پاکستان کو تیل، ایل این جی درآمد کیلئے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی سہولت مل گئی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان نے خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی درآمدی لاگت کو پورا کرنے کے لیے جدہ کے اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن سے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی ٹریڈ فنانسنگ فیسِلیٹی حاصل کرلی۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ فنانسنگ فریم ورک سمجھوتے کا باضابطہ معاہدہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔مذکورہ فنڈز سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے فنانسنگ پلان کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔

ٹریڈ فنانسنگ کا یہ سمجھوتہ وزارت اقتصادی امور کی جانب سے مہمند ڈیم، کوئلے سے چلنے والے چند منصوبوں کے علاوہ کچھ ہائیڈروپاور منصوبوں کے لیے سعودی فنڈ فار ڈیلپمنٹ کے ساتھ ہونے والے 53 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے سمجھوتے کے علاوہ ہے۔

آئی ٹی ایف سی کی فنانسنگ کو آئندہ 3 برس کے عرصے میں پاک-عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی پی ایل) خام تیل، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی درآمد کرنے کے علاوہ ملک کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر بہتر بنانے اور تیل کا درآمدی بل پورا کرنے کی غرض سے وسائل کی فراہمی کے لیے استعمال کریں گے۔

آئی ٹی ایف سی اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا ایک رکن ہے جو مشرق وسطیٰ میں مالیاتی اداروں سے فنڈز اکٹھے کر کے رکن ممالک کو ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے رواں برس کے لیے سال 2020 میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی ٹریڈ فیسلیٹی پر دستخط کیے تھے لیکن اسے تیل کی قیمتوں میں کمی، پاکستان میں کم طلب اور عربین خام تیل حاصل کرنے میں ریفائنیز کی حدود کے باعث مکمل استعمال نہیں کیا جاسکا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ فنانسنگ فیسلیٹی کے لیے فنانسنگ کی لاگت موجودہ فیسلیٹی سے کم ہے جس کی وجہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کووِڈ 19 کی وجہ سے محدود کاروباری سرگرمیوں کے باعث سرپلس لیکویڈیٹی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ دونوں فریقین خام تیل، تیل کی مصنوعات اور ایل این جی کی موجودہ پائپ لائنز کے علاوہ ڈی اے پی فرٹلائزر کو شامل کر کے زرعی اجناس کو بھی کوَر کرسکتے ہیں۔

سال 2018 سے قبل آئی ٹی ایف سی فنانسنگ صرف پاک عرب ریفائنری کے لیے دستیاب تھی جسے 2018 میں پاکستان اسٹیٹ آئل تک کے لیے توسیع دے دی گئی تھی۔

گزشتہ برس پی ایل ایل کو بھی پہلی مرتبہ سمجھوتے میں شامل کیا تھا۔آئی ٹی ایف سی کا ذاتی تقریباً ایک ارب ڈالر کا محدود پورٹ فولیو ہے اور اس کی ٹریڈ فیسلیٹی حاصل کرنے والوں میں انڈونیشیا، مصر اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔

اس سہولت سے تیل اور گیس کے درآمدی بل میں ریلیف اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں