ایم ایل اے

کرونا کی خطرناک تیسری لہر،حفاظتی تدابیر ناگزیر

دنیا بھر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 13 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 29 لاکھ سے زیادہ ہے۔ کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں مریضوں کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ اموات پانچ لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ہے۔دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل ہے جہاں اب تک ایک کروڑ سے زیادہ افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 345,025 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک انڈیا ہے جہاں متاثرین کی تعداد 12,928,574 سے زائد جبکہ اموات 166,862 سے زیادہ ہیں۔پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کے دوران نئے مریضوں کی تعداد ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ ملک میں ویکسینیشن کا عمل جاری مگر سست روی کا شکار ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں کورونا کیسز  بڑھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی وبا کی تیسری لہر سنگین ہوتی جارہی ہے۔

وفاقی حکومت کے اعلان کے بعد فوج نے کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔فوجی اہل کار لاہور، اسلام آباد، ملتان، گوجرانوالہ، بہاولپور، فیصل آباد، پشاور اور میر پور سمیت دیگر شہروں میں کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے میں سول انتظامیہ کی مدد کررہے ہیں جو خوش آئند ہے۔آزاد کشمیر میں بھی کرونا وبا نے پنجے گاڑ رکھے ہیں مظفرآباد ،باغ ،راولاکوٹ ،سدھنوتی اور کوٹلی میں مثبت کیسوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ،جمعہ کو وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی اپیل پر آزاد کشمیر بھر میں یوم استغفار بھی منایا گیا۔ہمیں چاہئے کہ رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ہم اپنے گناہوں کی معافی اور کرونا سے نجات مانگیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جاری صورتحال میں گھر سے باہر نکلنے والے ہر شخص اور بالخصوص دْکاندار حضرات کے لیے ماسک لگانا اورسینی ٹائزر کا استعمال کرنا ازحد ضروری ہے۔دْکان دار ایک دِن میں متعدد افراد کو سوداسلف دیتے ہیں،یہ لوگ اگر احتیاط کریں تو یہ خود بھی محفوظ رہیں گے اور اِن کے گاہک بھی،مگر المیّہ یہ ہے کہ ایسے لوگ ذرا بھی محتاط پسند نہیں۔ ماسک لگانے والوں کی بڑی تعداد ماسک کو ناک سے نیچے رکھتی ہے،کھانسی اور چھینک آئے تو ماسک اْتار کر کھانسی اور چھینکنے کا عمل سرانجام دیتے ہیں۔

ماسک کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ رکھنے کا کوئی رواج نہیں۔لوگ ایسے جْڑکر ساتھ بیٹھتے ہیں جیسے یہ کوئی ثواب کا کام ہو۔ جہاں سمارٹ لاک ڈائون لگایا جاچکا ہو وہاں بھی لوگ ماسک کے بغیر سماجی فاصلہ رکھے بغیر ہجوم کی جگہوں پر آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔جب تک روّیوں میں تبدیلی نہیں آئے گی اْس وقت تک بیماری پر قابو پانا ممکن نہیں ہوپائے گا۔کورونا وبائ کے دوران جو بات سیکھی گئی ہے ،وہ یہ کہ ماسک ہی ویکسین ہے۔

جو لوگ مسلسل ماسک لگاتے ہیں،ہجوم کی جگہوں پر نہیں جاتے،سینی ٹائزر کا استعمال کرتے ہیں،وہ ابھی تک محفوظ ہیں ،مزید بھی یہ لوگ محفوظ رہیں گے۔ تیسری لہر کے دوران شادیوں کاسیزن تھا،جو لوگ شادی کی تقریبات اٹینڈ کرتے پائے گئے،اْن میں سے زیادہ تر تیسری لہر کا شکار ہوئےسوال تو یہ ہے کہ ہم کورونا پر قابو پانا چاہتے ہیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں عملی طور پر اس کا ثبوت دینا ہوگا،ماسک لگانا ہوگا…سماجی فاصلہ رکھنا ہوگا اور ہاتھوں کو باربار دھونا ہوگا،نیز ویکسین لگوانے میں عجلت سے کام لینا ہوگا۔ اگر ا?پ ماسک نہیں لگانا چاہتے ،سماجی فاصلہ نہیں رکھنا چاہتے ،ہاتھ نہیں دھونا چاہتے اور ویکسین نہیں لگوانا چاہتے تو درحقیقت ا?پ کورونا پر قابو نہیں پاناچاہتے۔

اگر ایسا ہی تو آپ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں کے بھی دْشمن ہیں۔کرونا وبا کا ایک اور خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال انتہائی تشوشناک ہے شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات پر تشویش کے ساتھ سب سے زیادہ تشویش ان ہزاروں کشمیریوں کی زندگی کے بارے میں ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے بھارت کی مختلف جیلوں میں بے گناہ بند ہیں اور ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد زیادہ ہونے اور صحت و صفائی، خوراک و پوشاک کی ناگفتہ بہ صورتحال کی وجہ سے قیدیوں میں کرونا پھیلنے کے سخت خطرات موجود ہیں۔ ہندوستانی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ، ایاز اکبر، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت ہزاروں قیدیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کر کے ان کی زندگیوں کو محفوظ کیا جائے۔

حریت رہنماؤں سید علی گیلانی سمیت دیگر کی نظر بندی کو فی الفور ختم کرے، تہاڑ جیل میں آسیہ اندرابی کی صحت دن بدن بگڑ تی جارہی ہے,ہندوستان کو اس مشکل کی سبق سیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ پونے دو سالوں سے کرفیو، لاک ڈاؤن کے محاصرہ میں زندگیاں گزارنے والے نہتے کشمیری کس قرب میں مبتلا ہیں، کرونا وائرس کی سنگین صورتحال کے باوجود اس وقت بھی ہندوسان کی جانب سے آئے روز مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فورسز سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے،اس دوران مزاحمت کرنے والے نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کیا جارہاہے..

عالمی برادری سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہندوستان کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم او ر کرونا کی شدت میں اضافہ کے باعث حریت رہنماؤں سمیت کشمیر مرد خواتین کو رہا کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔۔،اس وقت حکومت پاکستان نے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے فوج کی طلبی کرکے دیہاڑی دار طبقہ کو مشکلات سے بچایا ہے، مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ سے متوسط طبقہ بھوک افلاس میں گر جاتا، پاکستان و آزاد کشمیر کے عوام اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، بلاجواز گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماں باپ اپنے بچوں کو ضرورت کے علاوہ گھروں سے باہر نہ بھیجیں، چند روز کی احتیاط سے ہم بڑے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں