چمن/سارہ افضل

انسانی حقوق کی آڑ میں چین کیخلاف جانیوالے ممالک کو منہ کی کھانی پڑی

عالمی سطح پر جو ممالک بہت تیزی کے ساتھ ایک مضبوط مقام اور حیثیت بنا رہے ہیں ان میں چین سر فہرست بھی ہے اور دیگر ممالک سے ممتاز بھی ہے ۔خلائی مشنز کی کامیابی ہو ، ماحولیات کا تحفظ ہو یا سرسبز ترقی کے اقدامات ، چین وقت کی رفتار کے ہم قدم ہے ۔ ملک کے اندر دیہی علاقوں کی ترقی و انفراسٹرکچر کے قیام سے لے کر عوام کے لیے صحت ،انصاف اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے تک چین ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے ۔ جہاں ایک طرف دنیا اس ترقی پر مختلف بین الاقوامی فورمز پر اس کی تعریف کر رہی ہے وہیں دوسری طرف کچھ ممالک اس سے خائف نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے چین کے داخلی امور میں مداخلت کرتے ہوئے افواہوں کے ذریعے چین کے بارے میں گمراہ کن پراپگینڈا کرتے نظر آتے ہیں۔

چین اپنی سالمیت اور خودمختاری کے بارے میں بے حد واضح اور دو ٹوک موقف رکھتا ہے وہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی خارجہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی اسی دانش مندی اور سفارتی اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے کا متمنی ہے۔تاہم بعض ممالک سفارتی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے “ایک چین “کے حساسس ترین اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ “ایک چین کا اصول” بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے،بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ قاعدہ ہے۔

تائیوان کے حوالے سے چینی حکومت کے پاس سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا جب بھی کوئی ملک اس اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے تو چین اس کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے چین کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنے اور بین الاقوامی اصول و ضوابط پر عمل درآمد کرنے کا پیغام دیتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ اور آسٹریلیا کی جانب سے تائیوان کے حوالے سے جو بیانات دیئے گئےتھے چین نے ان پر رد عمل دیتے ہوئے بالکل واضح الفاظ میں تائیوان امور میں مداخلت کو ایک چین اصول کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنی سالمیت پر کسی قسم کا کوئی سمجحھوتہ نہیں کرے گا ۔ تاہم امریکہ اور اس کے حواری تائیوان کے معاملے کو اپنی سیاسی چال کے طور پر استعمال کرنے کا ،کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے یہ اور بات کہ ہر بین الاقوامی فورم پر ” ایک چین کے اصول” کو ماننے والے ممالک کے باعث وہ منہ کی کھاتے ہیں

حالیہ دنوں ڈبلیو ایچ او کی ۷۲ ویں اسمبلی کے انعقاد کے موقع پربھی امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے تائیوان کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کے لیےاپنا پورا زور لگایا ،تاہم ماضی کی طرحاس مرتبہ بھی ڈبلیو ایچ او نے تائیوان کی انتظامیہ کو شرکت کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ یہ سال دو ہزار سترہ کے بعد مسلسل پانچواں موقع ہے کہ امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کے اجلاس میں تائیوان کے شرکت کرنے کی حمایت ناکام ہوئی ہے۔چین کے بارے میں منفی خبریں مشتہر کر کے امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی سطح پر چین کی ساکھ کو خراب کرنے اور اس کی ترقی کی رفتار کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہر مرتبہ زمینی حقائق ان کے اس پراپیگنڈے کو ناکام کر دیتے ہیں ۔ کووڈ-۱۹ کی وبا پھوٹنے کے بعد چین کو بدنام کیا گیا کہ چین نے عالمی ادارہ صحت کی سرگرمیوں میں تائیوان کو شرکت کرنے سے روکا ہے

،جس سے تائیوان کی خوشحالی کو نقصان پہنچا اور اس کے عوام کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوئیں ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وبا کے بعد چین کی مرکزی حکومت نےآبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان انسداد وبا کے تعاون کو فروغ دینے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔چائنیز مین لینڈ نے تائیوان کے طبی ماہرین کو ووہان کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور تائیوان کو انسدادِ وبا کے حوالے سے مکمل معلومات دیں ۔علاوہ ازیں ایک چین کےاصول کے تحت چائنیز مین لینڈ نے عالمی صحت کے امور میں تائیوان کی شرکت کا اہتمام کیا ۔غیرمکمل اعدادوشمار کے مطابق سال دو ہزار بیس سے تائیوان کے طبی ماہرین نے سولہ دفعہ عالمی ادارہ صحت کی سرگرمیوں میں شرکت کی ۔تائیوان علاقے اور عالمی ادارہ صحت کے درمیان رابطہ ہموار ہے تاکہ تائیوان علاقہ بروقت کووڈ-۱۹ کی ویکسین کے حوالے سے تازہ معلومات حاصل کرے ۔ اس لیے یہ دعوی تو سراسر جھوٹ ہے کہ چین ، انسدادِ وبا کے سلسلے میں تائیوان کے لیے تعاون اور مدد کی راہ میں رخنہ اندازی کر رہا ہے البتہ یہ بات اہم اور قابلِ غور ہے کہ تائیوان علاقے کو انسداد وبا میں بقول امریکہ ، جو مشکلات درپیش ہیں ان کو حل کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے کوئی عملی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ امریکہ نے ابھی تک تائیوان کو کوئی ویکسین فروخت نہیں کی ہے۔

چوبیس مئی کو “عالمی ادارہ صحت میں تائیوان کی بطور مبصر شرکت کی تجویز” کو مسترد کیے جانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ایک چین کے اصول کو چیلنج کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی کی ہر سازش ناکام ہوگی۔چین کے تائیوان علاقے کی عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں شرکت کا بنیادی اصول “ایک چین ” کے اسی اصول کے مطابق ہونا چاہیے،جس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد اور عالمی ادارہ صحت کی کانفرنس کی قرارداد نے تصدیق کی ہے۔عالمی برادری اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے کل 194 اراکین ہیں جن میں تائیوان کی کانفرنس میں شرکت کے لیے حمایت کرنے والوں کی تعداد بیس سے کم ہے۔

عالمی معاملات کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ جو چین کے داخلی امور کے بارے میں نصیحتیں کرتے ہوئے ، انسانی حقوق، انصاف اور مساوات کے اصول سمجھا رہا ہے خود اس کا اپنا کردار عالمی سطح پر پسند نہیں کیا جا رہا۔ مئی میں فلسطین -اسرائیل تصادم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا انعقاد ہوا ۔ کانفرنس میں دو نوں اطراف سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کو انصاف کے مطابق، صورتحال کی بہتری، اعتماد کی تعمیرنو، اوراس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی حمایت کرنی چاہیے اور ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔اس کانفرنس میں خصوصی طور پر امریکہ کا ذکر اس لیے کیا گیا کیونکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان یہ سنگین تنازعہ، اصل میں امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ سے متعلق اس کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔ امریکہ نے کئیمرتبہ بین الاقوامی امن و انصاف کی حد کو پار کیا ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے.

موجودہ تصادم کے بعد، امریکی حکومت نے ثالثی کے بجائے اسرائیل کی جارحیت کو ناصرف نظر انداز کیا بلکہ اسرائیل کی جانب اس کا جھکاو بھی بالکل واضح تھا۔ حالانکہ خود امریکی صحافیوں نے اس حوالے سے سخت سوالات پوچھے جن کے انہیں تسلی بخش جوابات نہیں دیئے گئے بلکہ ان سوالات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی ۔فلسطین۔ اسرائیل تنازعےمیں اب تک کئی سو فلسطینی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں ۔ اسرائیلی جارحیت نے رہائشی عمارتوں ،ہسپتالوں ، اسکولز کو ملیا میٹ کر دیا ۔ایسی المناک انسانی صورتحال میں امریکہ نے کیا کیا ہے ؟

امریکہ نے نا صرف جانب دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے بلکہ سلامتی کونسل میں تین مرتبہ فلسطین۔ اسرائیل جنگ بندی اور تشدد کے خاتمے کے حوالےسے مشترکہ بیان کی منظوری میں بھی اپنی ویٹو کی طاقت کا استعمال کر کے امن عمل میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ مزید یہ کہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو ۷۳۵ ملین ڈالر مالیت کے پی جی ایم ہتھیار فروخت کرے گا۔اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سنکیانگ کے لوگوں کی حالت پر جھوٹی کہانیاں گھڑ کر ٹسوے بہانے والا ، ہانگ کانگ میں اظہارِ رائے کی آزادی کے غم میں گھلنے والا اور تائیوان و تبت کا درد رکھنے والا امریکی ضمیر ، فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ میں ناصرف سویا ہوا ہے بلکہ دوسروں کو اخلاقیات و انسانی حقوق کا درس دینے والا امریکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔انسانی جان و مال کے اس تمام زیاں میں امریکہ بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا کہ اسرائیل ۔

درحقیقت ، بالادستی کے جنون کا شکار امریکہ، ایک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں اپنا سیاسی کھیلکھیل رہا ہے۔ افغانستان ، عراق ، شام اور دوسرے ممالک میں امریکی اقدامات لاکھوں مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنے اور لاکھوں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی گئی ہے۔ ملائیشین “نیو اسٹریٹس ٹائمز” نے حال ہی میں نشاندہی کی ہے کہ عراق اور افغانستان میں ، متعدد امریکی صدور اور اعلی سرکاری عہدے داران پر نا صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بلکہ جنگی جرائم کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ تو پھر امریکہ دوسرے ممالک کو انسانی حقوق کا درس کس طرح سے دے سکتا ہے؟ اور وہ بھی اس صورت میں کہ وہ ان کے داخلی معاملات اور زمینی حقائق سے مکمل طور پر ناواقف ہو ،

جب کہ خود وہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر بھی آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے کہ جن پر تمام مہذب دنیا چیخ اٹھی ہے۔ امریکہ کسی بھی اعتبار سے انسانی حقوق کا محافظ نہیں ہے بلکہ وہ ” انسانی حقوق ” کو صرف اور صرف پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کر کے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات کو الجھانے اور انہیں کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے عراق، شام ، افغانستان اور اب فلسطین کے حالیہ تنازعے کی مثال سب کے سامنے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں