نقطہ نظر/خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ

آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات، عوام کے نام پیغام:(پہلا حصہ)

گوکہ سیاسی موضوعات پر تبصرے اور سیاست سے لگن جموں کشمیر کے تمام اطراف و اکناف کے باشندگان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے لیکن الیکشن میں یہ لگن یا شوق جنون کی صورت اختیار کر جاتا ہے جس کے باعث ہم اپنے رشتوں کے تقدس تک کو بھول جاتے ہیں جو کہ ظلم ہے۔

الیکشن سے بعد دوسرے الیکشن تک کے 4 سال اور تقریباً 10 ماہ کا عرصہ کسی کو برادری ازم، سیاسی جماعت، تعصب، کینہ، لڑائی جھگڑا (سیاسی بنیادوں پر)، الجھاؤ نہیں یاد رہتا بلکہ ایک گاؤں میں جنازہ یا شادی کی تقریب ہو تو راجپوتوں کی شادی میں گوجر ہاتھ بٹاتے نظر آتے ہیں اور گوجروں کے جنازوں میں راجپوت، مغل، پٹھان، جاٹ اور دیگر تمام قبائل کے لوگ پتھر اور گارا اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ آنے والے مہمانوں کو اپنا مہمان سمجھ کر ان کی خاطر تواضع کرتے نظر آتے ہیں۔

اپنے گھروں سے کھانے پکا کر دوسروں کے گھروں میں پہنچاتے اور رات کو اجتماع اور محفل کی صورت میں فوتیدگی یا شادی والے گھر کے غم اور خوشی میں بالترتیب شامل ہوتے ہیں۔ اور ہمارے سیاسی قائدین سال میں ایک مرتبہ کہیں سیاسی فاتحہ خوانیاں کرتے ہیں اور وہ بھی اس کے گھر جو گاؤں کا کرتا دھرتا یا وڈیرا کہلاتا ہو، عام آدمی اس سعادت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔

مگر ایسی کونسی قیامت الیکشن کے دنوں میں آ ٹپکتی ہے کہ جو ہماری اس محبت اور احساس بھرے تعلقات اور جذبات کا خون کر دیتی ہے۔ جس کے باعث ہماری تمام اقدار کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور جس سیاسی راہنما کی خاطر ہم اپنے معاشرتی اور محبت بھرے رشتوں کو خراب کرتے ہیں ان سیاسی راہنماؤں کو آپ کے کسی بھی مسئلہ یا پریشانی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ ہوتی ہے کہ ہمارے ان جذبات کی خبر تک نہیں ہوتی ان سیاسی راہنماؤں کو دوسری بات یہ کہ ان سیاسی راہنماؤں کو ہم میں سے اکثریت کے نام تک کی واقفیت نہیں ہوتی، تیسری یہ کہ اگر آپ پر کوئی مصیبت یا مشکل آن ٹپکے تو یہ سیاسی قائدین میرا اور آپ کا فون تک نہیں سنتے۔ تو میری دھرتی کے غیور اور احساس بھرے لوگو آپ ان سیاسی قائدین کیلئے اپنے نسب در نسب اور نسل در نسل رشتوں کو کیوں اپنے ہاتھوں ذبح کرتے ہیں۔

میں تو یہ کہوں گا کہ مجھے ہر سیاست سے عزیز اپنے گاؤں، محلے اور علاقے کا ہر وہ سید، راجہ، گجر، مغل، پٹھان، شیخ، قریشی، ہاشمی، اعوان بشمول تمام دیگر قبائل کا ہر وہ شخص ہے جس سے میرا روزمرہ کا تعلق ہے۔ مجھے جب تکلیف پہنچے تو میرے غم میں برادریوں کی قید سے بالاتر ہو کر جو شخص شامل ہوتا ہے یا جب میری اور میرے خاندان کی خوشی کا موقع ہو تو میرے علاقے کا ہر وہ فرد شامل ہوتا ہے کہ جس سے ہمارا علاقے اور گاؤں کا تعلق ہے۔ اگر اس وقت ہماری خوشی اور غم میں کوئی سیاست، کوئی سیاسی لیڈر، کوئی نظریہ، کوئی برادری ازم، کوئی وابستگی حائل نہیں ہوتی تو پھر الیکشن کے دو مہینوں میں ہم اپنا تعلق کیوں خراب کریں، ایک دوسرے کے دشمن کیوں بنیں، ایک دوسرے کو گالی کیوں دیں، ایک دوسرے سے لڑائی کیوں کریں۔

ان تمام حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آئیے آج ہم کر عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی سیاست کو دوسرے پر مسلط نہیں کریں گے، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دشمنی نہیں کریں گے، اپنا ووٹ اپنی مرضی سے ڈالیں گے، دوسروں کی رائے کا احترام کریں گے، ووٹ برادری ازم کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت کی بنیاد پر دیں گے۔ ہم یہ الیکشن کے 2 ماہ بھی ویسے ہی گزاریں گے کہ جیسے باقی 4 سال اور 10 ماہ گزارتے ہیں۔ ہم اپنے علاقے اور اپنے گاؤں کی فضا سوگوار نہیں ہونے دیں گے، ہم اپنے رشتوں کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ ہم سیاست کو نئی طرح کی برداشت اور عزت کی روح دے کر ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔

سب برادریاں ایک ہیں، سب علاقہ ایک ہے، سب باشندگان علاقہ بھائی ہیں۔ دیکھیے پھر نظام سیاست کتنا خوبصورت ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں