مکافات عمل ۔۔ آہ ! صغیر چغتائی”

تحریر : ابو بکر راٹھور

گمان اچھا رکھو تو نتیجہ بھی اچھا ہی رہے گا ۔ یہ کلمئہ تسلی دو دن سے ایک “مکرر نشریات” کے طور پر دماغ میں گونج رہا ہے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ پیغام میرے لیے ہے یا آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایتی افراد کے لیے ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے آیندہ الیکشن کے لیے پچیس جولائی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ پچیس جولائی کی تاریخ اتنی غیر اہم اور قدیم بھی نہیں کہ یاداشت سے مٹ جائے ۔ تین سال قبل اسی تاریخ کو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے اور نتیجے میں تحریک انصاف کو برتری حاصل رہی ۔

بائیس سالہ طویل کوشش اور انتظار کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ۔ پاکستان میں الیکشن سے قبل تحریک انصاف کے بیانات اورمنصوبے یا ان تین سالوں میں تحریک انصاف کی کارکردگی میرا موضوع نہیں ۔ مجھے تو بس یہی خیال ستائے جا رہا ہے کہ آیا پچیس جولائی صرف عددی مماثلت ہے یا اس کے پس پردہ حقائق یا آیندہ کے نتائج بھی کچھ مماثلت رکھتے ہوں گے ۔ علم الاعداد کے ماہرین اس پر رائے دینے کے اہل ہیں کہ حقیقت میں بھی ایسا کچھ ہے یا صرف سیاسی محفلوں کو آباد  رکھنے کے لیے مفروضات اور قیاس آرائیاں ہیں ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے جمعے کا دن نون لیگ کے لیے اچھی خبر نہیں لایا ۔ ایک وقت میں تو یہ صورت حال ہو گئی تھی کہ جمعہ مبارک کا میسج بھیجنے پر نون لیگ کے دوست ناراضگی کا اظہار کرتے تھے ۔ نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن ریاست کے سابقہ الیکشن کے نتائج کی صورت میں ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ “ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے ، جعلی ہو یا اصلی” کی طرح “وفاق تو وفاق ہوتا ہے ، کمزور ہو یا مضبوط”

زندگی بے رحم سہی لیکن حضرت انسان اس سے دو قدم بڑھ کر بے رحم ہے ، جو خود پر بھی رحم کرنا نہیں جانتا ۔ ہم اگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے ہوئے حقائق کو نظر انداز کرنے لگیں اور کبوتر کی طرح یہ سمجھنے لگیں کہ بلی نقصان نہیں پہنچائے گی تو کوئی ہمیں روک نہیں سکتا ۔ ہمارے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مثالیں لائی جائیں اور ہمیں سمجھایا جائے لیکن ہم نہ سمھجنا چاہیں تو کوئی ہمیں نہیں سمجھا سکتا ۔ وہ سیانے کم ہی ہیں جو لوگوں کے تجربات اور کتاب لکھی باتوں سے سمجھ جاتے ہیں ۔ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل آزاد کشمیر کے ایک سابق وزیراعظم نے وفاق میں حکمران سیاسی جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ جماعت کے مرکزی قائد کے طور پر ان کی پہچان ہونے لگی ۔

دوسری طرف ان کی شمولیت کے بعد جماعت کے دیرینہ کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور بے اعتمادی کی فضا قائم ہونے لگی جس کا مداوا اس جماعت نے ٹکٹوں کی تقسیم میں طویل مشاورتی اجلاس منعقد کر کے کیا ۔ کئی مہینوں پر پھیلے اس مشاورتی سلسلے میں کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے تو ان لوگوں کو بطور امیدوار سامنے لایا جائے جو طویل جدوجہد میں ساتھ رہے ہیں ۔ سابق وزیراعظم صاحب جو پھر سے  وزارت عظمیٰ کے خواب آنکھوں میں سجائے انتخابی معاملات میں مصروف تھے اس طرف توجہ نہ دے سکے کہ ایک اور مشہور کاروباری و سماجی شخصیت نے بھی آیندہ انتخابات میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان کے لیے یہ اعلان اس لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا کہ ان نئے شریک کار نے بھی ان کی جماعت کا ہی انتخاب کیا تھا ۔

کچھ ہی دنوں میں یہ واضح ہو گیا کہ نئے آنے والے رہنما کے حمایتی امیدواران کی فہرست سابق وزیراعظم کے حمایتی امیدواران کی فہرست سے لمبی ہے ۔ اب یہاں سے کہانی میں جذباتی موڑ آتا ہے ۔ وہ خواب جو کل تک آنکھوں کی زینت تھے ، آج وہی خواب ان آنکھوں کو بوجھل اور بے چین کیے ہوئے ہیں ۔ وزارت عظمیٰ کی مسند کل تک ان کی مسکراہٹ کا سبب تھی اور آج بےچینی کی وجہ بھی وہی ہے ۔ فلیش بیک میں چلیں تو کہانی بتاتی ہے کہ یہ مکافات عمل ہے ۔ عرصہ قبل ان صاحب نے وزارت عظمیٰ کے لیے جو راستہ متعارف کرایا تھا آج نیا مسافر اسی راستے پر چل رہا ہے اور منزل کے قریب سے قریب تر ہو رہا ہے ۔ سابق وزیراعظم صاحب شاید نہ مانیں لیکن سچ یہی ہے کہ درویش صفت سابق مرحوم وزیراعظم سے جو اخلاقی بددیانتی انھوں نے کی تھی ، آج انھیں اسی کا سامنا ہے  اور اسے مکافات عمل کہتے ہیں ۔اختر حسین جعفری کی ایک نظم ہے “ایذرا پاؤنڈ کی موت پر” ۔ انھوں نے یہ نظم اس مشہور زمانہ خاتون کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھی تھی ۔

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں
انتظار بہار بھی کرتے
دامن چاک سے اگر اپنے
کوئی پیمان پھول کا ہوتا
آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں
دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی
دہر میں کوئی نو بہار نہیں

آج امیدوار قانون ساز اسمبلی صغیر چغتائی کی موت کی اچانک اطلاع نے کہیں کا نہ رہنے دیا ۔ آپ قانون ساز اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق چند دوستوں کے ساتھ جس گاڑی میں سوار تھے وہ گاڑی دریا میں ڈوب گئی ۔ تا دم تحریر دریا میں گاڑی اور مسافران کی تلاش جاری ہے ۔ دکھ یہ ہے کہ صغیر چغتائی رنگین پھولوں کے موسم میں جدا ہوئے ہیں لیکن یہ پھول تو ان کے چاہنے والوں نے ان کے استقبال کے لیے چن رکھے تھے جو اب قبر پر پھیلائے جائیں گے ۔ پھولوں کی قسمت کہ گلے کا ہار نہ بن سکے ۔ رہے نام اللہ کا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

اپنا تبصرہ بھیجیں