افغانستان کی صورتحال پیچیدہ،مفادات کا ٹکراو خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے، عالمی مصالحتکار فیصل محمد

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک ) افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد جو سیاسی خلاء پیدا ہوا ہے اسے پر کرنے کے لیئے اگر عالمی برادری مخلص کوششیں کرے تو وہاں امن قائم ہوسکتا ہے لیکن اپنی اپنی پسند کےدھڑوں کی حمایت حالات کو پیچیدہ کردی گئی ہے،

ان خیالات کا اظہار بین القوامی تنازعات میں ثالثی کے عالمی ماہر فیصل محمد نے ایران ٹی وی SAHR سے خصوصی گفتگو میں کہی انھوں نے کہ طالبان کا اصل مقصد اسلامی حکومت کا قیام ہے تو اس پر تمام افغان عوام اور دھڑوں کو اعتماد میں اگر صرف طاقت کے استعمال سے افغانستان کا کنٹرول حاصل کیا گیا تو طالبان حکومت تو بنا لیںنگے لیکن وہ پائیدار نہیں ہوگی

انھوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں تاجکستان اور ازبکستان میں افغان ایشو پر بیٹھک ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھی افغانستان میں اپنے اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں انھوں نے کہا کہ افغانستان میں ماضی کے بلنکن فارمولہ کو ہی آزمایا جارہا ہے تاہم اسے روس اور چین نے “موڈیفائڈ” کیا ہے

انھوں نے کہا اس حوالے ایران پاکستان اور چین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں انکا کہنا تھا کہ افغان امن کے حوالے سے پاکستان کی کوشیش قابل تعریف ہیں ازبکستان میں اس حوالے سے پاکستانی وزیرآعظم کی ملاقاتیں اور اسلام آباد میں ہونے والے افغان مذاکرات بھی خوش آئند ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں