212سرکاری کارپوریشنوں کی نجکاری پر غور،واپڈا، سٹیٹ لائف،نیشنل بینک ، پی ٹی وی، ریڈیوشامل

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز رپورٹ) ٹیکسوں کی آمدنی 8.3فیصد سے نہیں بڑھ سکی ، نان ٹیکس ریونیو کل محصولات کا 2.7فیصد ہیں.. واپڈا، سٹیٹ لائف،نیشنل بینک ، پی ٹی وی، ریڈیو..تین سالہ پروگرام کے تحت سب نیلام ہو سکتے ہیں.

ساڑھے چار لاکھ ملازمین منسلک ہیں،ریلویز او رپوسٹل سروس محفوظ ہیںمارچ تک صوبوں کوتقریباً 12سو ارب روپے ٹرانسفر کیے گئے دیکھنا یہ ہے کہ صوبوں نے 12سو ارب روپے سے کون سے ترقیاتی کام سرانجام دئیے
فلسطین پر اسرائیلی حملے میں بہت سی مقامی خبریں دب کر رہ گئی ہیں۔ مئی اور جون بجٹ کی تیاری اور پیش کرنے کے مہینے ہیں۔ لیکن بجٹ کی تیاری کامعاملہ ہمارے سیاستدانوں کی توجہ کا منتظر ہے۔

رواں مالی سال میں جہا ں تک پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا تعلق ہے تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وفاقی اخراجات بڑی حد تک کنٹرول میں ہیں۔ منصوبوں کے معیار سے قطع نظر رواں مالی سال میں پی ایس ڈی پی کیلئے وفاقی حکومت نے 623ارب روپے مختص کیے تھے جبکہ 7مئی تک 566ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔جن میں 87ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے، کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی عملدرآمد بہت حد تک کنٹرول میں ہے۔تاہم ان منصوبوں پر عمل درآمد سے نچلی سطح پر کوئی قابل ذکر تبدیلی ہوتی نظر نہیں آرہی ،یعنی عوام پہلے کی طرح اب بھی بہتری کے منتظر ہیں۔
اس بجٹ کی سب سے اہم خبر آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کی ہے،جس کے دوران ہی ساڑھے چار لاکھ افرا دی قوت کے حامل اداروں کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔کس ادارے کو حکومت اپنے پاس رکھے گی اور کسے بیچ دے گی، اس کا فیصلہ چند ہی مہینوں میں ہونے والا ہے۔فی الحال ایک بل اور ایک پالیسی بھی منظوری کے لئے پیش کی جائے گی ، یہ دونوں کام آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں ،آپ سمجھ ہی سکتے ہیں کہ اس پالیسی میں عوامی بہبود کا کتنا خیال رکھا جائے گا۔

212سرکاری اداروں میں 85کمرشل، 44نان کمرشل (یونیورسٹیاں، ویلفیئر ادارے )اور83ذیلی ادارے شامل ہیں۔85کمرشل اداروں میں سے 18 کا تعلق مالیاتی شعبے،20کا پاور سیکٹر،8کا آئل اینڈ گیس، 14کا مینوفیکچرنگ ، انجینئرنگ اور مائننگ ،12کا ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر ،4کا ٹریڈنگ و مارکیٹنگ سے ہے دیگر 5مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان تمام اداروں کے محصولات 4ہزار ارب روپے کو چھو رہے ہیں جبکہ اساسوں کی مالیت 19ہزار ارب روپے رہ گئی ہے۔جہاں تک محصولات کا تعلق ہے وہ برائے نام ہیں۔ یعنی جی ڈی پی کے 10فیصد کے برابر۔ جبکہ ملک کی تمام ورک فورس کا 0.8فیصد حصہ ان اداروں سے منسلک ہے۔یہ تعدا د ساڑھے چار لاکھ بنتی ہے۔اس میں سے اگر ریلوے کو نکال دیا جائے تو باقی تقریباً ساڑھے تین لا کھ بچیں گے جن کے ادارے نجکاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔

پاکستان ریلویز سے پاکستان کو بہت امید ہے ۔ گمان ہے کہ یہ پیروں پر کھڑا ہو جائے گا ا سی طرح پاکستان پوسٹل سروس اربوں روپے کے خسارے کے باوجود نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔جن دس بڑے اداروں اور ان کے ورکرز خطرے میں ہیں ان میں پاکستان سٹیل سر فہرست ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور پی پی ایل پہلے ہی سے نجکاری کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ایس ایم ای بینک کو بھی گھاٹے کا سودا سمجھ کر اسی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔24کمپنیاں اگلے مرحلے میں آئی ایم ایف کے پروگرام کا نشانہ بننے والی ہیں۔جن میں سے 12کمپنیوں کا خسارہ مالی سال 2018-19ء میں 156ارب روپے تھا۔جن میں 8تقسیم کار کمپنیاں ٹاپ پر ہیں۔ حیدرآباد ، پشاور ،سکھر اور کوئٹہ کے علاوہ لاہور ،ملتان، اسلام آباد اور فیصل آباد میں بجلی مہیا کرنے والی کمپنیو ں کو بھی نجی شعبے کے سپرد کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔اونٹ کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ۔موجودہ حکومت یا اگلی حکومت ؟۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت نجکاری کا یہ عمل 2022ء تک بہرصورت ختم ہو نا ہے۔ اور 2022ء میں ہی انتخابی گہما گہمی عروج پر ہوگی۔اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ بعض اداروں کی نجکاری اگلی حکومت پر ٹال دی جائے گی ۔ نجکاری کے اسی مرحلے میں جام شورو پاور کمپنی اور پاکستان ٹیکسٹائل سٹی لمیٹڈ ، اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن اور ٹیلی فون انڈسٹریز کو بھی نجی شعبہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔جام شورو پاور کمپنی کی نجی ہاتھوں منتقلی سے وہی ہوگا جو حبکو میں ہو رہا ہے۔

سرکاری اداروں اور کمپنیاں بلا شبہ حکومت پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔ وفاقی حکومت میں کل 212 ادارے ، فنڈز ٹرسٹ اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔آئی ایم ایف کے پروگرام کے مطابق ان تمام اداروں اور کمپنیوں کو 2022ء تک یا تو منافع بخش بنانا ضروری ہے یا پھر انہیں ’’ٹھکانے لگانے‘‘بیچنے کی تجویز پر عملدرآمد کرنا ہوگا اس کیلئے آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے وزارت خزانہ ایس او ای بل اور ایس او ای اونر شپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی کی تیاری میں ہما تن مصروف ہے۔ان پالیسیوں کی تیاری میں اگرچہ ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام کو شامل نہیں کیا گیا لیکن کوئی بات نہیں نتائج تو عوام نے ہی بھگتنا ہیں۔سرکاری تحقیق سے معلوم ہوا کہ ملک کو نقصان پہنچانے میں سرکاری انٹر پرائزز ہی سب سے ’’آگے ‘‘ہیں۔ 98 فیصد خسارے کا یہی ا دارے ذمہ دار ہیں۔سرکاری رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کئی برسوں سے خسارے کا شکار ہے لیکن ریگولیٹری با ڈی ہونے کے سبب اسے نجی شعبے کے حوالے کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔اسی طرح دیگر ریگولیٹری ادارے بھی حسب معمول کام کرتے رہیں گے۔

حکومت نے نجکاری کیلئے 10اداروں کو بہتر جان کر اپنی فہرست میں اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ ان کا مجموعی خسارہ 38.5ارب روپے ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی (14.8ارب روپے)، یوٹیلی سٹور کارپوریشن (5ارب روپے) اورزرعی ترقیاتی بینک (18کروڑ روپے )خسارہ ہے۔ زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری سے سنگل ڈیجٹ میں ملنے والا قرضہ 30فیصد تک کی حد تک پہنچ سکتا ہے۔جبکہ گیس کی صورتحال سے آپ پہلے ہی واقف ہیں۔ حکومت نے مستقبل کا راستہ نجکاری میں ہی ڈھونڈ لیا ہے۔ اس ضمن میں وزارت خزانہ کا سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ اور کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات جائزہ لیتی رہے گی۔سرکاری رپورٹ میں ایک بڑی دلچسپ بات درج ہے وہ یہ کہ ہر تین سال بعد پورٹ فولیو کا جائزہ لیا جائے گا۔اس سے پروگرام کی طوالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کیونکہ نجکاری کے بعد سرکار کی جانب سے پورٹ فولیو کا جائزہ لینے کا کیا فائدہ۔
سرکاری اداروں کے نقصانات کا اجمالی جائزہ:
مالی سال 2013-14ء میں204ارب روپے کا خسارہ ۔
مالی سال 2014-15ء میں 61ارب روپے کا خسارہ ،
مالی سال 2015-16ء میں 237ارب روپے کا خسارہ ،
مالی سال 2016-17ء میں 187ارب روپے کا خسارہ،
مالی سال 2017-18ء میں 286ارب روپے کا خسارہ
اور مالی سال 2018-19ء میں 143ارب روپے کا خسارہ
90فیصد خسارے کے ذمہ دار 10بڑے ادارے، محکمے اور کمپنیاں ہیں جن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، پاکستان ریلویز، پی آئی اے اور بجلی کی پیداواری اور تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کو مجموعی طور پر428ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ جبکہ دیگر 202اداروں نے 50ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

سرکار کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ان اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہوسکی۔ مالی سال 2018-19ء میں 143ارب روپے اور اس سے پہلے کے مالی سال میں 287ارب روپے کا خسارہ ناقابل برداشت ہے۔اس خسارے کی ذمہ داری کسی کو تو قبول کرنا چاہیے ۔ سیاسی حکومت کو یا پھر بیوروکریسی کو۔ سرکاری رپورٹ میں اداروں کی ناکامی کا ذمہ داری سرکاری پالیسیوں کو بھی ٹھہرایا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے ہی تیل اور گیس کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔حکومت نے ٹیرف کے بروقت اعلان کوبھی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا حالانکہ رپورٹ کے اجراء کے بعد سے پاور سیکٹر میں کئی مرتبہ نئے ٹیرف کے اعلانات کیے جا چکے ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق وفاقی حکومت ناکامی کا سامنا کرنے والے ادار ے سے جان چھڑانے کا ارادہ رکھتی ہے بالخصوص جن کا ریٹ آف ریٹرن کم ہے۔ سرمایہ کاری پر منافع مناسب حدوں کو نہیں چھو رہا۔ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔جلد یا بدیر بک جانے والے ادارو ں میں سب سے اہم ادارے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہیں۔جنہیں ری سٹرکچر کرنے کی بجائے بیچنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس مرتبہ آئی ایم ایف نے حکومت سے نجکاری کیلئے ایک ٹائم لائن منظور کرو ا لی ہے۔ لہٰذا تاخیر شاید آئی ایم ایف ہونے ہی نہ دے۔اس بارے میں ایس او ای بل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش ہوگا اور حسب معمول زبردست ہنگامہ آرائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔کیونکہ کراچی سٹیل کی نجکاری میں سندھ حکومت سب سے زیادہ مزاحمت کرے گی۔ دیگر جماعتیں بھی اس کے ساتھ ہوں گی۔اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری بھی آسان نہیں ہوگی۔کیونکہ تقسیم کار کمپنیوں کے قیام سے عوام پر پہلے ہی سے دو چار نہیں کئی درجن ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ چکا ہے۔ جتنے انتظامی اخراجات صرف واپڈا کے ہوا کرتے تھے اب یہ کمپنیاں الگ الگ اپنی اپنی حدود میں چند شہرو ں میں کئی گنا زیادہ اخراجات کر رہی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو نجکاری کی صورت میں ان کے ساتھ کچھ ایسے مربوط وعدے کرنے ہوں گے کہ وہ ملک کا حال وہی نہ کر دیں جوپہلے حبکو میں ہم دیکھ رہے ہیں اور ملک میں تین ہفتے تک پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کی صورت میں پچھلے برس بھگت چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے نجکاری کیلئے 84اداروں کو اپنی فہرست میں شامل کیا ہے جن میں واپڈا،سٹیٹ لائف انشورنس، پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان، پورٹ قاسم، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ایکسپو سنٹرز، ریڈیو پاکستان، پاک عرب ریفائنری، این ٹی ڈی سی، نیشنل سکیورٹی پرنٹنگ کمپنی، این ایف سی، نیسپاک، نیشنل بینک آف پاکستان، کراچی شپ یارڈ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، فرسٹ وویمن بینک، گوادر پورٹ اتھارٹی اور سنٹرل پاور پرچیز کمپنی بھی شامل ہے۔جناب! تصور کیجئے کہ ان کی نجکاری کے بعد ملک میں کیا ہونے والا ہے۔

اب کچھ ذکر ہو جائے محصولات کا۔جولائی سے مارچ تک کے اعداد و شمار کے مطابق باوجود کوشش کے، مارچ تک محصولات میں ٹیکس کی آمدنی کا حصہ8.3فیصد سے نہیں بڑھ سکا جبکہ نان ٹیکس ریونیو کل محصولات کا 2.7فیصد ہیں یوں مجموعی طور پر ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کے برابر ہے۔یہ ٹیکس بیس میں قابل ذکر اضافے کی نشاندہی نہیں کرتے۔ نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ شاید اضافی ٹیکسوں کی وصولی سے ہوا۔جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے تو مارچ تک قرضوں اور سود کی ادائیگی سمیت تقریباً 6808ارب روپے کے اخراجات کیے گئے جن میں سے بڑا حصہ قرضوں اور سو د کی ادائیگی پر بھی خرچ ہوا۔

ایف بی آر کی کل آمدنی میں 3395ارب رہی جن میں سے2498 ان ڈائریکٹ ٹیکسوں اور 1246ڈائریکٹر ٹیکسوں سے حاصل ہوئے ۔ ہماری حکومتیں براہ راست ٹیکسو ں میں اضافے کے باوجود براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔رواں مالی سال کے مارچ تک این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت نے صوبوں کوتقریباً 12سو ارب روپے ٹرانسفر کیے اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبوں نے ان 12سو ارب روپے سے کون سے ترقیاتی کام سرانجام دئیے۔

بجٹ کا سب سے اہم مسئلہ جسے عوام اپنے لیے نازک یا کسی حد تک خطرناک سمجھ سکتے ہیں وہ ہے خسارے کا شکار سرکاری اداروں کی نجکاری۔ حکومت پر آئی ایم ایف کا شدید دبائو ہے جس سے بچنے کیلئے وفاقی حکومت نجکاری کے پروگرام میں تیزی لانے کیلئے تیار ہے۔معاشی تاریخ کے مطابق ہر ا دارے کی نجکاری نے عوام کے جس میں جانے والی چند کیلوریز کو کم کیا ہے۔عوام حیرا ن ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہر چیز کی قیمت میں 20سے50فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔اور تو اور پولٹری فیڈ کے مطابق ایک مرغی کی تیاری میں استعمال ہونے والی فیڈ اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ ڈھائی سو روپے میں بکنے والی مرغی اب 5سو اور سوا پانچ سو میں پہنچ چکی ہے ۔ تعجب یہ ہے کہ عید کے روز چکن فروشوں کی دکانوں پر بھی قطاریں دیکھی گئیں۔ مجھے تو مستقبل کا سوچتے ہی خوف سا آنے لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں