پیاس/سید مظفرحسین بخاری

شہیدِ صحافت ڈاکٹر شجاعت بخاری،وہ آسمان تھا مگر سرجھکا کے چلتا تھا

سید شجاعت بخاری شہید کشمیریوں کی توانا آواز تھے۔بھارتی فوج نے انہیں شہید کر کے ریاست کو اسکے انتہائی ذہین بیٹے سے محروم کر دیا۔
کوئی نہیں لگا سکا اس کے قدکا اندازہ
وہ آسمان تھا مگر سرجھکا کے چلتا تھا
تیرے قلم نے چیر کر رکھ دیا باطل کا کلیجہ
کفار کا ہر فرد تیری شجاعت سے کانپ رہا تھا
شجاعت بخاری نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے خاص طور پر کشمیریوں کی مشکلات کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اخبار رائزنگ کشمیر کے چیف ایڈیٹر اور نامور کشمیری دانشور سید شجاعت بخاری 14جون 2018 کو روزے کی حالت میں افطاری سے تھوڑی دیر قبل سری نگر کے میڈیا انکلیو میں اپنے دفتر کے قریب نامعلوم دہشتگردوں نے شہید کردیا تھا۔
شجاعت بخاری کا یہ وہ آخر ٹویٹ ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو اقوام متحدہ میں اجاگر کیا تھا اس رپورٹ پربھارتی ایوان میں آگ لگ چکی تھی ۔

سید شجاعت حسین بخاری کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی طرف سے جاری اس رپورٹ سے چند گھنٹے قبل شہید کیا گیا جس میں اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی فوری بین الاقوامی انکوائری کرنے پر زور دیا تھا۔ 14جون 2018ء کو 49 صفحات پر مشتمل اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکوانے اور سات دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار کشمیریوں کو فوری انصاف دلانے پر زور دیا گیا تھا۔ شجاعت بخاری نے کشمیریوں کیلئے اچھی زندگی کے حصول کی جدوجہد میں اپنی جان دےدی،ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا جس نے اپنے خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کی۔۔ وہ ایک وطن پرست کشمیری تھے اور ان کی تحریروں سے ان کی شجاعت اور صاف گوئی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل اور کشمیریوں کی موجودہ آبرومندانہ زندگی اور خوشحال مستقبل ان کی دلی خواہش تھی۔

ڈاکٹر سید شجاعت بخاری کی شہادت کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے اور ان کی شہادت سے کس طبقہ کو فائدہ یا نقصان پہنچا، یہ بات غور طلب ہے۔ 90 کی دہائی سے ہی مقبوضہ کشمیر میں ایسے افرادکو چن چن کر نشانہ بنایا گیا جنہوں نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند کی اور کشمیری عوام کے حق میں بات کی۔ جو اقتدار کے بھوکے اور مفادات کی خاطر کشمیر کاز کے خلاف رہے ہیں۔ وہ خود تو سخت حفاظتی حصار میں موج کرتے رہے مگر کبھی وادی گلپوش میں ہورہے مظالم، مار دھاڑ اور قتل و غارت گری کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی۔ بلکہ آواز اٹھانے والوں کو مختلف ذرائع سے تہہ تیغ کیا گیا اور صفحہ ہستی سے مٹایا گیا۔ ڈاکٹر شجاعت بخاری کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت قتل کیا گیا، ان کا قتل ایک حادثاتی موت نہیں تھی۔ اس سازش کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا؟ ہنوز یہ ایک معما بنا ہوا ہے۔

جن عظیم کشمیری شخصیات کو بھارت نے نشانہ بنایا ان میں مولانا مولوی محمد فاروق، قاضی نثار، عبدالغنی لون، ڈاکٹر عبدالاحد گورو، ایڈوکیٹ پیر حسام الدین، محمد صدیق ڈار، ایڈوکیٹ جلیل اندرابی، شیخ عبدالعزیز سمیت درجنوں ایسی ہستیاں جو کشمیری قوم کا دکھ اور درد اپنے سینے میں لئے ہوئے تھیں، کو جرم بے گناہی میں شہید کیا گیا۔ اور یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جا رہا ہے جس میں ایک اور نام کا اضافہ ہوا، شہیدِ صحافت ڈاکٹر شجاعت بخاری جس کو عین افطار کے وقت اپنے دو محافظوں سمیت گولیوں سے چھلنی کر کے منصب شہادت پر فائز کر دیا گیا۔

وادی کشمیر میں آج تک جن ہستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا، ان کے قتل کی سازش اور ان ہلاکتوں میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے میں پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ناکام کیوں ہوئیں، یہ بذات خود ایک پہیلی ہے؛ اور اس پہیلی کو سلجھانے والے خود ہی ایک پہیلی بن جاتے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر شجاعت بخاری کا قتل بھی فی الحال ایک پہیلی ہی ہے کیوں کہ ابھی تک پولیس اس حوالے سے کچھ بھی کہنے کی موڈ میں نہیں ہے۔ وادی میں کسی بھی جگہ اس طرح کا کوئی حادثہ جب پیش آتا ہے تو پولیس دن رات ایک کرکے ملوث عناصر کو بے نقاب کرتی ہے، لیکن ڈاکٹر شجاعت بخاری اور ان جیسی دیگر ہستیوں کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں پولیس ہمیشہ سے ہی ناکام رہی ہے۔ آج تک کسی بھی بڑی شخصیت کے قتل کے پیچھے سازش کا پردہ فاش نہیں کیا جاسکا۔

ڈاکٹر شجاعت بخاری ایک ایسے صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ سے ہی کشمیر اور کشمیریوں کے حق میں بات کی۔ وہ جہاں بھی گئے انہوں نے کشمیر میں ہورہے ظلم و جبر اور مار دھاڑ کے خلاف آواز اُٹھائی۔ شجاعت بخاری مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے متمنی تھے۔ وہ اس تنازعہ کو ہمیشہ کےلیے حل کرنے کی وکالت کرتے تھے۔ اگرچہ مرحوم کے برادر مین اسٹریم جماعت سے وابستہ ہیں اور ریاست جموں و کشمیر کی سابقہ مخلوط سرکار میں بحیثیت ریاستی وزیر تھے، تاہم شجاعت بخاری کے خیالات اپنے برادر کے خیالات سے بالکل جدا تھے۔ وہ بیباک اور بے خوف صحافت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے اپنے صحافتی پیشے سے ہمیشہ انصاف کیا۔ وہ قلم کو بندوق سے بھی زیادہ تیز چلاتے تھے اور اس مظلوم قوم کی داد رسی کےلیے اپنے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ ریاست جموں و کشمیر کی سیاست کے حوالے سے وہ ہمیشہ غیر جانبدار رہے ہیں۔

وادی کشمیر میں جاری یہ خونی کھیل آخر کب ختم ہوگا؟ کب اس چمن میں پھر سے بہار آئے گی اور بارود کی بو کے بدلے پھولوں کی خشبو ایک بار پھر وادی کو معطر کرے گی۔ کب تک ہم اپنے پیاروں اور اپنے ہمدردوں کے جنازے کاندھوں پر اُٹھاتے رہیں گے۔ کب تک ماؤں کی گود سونی ہوتی رہے گی۔ کب تک خواتین بیوائیں اور بچے یتیم ہوتے جائیں گے۔ اس خونی کھیل کا آخرخاتمہ کب ہوگا؟ بین الاقوامی اور اسلامی ممالک ہماری آہ و زاری سے بے خبر کیوں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی مددگار کب آئے گا جو ہمیں اس ظلم سے آزادی دلائے؟ آخر اللہ تعالیٰ کی فتح ونصرت کب آئے گی؟

سید شجاعت بخاری نے کشمیر میں پائیدار امن اور کشمیریوں کی باوقار زندگی کی خواہش کو ہمیشہ ان کے افکار میں مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اس سے پہلے بھی کئی نامور کشمیری شخصیات کو شہید کرچکی ہے لیکن وہ ان گھناؤنے و ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبا سکتی۔ علی رضا سید نے اپنے بیان میں شجاعت بخاری کے قتل کیس کی تحقیقات اب تک بے نتیجہ ہونے پر افسوس ہے اس کیس میں انصاف دلانے کے لیے بین الاقوامی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل عام، بے شمار لوگوں کی گرفتاری اور خاص طور پر حالیہ دنوں کورونا وائرس کی آڑ میں ظلم و ستم اور سخت پابندقابل مذمت ہیں۔ کشمیری ایک طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جس کا وعدہ خود بھارت نے ان سے کیا تھا۔عالمی برادری کشمیریوں پر مظالم بند کرائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

رائزنگ کشمیر کے چیف ایڈیٹر کے طور پران کا قلمی جہاد تمام ریاستی اخبارات کیلئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرتی ایسے بیٹے کم ہی پیدا کرتی ہے جو اسکا فخر بن جاتے ہیں. سید شجاعت بخاری کو خاص اس دن نشانہ بنایا گیا جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ آئی تھی جس میں شجاعت بخاری اور دیگر دوستوں کا بڑا کردار تھا۔سید شجاعت بخاری کی صحافتی خدمات اور خاص طور پر ریاست کے دونوں جانب کے صحافیوں کو اکٹھا کرنے کی ان کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے جب بھی آزادکشمیر کا دورہ کیا وہ ریاستی اخبارات اور قومی اخبارات کے ساتھ خصوصی انٹیرکشن کرتے تھے جس کے دوران وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی تحریک کو مختلف پہلووں سے اجاگر کرتے تھے۔بھارتی فوج اور اسکے کارندوں نے انہیں اسوقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے اخبار کے دفتر سے باہر نکل کر گھر جا رہے تھے۔شجاعت بخاری شہید کا مشن جو مقبوضہ کشمیر کی بھارتی غلامی سے آزادی تھا ہر حال میں پورا کیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں