افادات/پیرعلی رضابخاری,ایم ایل اے

آزاد کشمیر انتخابات:ضابطہ اخلاق کی پابندی ناگزیر

آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری روایات کے مطابق آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آزاد جموں وکشمیر نے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2021کے لئے شیڈول کا اعلان کر دیاہے ۔آزادکشمیر میں عام انتخابات 25جولائی 2021بروز اتوار ہوں گے۔ ان انتخابات میں 45براہ راست مُنتخب ہونے والے اراکین قانون ساز اسمبلی کے لیے آزاد کشمیر سے اٹھائیس لاکھ سترہ ہزار نوے ووٹرز اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان سے چار لاکھ دو ہزار چار سو اکتالیس ووٹر ز حق رائے دہی استعمال کریں گے-

جمعرات کے روز چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں وکشمیر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریا نے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا۔ سینئر ممبر الیکشن کمیشن راجہ محمد فاروق نیاز اور ممبر فرحت علی میر بھی موجود تھے۔ شیڈول کے مطابق ریٹرننگ آفیسرز کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 21-06-2021بوقت 4بجے شام تک ہو گی۔کاغذات کی جانچ پڑتال 22-06-2021صبح 8:00بجے سے لے کر تا اختتام جانچ پڑتال،نامزد امیدواران کی فہرست کی اشاعت 22-06-2021پڑتال کے فوراً بعد،الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے پاس کا غذات نا مزدگی کی قبولیت یا مستردگی کے خلاف اپیل 27-06-2021شام 2بجے سے پہلے،الیکشن کمیشن کی طرف سے اپیل ہا کی سماعت 28-06-2021تا29-06-2021صبح 9بجے سے شام4بجے تک،اپیل ہا کے فیصلہ جات 30-06-2021تا01-06-2021،کاغذات نامزدگی کی واپسی 02-07-2021شام 2بجے سے پہلے،مد مقابل امیدواران کی فہرست کی اشاعت 03-07-2021،انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 04-07-2021 شام 2بجے سے پہلے،امیدواران کی حتمی فہرست کی انتخابی نشانات کے ساتھ اشاعت 04-07-2021،پولنگ کی تاریخ 25-07-2021صبح 8بجے سے شام 5بجے تک ہو گی۔

آزاد جُموں کشمیر میں تمام سرکاری ونیم سرکاری محکمہ جات، خُودمختیار اداروں اور سپیشل انسٹیٹیوشنز میں نئی تقرریوں، تبادلوں، ترقیابیوں اور ماموریوں پر مُکمل پابندی ہو گی۔ ناگزیر صورت میں اگر حکومت کوئی تقرری یا تبادلہ ضروری سمجھتی ہے تو اس نسبت الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے سے قبل تمام امیدواران کو اپنی مُنقولہ و غیر مُنقولہ جائیداد، ذاتی آمدن و اخراجات کے تفصیلی گوشوارے آ زاد جموں وکشمیر الیکشنز ایکٹ 2020 کی دفعہ78کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا کر رسید حاصل کرنا ہو گی۔

جو نامزدگی فارم کے ساتھ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کروانا ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہ عام انتخابات کے آزادانہ و مُنصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے حالیہ قانون سازی کی منشاء کے مطابق ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ جس کی پاسداری ہر اُمیدوار، سیاسی جماعتوں، حکومتِ وقت اور رائے دہندگان پر لازم ہو گی۔ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، معائنہ کرنے، سنگِ بنیاد رکھنے، افتتاح اور ترقیاتی فنڈز کے خلاف خریداریوں پر بھی پابندی ہو گی۔ کسی بھی امیدوار کے حق میں یا خلاف کسی بھی قسم کے سرکاری وسائل کا استعمال انتخابی قواعد کی خلاف ورزی ہو گی۔

سیکرٹری سروسز اس امر کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے کہ کوئی بھی سرکاری گاڑی کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم میں استعمال نہ ہو۔ جلس عام و جلُوس نیز لاؤڈ سپیکر کے استعمال اور کپڑے یا پینا فلیکس کے بڑے بینرز اور ہور ڈِنگز پر پابندی ہو گی۔ اُمیدواران شائستہ طریقے سے احاطہ یا چاردیواری کے اندر کارنر میٹنگز کر سکتے ہیں-

اب جبکہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کے لئے سیاسی بنیادوں پر تعینات تمام بلدیاتی اداروں بلدیہ و ضلع کونسلز کے ایڈمنسٹریٹرز ،کشمیر لبریشن سیل میں لگے کوآرڈینیٹرز، ملازمین ،اور مشیروں کو فی الفور فارغ ہونا چاہئیے اس ضمن میں ایڈمنسٹریٹرز اگرچہ فارغ کیے جا چکے مگر دیگر لوگ بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے تھے ان کو بھی فارغ کیا جانا چاہئیے یہ تمام لوگ ن لیگ کے عہدے دار ہیں اور پوری طرح انتخابی سیاست میں ملوث ہیں۔ الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں میں اس حوالے سے گہری تشویش اور اضطراب پایا جاتا ہے الیکشن کمیشن اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔

اس وقت تمام وزیر ،مشیر اور صوابدیدی عہدوں پر فائز افراد سرکاری گاڑیاں اور وسائل ن لیگی امیدواروں کی الیکشن مہم چلانے پر استعمال کررہے ہیں جو دھاندلی کے زمرے میں آتی ہے۔ سرکار کے پاس وسائل عوام کی امانت ہیں اور عوام کے ٹیکسوں کی رقم ہے جس پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے فوری ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ تحریک انصاف توقع کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

دوسری طرف الیکشن ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ مشاہدے میں آ رہا ہے کہ حکمران جماعت سب سے زیادہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے جس پر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت تمام اداروں کو نیوٹرل ہو جانا چاہئے تاکہ الیکشن میں سب کو ایکول پلےنگ کنڈیشنر دستیاب ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں