لیفٹیننٹ کرنل (ر) ابرار خان،

کُن فیکون کے انتظار میں

کہتے ہیں کہ بعض تصاویر بولتی ہیں مگر ایک ہاتھ میں دودھ کی بوتل اور دوسرے ہاتھ میں پتھر تھامے فلسطینی بچے کی تصویر صرف بول ہی نہیں رہی بلکہ چیخ چیخ کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ مگر اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کی عالمی طاقتیں جو اپنے آپ کو امن کا داعی بھی کہلاتی ہیں، اپنی رسمی بے حسی پہ قائم آنکھیں اور کان بند کیے ہوئے ہیں۔ مظلوم فلسطینی بچے کے ہاتھ میں سفاک اسرائیلی دہشت گرد فوجیوں کے خلاف اپنے دفاع کیلئے پتھر دراصل اُمت مسلمہ اور کثرالاقوام اسلامی فوج کیلئے ایک خاموش پیغام بھی ہے۔

یہ بچہ میرے خیال میں ننھا مجاہد ہے۔۔۔جو انجام سے بے خبر ظالم اسرائیلی فوج سے لڑنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ گولی کے مقابلے میں اس چھوٹے سے پتھر کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔ مگر بے حس دنیا کی نظر میں اب بھی مظلوم فلسطینی ہی دہشت گرد ہیں۔۔۔

سچا مسلمان جانتا ہے جذبۂ ایمانی ہو تو بڑی فوج کے مالک دیو قامت جالوت کو ایک کمسن بچہ(حضرت داؤد علیہ السلام) پتھر سے ہی ختم کر دیتا ہے۔۔۔ فرعون کا ظلم بھی جس موسیٰ نے مٹایا وہ ہاتھ میں صرف عصا لے کر اللہ کا ہی نام لے کر دریا سے گزر گیا۔ جبکہ بڑے لشکر والا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں چور دریا میں غرق ہو گیا۔

لیکن ہمارا نصیب یہ کہ اب کوئی حجاج بن یوسف نہیں جو کسی مظلوم لڑکی کی صدا سن کر کسی محمد بن قاسم کو بھیجے۔ یہاں ہم تو اس ڈر سے اسرائیل کی پرزور مذمت نہیں کرتے کہ ہمیں قرضے دینے والے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہاں چالیس اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا مقصد ہی واضح نہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی غالباً اس انتظار میں ہے کہ اسرائیلی فوج تمام فلسطینیوں کو فضائی حملے میں شہید کر دے۔ کیا یہ ایمان کی آخری حد سے بھی نیچے پہنچ چکے ہیں، جہاں یہ دل میں بھی اسرائیل کے مظالم کو برا نہیں کہتے؟؟؟

بات بہت پرانی نہیں، سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستانی اخباری نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک صحافی نے سوویت یونین کے سفارت خانے کے ایک مجاز افسر سے یہ سوال پوچھا:-

“When Soviet forces are moving out of Afghanistan?”

تو انھوں نے برجستگی سے جواب دیا:-
“You mean, towards Pakistan?”

دراصل ان کے اس جواب کے پیچھے سوویت یونین کی ایک سوچ کاربند تھی۔ جس کے حصول کے لیے سوویت یونین ایک بدمست ہاتھی کی طرح افغانستان کی کمزور دفاعی قوت کو کچل کر اپنی پیش قدمی کو افغان سرحد کے پار بھی جاری رکھنے کا خواہش مند تھا۔ دراصل سوویت یونین صرف افغانستان پر قبضہ کا خواہش مند نہیں تھا۔ اگر اس کو روکا نہ جاتا تو اس کی پیش قدمی گرم پانیوں کے حصول تک جاری رہنی تھی۔

آج امتِ مسلمہ خاص طور پر عرب ممالک اسرائیلی دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ان کی سوچ بھی شاید یہی ہے کہ اسرائیل کی افواج صرف فلسطین تک ہی محدود رہیں گی۔ غالباً وہ اپنے انجام سے بے خبر ہیں، جب ہی تو وہ مظلوم فلسطینیوں کی آہ و بکا سن نہیں پا رہے۔ اقبال کی دوراندیشی کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے “ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام” میں شاید اسی وقت کیلئے کیا خوب کہا تھا:-

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات
اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو

اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو
آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو

ترکی کے صدر طیب اردگان کی فکر انگیز سوچ میں وزن ہے۔ وہ اُمتِ مسلمہ کو مخاطب کر کے یہ باور کرا چکے کہ اگر ہم قبلہء اول کو نہ بچا سکے تو مدینہ منورہ بھی ہاتھ سے جائے گا اور مدینہ منورہ گیا تو مکہ مکرمہ کی حفاظت بھی ممکن نہ رہ گی اور خدا نخواستہ اگر یہ ہو گیا تو کبعہ شریف مسلمانوں کے پاس نہ رہ پائے گا۔

ڈاکٹر محمد اقبال فرنگیوں کی چالوں کو اپنے اشعار کے ذریعے مسلمانوں تک چھوڑ چلے:-

اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ
بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!

یہاں شطرنج کی بساط سے یہ دنیا مراد لے لیں۔ اس بساط پہ کمزور اُمت مسلمہ کی حیثیت پیادے کی سی ہے اور ظاہری سپر پاور کو فرزیں تصور کیا جائے تو بھی ایک شاطر ہی فرزیں اور پیادے کو چلاتا ہے۔ اور یہودی وہ شاطر ہے جو ہے جو سپر پاور کو بھی کنٹرول کر رہا ہے۔

مسلم ممالک کے گھیرے میں موجود، محض نوے لاکھ کی آبادی والے اس چھوٹے سے ملک کو فلسطینی مسلمانوں پر اس ظلم ستم اور بربریت کی ہمت کو جِلا مسلم اُمہ کی خود غرضی اور فرقہ واریت نے ہی بخشی ہے۔

کیا فلسطینی بچوں کا خون اتنا سستا ہے کہ کہ پوری دنیا اس پہ بات کرنے سے کترا رہی ہے۔ پر ہم مغربی دنیا سے شکوہ کیونکر کر سکتے ہیں؟ جبکہ مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر رہے ہیں، ان کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور او آئی سی اپنا اثر کھو چکی ہے۔

یااللہ ہم تیری سورة اِنفال بھی نہ سمجھ سکے، بس پڑھ لیتے ہیں۔ مولا ہم جنگ بدر بھی بھول چکے ہیں، ہزاروں کے لشکر کو تین سو تیرہ کیسے ہرا سکتے ہیں، یہ ہم فراموش کر بیٹھے ہیں۔۔۔ ہم تیرے حکم کے برعکس تفرقے میں پڑ گئے اور تیری رسی کو مضبوطی سے نہ تھام سکے۔

غفور الرحیم تو ہاتھیوں کے لشکر کو کنکریوں سے تباہ کرنے پہ اختیار رکھتا ہے، یااللہ تُو تو ایک چیونٹی سے ہاتھی کو مروا دیتا ہے۔۔۔ ہم بے اختیار ہیں مالک پر تُو تو ہر چیز پہ قادر ہے۔ تُو اسرائیل کی طرف ابابیلیں بھیج دے میرے مالک۔۔۔ اس لشکر کو تباہ کر دے جو قبلہ اوّل پہ میلی نظر رکھے ہوئے ہے۔۔۔ تو کُن کہہ دے گا تو کام ہو جائے گا۔

مولا ہم تو بس اب کُن فیکون کے منتظر ہیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں