نقطہ نظر/ارشاد محمود

گلگت بلتستان پیکیج ایک نئے دور کا آغاز

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے لیے تین سو ستر ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرکے اس خطے کی عشروں پر محیط محرومیوں اور مایوسیوں کا مداوا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سات دہائیوں میں اتنا بڑا مالیاتی پیکیج کسی بھی وفاقی حکومت نے نہیں دیا۔بے پناہ قدرتی وسائل اوراہم جغرافیائی محل وقوع ہونے کے باوجود یہ علاقہ پسماندہ رہا، جس کی وجہ سے یہاں زبردست احساس محرومی پایاجاتاہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق اب ایک بڑا پیکیج دیاگیا ہے، اگر اس پر دیانت داری کے ساتھ عمل درآمد کیاگیا،تو کم ازکم تمام فوری نوعیت کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

اگلے پانچ برسوں میں اس پیکج کے تحت گلگت، سکردو اور چلاس کے ہسپتال اَپ گریڈ ہوں گے۔ سکردو اور گلگت میں میڈیکل کالجز بنائے جائیں گے۔ اکیسویں صدی میں عالم یہ ہے کہ گلگت اور سکردو شہردریاؤں کے دہانے پر آباد ہونے کے باوجود بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کررہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ اس خطے کو سیاحوں کے لیے سوئیٹزرلینڈ بنائیں گے لیکن جہاں بجلی دن رات آنکھ مچولی کرتی ہو، ایسے سوئیٹزر لینڈ میں سیاح دور کی بات قیدی بھی رہنا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ 140 ارب روپے کی لاگت سے پن بجلی اور سولر انرجی کے 9 منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔ جن سے 250 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ تاریکی روشنی میں بدل جائے گی۔

35 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کے پانچ بڑے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں، ان میں شغر تھنگ، گورکیوٹ روڈ داریل تانیگر ایکسپریس وے، شگر پاپوشو روڈ شاہراہ نگر اور استور میں تھلیچی شونڑ تک سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔سیاحت کی ترقی کے لیے چھ ارب روپے کی لاگت سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے جانے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے لیے17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پانچ ہزار نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے۔گلگت اور سکردو میں صاف پانی کی فراہمی اور سوریج کے نظام کی بہتری کے لیے ساڑھے 8 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔گلگت بلتستان میں بزنس انکیو بیشن سینٹر کا قیام عمل میں لانے کا منصوبہ بھی ہے۔ گلگت بلتستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور 25 چھوٹے اور درمیانے انڈسٹریل یونٹ لگائے جائیں گے جو زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈیشن کیلئے کام کریں گے۔

دنیا کے جس خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب نہیں وہاں عالمی سیاح تو درکنار مقامی لوگ بھی جاناپسند نہیں کرتے۔ خوش حال مقامی شہری اور سرکاری افسران ملک کے بڑے شہروں میں اپنے خاندانوں کو تعلیم کے حصول کے لیے منتقل کردیتے ہیں۔ سوسائٹی کی کریم ان علاقوں سے نقل مکانی کرجاتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ سروسز کو بہتر بنا کر فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ نوکرشاہی نے حسب معمول روڑے نہ اٹکائے تو جلد ہی اس خطے میں بھی فور جی انٹرنیٹ سروس دستیاب ہوجائے گی جہاں کے طلبہ کا کورونا کے دوران قیمتی وقت محض اس لیے ضائع ہوگیا کہ انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خالد خورشید کی بھی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک بہترین انتخاب ہیں۔ پی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں وزیراعلیٰ بااعتماد اور قابل لیڈر نظر آئے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ انہیںگلگت بلتستان کے مسائل کا ادراک بھی ہے اور ان کے حل کا جذبہ بھی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ وزیراعلیٰ خالد خورشید کو بہت سازگار حالات میسرآئے ہیں اور ان کی رسائی اقتدارکے اعلیٰ ترین ایوانوں تک ہے۔ ماضی میں وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے کرتا دھرتا سارے مالی اور انتظامی اختیارات کا خود استعمال کرتے اور ناکامیوں کا ملبہ مقامی سیاستدانوں اوربیوروکریسی پر ڈال دیتے تھے۔اب صورت حال اس کے برعکس ہے۔

گلگت بلتستان کو گزشتہ چند برسوں میں قومی سطح پر پالیسی ساز اداروں اور حکمرانوں نے غیر معمولی اہمیت دی۔جغرافیائی محل وقوع خاص طور پر پاک چین راہ داری کی گزرگاہ ہونے کی بدولت یہ خطہ عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ بھارت کے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک بھی اس خطے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ سی پیک کے مخالفین کو گلگت بلتستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بہاتی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چند برس قبل دہلی کے لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گلگت بلتستان سے لوگوں کے خطوط آتے ہیں۔اعلیٰ بھارتی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزادکشمیر اور گلگت بلستان پر قبضہ کریں گے۔ ان بیانات نے بھی اس خطے کے بارے حکومت پاکستان کی حساسیت کو بڑھایا۔حالیہ چندماہ کے دوران لداخ میں ہونے والی بھارت چین جھڑپوں نے بھی گلگت بلتستان کی اسٹرٹیجک میں اہمیت میں کئی گنااضافہ کیا۔
یہ ہی وہ محرکات ہیں جنہیں نے حکومت پاکستان کو اس خطے پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا اورانہوں نے گلگت بلتستا ن کی ترقی اور خوشحالی کو قومی ترجیحات میں شامل کیا ۔ مثال کے طورپر اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی 153 طویل شندور گلگت روڑ کا بھی وزیراعظم نے افتتاع کیا جو سی پیک کا ایک متبادل روٹ بھی ہے۔ چترال کے ذریعے یہ سڑک برائے راست پاکستان کو تاجکستان سے مربوط کرے گی جو وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کا متبادل روٹ ہے۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان کے دفاعی ادارے مظفرآباد کی نیلم ویلی کے ذریعے گلگت بلتستان تک ایک اور متبادل روٹ بنانے کے لیے تیزی مگر خاموشی سے سرگرم ہیں ۔یہ سارے منصوبے اگرچہ ہیں تو اسٹرٹیجک نوعیت کے لیکن ان کا فائدہ یقینی طور پر مقامی آباد ی کو بھی ہوگا اور ان کی زندگیوں میں نمایاں سدھار آئے گا۔وزیراعلیٰ خالد خورشید کو وفاقی حکومت ،ریاستی اداروںاورپاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی سمیت پارٹی پوری لیڈرشپ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔دیگر صوبو ں کے برعکس عسکری لیڈر شب کا بھی انہیں غیر معمولی تعاون حاصل ہے کیونکہ اس خطے کے جغرافیائی محل وقوع اور سی پیک کی گزر گاہ ہونے ، بھارتی فوج کی لداخ کی سرحد پر موجوگی اور چین کے ساتھ کشیدگی کے باعث پاک فوج بھی سول انتظامیہ کے ہمراہ امن وامان کے قیام، معاشی ترقی ، سیاحوں کی حفاظت اور سیاسی استحکام کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

تین سو ستر ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا انفراسٹرکچر اس خطے کی قسمت بدل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی حکومت، میڈیا اور سول سوسائٹی بیدار رہے تاکہ اربوں روپے نوکرشاہی، سیاستدان اور ٹھیکدار ملی بھگت سے ہڑپ نہ کرجائیں۔ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے محض چھ سات ماہ کا وقت ہی میسر ہوتا باقی پانچ ماہ برف باری کی نذر ہوجاتے ہیں۔بشکریہ نائینٹی پیر 03 مئی 2021ء

اپنا تبصرہ بھیجیں