نقطہ نظر/فیصل بشیر کشمیری

مائی ڈئیر بچہ پارٹی

فیسبک پر آپس کے جھگڑے اور خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش ماسوائے فضولیات کے کچھ بھی نہیں۔
ہمارے اجداد کی جو بھی تاریخ تھی وہ لکھی جا چکی اور اب اسے چاٹنے کے بجائے خود کچھ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اس لئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سوکھی نعرے بازی، دوسروں کی ذات یا قبیلے پر تنقید کرتے ہوئے خود کو بڑا ثابت کرنے اور اپنے اپنے اسلاف کے جھوٹے سچے قصے بیان کرنے کے بجائے خود کچھ ایسا کیجئے جس سے صرف آپ کا قبیلہ ہی نہیں بلکہ پورا وطن اور ہر قبیلہ و کنبہ آپ پر فخر کرے۔

موجودہ حالات میں اگر ہم کمبل میں گھس کر سوشل میڈیا پر یہ لکھتے رہیں کہ ہمارے خاندان نے بہت تیر چلائے ہیں تو باقی نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہمارا منڈا اتنا کچھ جاننے کے باوجود خود کیوں نہیں کچھ کرتا۔

مزید یہ خوش فہمی بھی دل سے نکال دیں کہ آج کے دور میں کوئی آپ کے خاندان کی شان و شوکت سے حسد رکھتا ہے کیونکہ کروموسومز اور جینز سالوں پہلے بدل چکے اور آج ہر کوئی سیر نہیں بلکہ سوا سیر ہے۔

یہاں لائیک اور کمنٹس کے چکروں میں دوسرے کو اپنے سے کم تر ثابت کرنے کے بجائے حقیقت کو تسلیم کریں۔

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میرے نزدیک سب سے بڑا خاندانی انسان وہ ہے جو اپنی خودی بیچنے کے بجائے غریبی میں نام پیدا کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں