اسامہ بن لادن کی ہلاکت امریکی سی آئی اے کا ڈرامہ تھی، معروف دفاعی تجزیہ نگار کیپٹن ادیب زیڈ صفوی کا دعویٰ

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز/راجہ ارشد محمود) ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ڈرامہ امریکی سی آئی اے کا تخلیق کردہ تھا اسامہ کی موت اس واقعے سے بھی دس برس قبل ابو ظہبی کے ایک ہسپتال میں دوران علاج ہو چکی تھی یہ انکشاف پاکستان کے ممتاز دفاعی تجزیہ نگار پاک بحریہ کے ریٹائرڈ کیپٹن ادیب زیڈ صفوی نے واقعے کی ایک دہائی پورا ہوجانے پر سٹیٹ ویوز سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔

انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے اس تاریخی جملے سے کیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے 95فیصد واقعات میں سی آئی اے کا ہاتھ ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کا واقعہ سی آئی اے کا ایک بڑا false flagآپریشن تھا جس نے دنیا بھر میں امن اور سیکیورٹی کا نظریہ یکسر بدل دیا کہ گزشتہ تیس برسوں میں سی آئی نے دنیا بھر میں تیس کے لگ بھگ ایسے آپریشن کئے جس کے نتیجے میں امریکی افواج نے خود مختار ممالک میں زبردستی گھس کر لاکھوں بے گناہ افراد کا خون بہایا ۔

ایک سوال کے حواب میں کیپٹن صفوی نے بتایا کہ امریکی جرنل رمزے کلارک بھی اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں ملک میں ڈک چینی،رمز فیلڈ سمیت نصف درجن ایسے لوگوں کا قبضہ تھا جنھوں نے اپنے مخصوص مقاصد پورا کرنے کے لئے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے لئے ایک پالیسی بنا رکھی تھی

کیپٹن ادیب صفوی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے اس ٹولے نے اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہی عراق، شام، لیبیا،صومالیہ،لبنان، ایران، اور سوڈان سمیت سات ممالک پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہواتھا سی آئی اے نے القاعدہ اور بن لادن کو ایک دیو مالائی حیثیت دے کر دنیا بھر میں مشہور کیا اور پھر افغانستان کو اپنی شکار گاہ کے طور پر چنا ،

کیپٹن ادیب کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ نائن الیون ایک ڈرامہ تھا اور افغان طالبان کو اس کا ادراک ہو چکا تھا اسی وجہ سے انھوں نے واضح طور پر امریکہ سے یہ کہا تھا کہ اگر اسامہ بن لادن واقعے میں ملوث ہے تو اس کا ثبوت انھیں دیا جائے لیکن چونکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور طالبان کے انکار پر امریکہ نے بین الاقوامی فوجوں کے ہمراہ افغانستان پر چڑھائی کر ڈالی

اس ضمن میں کیپٹن ادیب صفوی نے ایک نجی ٹی وی کے مقامی رپورٹر کا بھی حوالہ دیا جس نے واقعے کے اگلے دن اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ کے سامنے کھڑے ہو کر لائیو بتایا تھا کہ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ منظر دیکھا تھا کہ جب دو ہیلی کاپٹرز اس جگہ پر اترے ایک میں سے اتر کر امریکی فوجی عرب لباس میں ملبوس ایک شخص کے ہمراہ اس گھر کے اندر داخل ہوئے جہاں سے فائرنگ کی آوازیں آئیں اور چند لمحوں کے بعد کمانڈوز اسی عرب کی لاش سمیت عمارت سے باہر آئے اس دوران ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ بھی ہو گیا

ادیب صفوی کا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامہ امریکی ایجنسیوں کی ملی بھگت تھی انھوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے اگلے دن ایرانی وزیر خارجہ کا وہ بیان بھی نہایت اہم درجہ رکھتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن گردوں کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ڈائلسز کا مریض تھا اور اگر ایبٹ آباد کے اس واقعے میں اگر وہاں سے ڈائلسز مشین بر آمد ہوئی ہے تو تب اس واقعے کی صداقت پر یقین کیا جا سکتا ہے۔

کیپٹن ادیب کا مزید کہنا تھا کہ اس ضمن میں دی گارڈین کی یکم نومبر 2001 کی سٹوری بھی پڑھنے کے قابل ہے جس میں اخبار نے دعوی کیا تھا کہ اسامہ جب دبئی میں زیر علاج تھا تو امریکن سی آئی اے کے چیف کو بھی اسی ہسپتال کی لفٹ میں دیکھا گیا تھا اس کے علاوہ دیگر امریکی عہدیدار بھی ہسپتال میں دیکھے گئے تھے

کیپٹن ادیب صفوی نے بتایا وہ درجنوں ٹی وی ٹاک شوز اور اپنی تحاریر میں یہ بتا چکے ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت ایک ڈرامہ تھی وہ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی پاک فوج کے لیفٹنٹ جنرل ندیم احمد سے بھی ملے لیکن وہ بھی نجی ٹی وی کے رپورٹر کی بات کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے

ایک سوال کے جواب میں کیپٹن ادیب صفوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دنوں بد ترین دہشت گردی کا شکار تھا جس میں پی اے ایف کامرہ پر حملہ، پی این ایس مہران پر حملہ کے ساتھ ساتھ شہری آبادیاں بھی دہشت گردی کا بری طرح شکار تھیں جب کہ کلبھوشن کی زیر قیادت را کا سیل بھی پوری طرح سرگرم عمل تھا عین ممکن ہے کہ پاکستانی حکومت نے ایسی صورت حال کے دباؤ میں آ کر ایبٹ آباد کے واقعے کی حقیقت سے قوم کو آگاہ نہ کیاہو اور جو کچھ بھی امریکہ نے کہا اسی کو سچ مان لیا گیا ہو

کیپٹن ادیب صفوی نے دعویٰ کیا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ ہو سکتا ہے اس معاملے میں صدر زرداری، جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے بھی امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ کھڑے تھے ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مصنف سیموئیل ہرش بھی یہ لکھ چکا ہے کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت جھوٹ ہے جب کہ ویبسٹر ٹرپلے کے مطابق ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سی آئی اے کا ڈرامہ تھی جو ہالی وڈ کی کسی فلم سے بہتر تھا

گفتگو کا خاتمہ کرتے ہوئے کیپٹن ادیب صفوی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو اب ایک دہائی گزر چکی ہے ملکی حالات بہت بہتر ہو چکے اب یہ وقت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں دنیا کو حقائق سے آگاہ کر دے تا کہ عالمی استعماری طاقتوں نے اس واقعے کی آڑ میں پاکستان کے دامن پر جو دھبے لگائے تھے ان کو مٹایا جا سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں