ابر نامہ : ابو بکر راٹھور

ابو بکر راٹھور/ابر نامہ

“سانحہ حویلی ۔۔ یورو کپ ۔۔ پری پول دھاندلی”

“سانحہ حویلی”
انتیس مئی دو ہزار اکیس کی صبح اہلیان حویلی کے لیے اذیت ناک خبر لے کر آئی ۔ ایک طرف تو ماں بیٹی کے قتل نے ضلع بھر کی فضا کو سوگوار کیا لیکن دوسری طرف انتشار اور فساد کی لہر نے بھی سر اٹھایا ۔ سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر خواتین کے اس بے رحم قتل کو مخالف برادری کا عمل ٹھہراتے ہوئے تصادم کی فضا پیدا کی گئی ۔ متاثر خاندان کی درخواست پر راٹھور خاندان کے تیرا افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔ متاثر خاندان کے افراد نے ایف آئی آر میں شامل ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا ۔ قبل اس کے کہ حویلی کے امن و امان پر مزید کوئی ضرب پڑتی ملزمان نے گرفتاری پیش کر دی ۔ ایک ماہ دس دن تک تفتیش کا عمل جاری رہا ۔ ضلع حویلی سے ن لیگ کے وزیر حکومت نے انتظامیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ہڑتال کی کال بھی دی لیکن یہ سب اس وقت ہوا کہ جب تفتیشی بنیادوں پر کیس کا رخ بدلنے لگا تھا ۔ احتجاج کا پس منظر اور احتجاج کے لیے دی جانے والی کال کی تاریخوں کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ایسا کچھ ضرور ہوا کہ جس نے قتل کے اکیس دن بعد وزیر حکومت کو چپ کا روزہ توڑنے اور احتجاج کرنے پر مجبور کیا ۔ ایک ماہ دس دن کی تفتیش کے بعد پولیس نے عدالت میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی اور عدالت نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا ۔
ورثاء کی طرف سے قاتلوں کو تلاش کرنے ، گرفتار کرنے اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ ان کا حق ہے جو انھیں قانون بھی دیتا ہے اور انسانیت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سنگین واقعے کے بعد اگلے چند گھنٹوں سے چند دنوں کے عرصے میں جن لوگوں نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے نعرے بلند کیے اور معاشرتی ظلم و جبر کے اس واقعے کو سیاسی رنگ دینا چاہا وہ ملزمان کی ضمانت کے بعد خاموش کیوں ہو گئے ہیں ؟ ۔ وزیر حکومت جو قاتلوں کی گرفتاری اور سزا کے لیے احتجاجی کال دے رہے تھے وہ اس فیصلے کے بعد خاموش کیوں ہیں ؟ ۔ سوشل میڈیا اور ملکی و غیر ملکی اخبارات میں مقتولین کے حق میں اٹھنے والی آوازیں خاموش کیوں ہو گئی ہیں ؟ ۔ عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواران کو مل کر شفاف تفتیش کی پیشکش کا خیر مقدم کیوں نہیں کیا گیا ؟ ۔ کیا قاتل مل گئے ہیں یا مقدمے کی پیروی سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ؟ ۔  ان تمام سوالات کے جواب میں ملنے والی خاموشی کی بنیاد پر ایک خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں ۔

“یورو کپ”
گزشتہ ہفتے لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم میں اٹلی اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان یورو کپ کا فائنل کھیلا گیا ۔ اس میچ کی اہمیت اس اعتبار سے زیادہ تھی کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں طویل عرصے سے کسی اہم ٹورنامنٹ میں کامیابی کی خواہش مند تھیں ۔ ایسے میں اٹلی اور انگلینڈ دونوں کے لیے اس میچ کا جیتنا اہمیت کا حامل تھا ۔ نوے ہزار تماشائیوں کی جگہ رکھنے والے اسٹیڈیم میں کورونا وبا کے باعث منفی سرٹیفیکیٹ رکھنے والے ساٹھ ہزار تماشائیوں کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ۔ جیت یا ہار کھیل کا حصہ ہیں اور کسی ایک کو ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ماہرین کی نظر میں اس مرتبہ ہوم گراؤنڈ اور بہتر تیاری کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم اس میچ میں پسندیدہ ٹیم تصور کی جا رہی تھی اور جشن کی تیاریاں بھی کی جا چکی تھیں لیکن نتیجا توقعات کے برعکس نکالا اور اضافی وقت کے باوجود بھی مقابلہ برابر رہا ۔ پینلٹی شوٹ آؤٹ میں اٹلی نے انگلینڈ کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی اور اٹلی یورو کپ چیمپیئن بن گیا ۔ برطانوی وزیراعظم ، شہزادہ ولیم اور مشہور فٹبالر ڈیوڈ بیکھم کے علاوہ ہالی ووڈ کے کئی بڑے نام میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں موجود تھے ۔ شکست کے بعد برطانوی تماشائی اور شہری سڑکوں پر نکل آئے ۔ احتجاج کے دوران پولیس اور شہریوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور متعدد شہری گرفتار ۔ اس سے قبل سیکڑوں کی تعداد میں تماشائیوں نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی ۔ اس موقع پر بھی پولیس اور تماشائیوں کے درمیان تصادم ہوا ۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے قریبا اٹھارہ سال پہلے کا منظر یاد آیا کہ جب پاکستان کے ایک اسٹیڈیم میں تماشائیوں نے دوران میچ بغیر ٹکٹ داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور پولیس نے “تواضع” کے بعد انھیں لوٹا دیا تھا ۔ برطانیہ ایک ترقی یافتہ ملک سہی لیکن جس مقام پر وہ آج پہنچا ہے ہم اٹھارہ سال پہلے اس مقام سے گزر چکے ہیں ۔ کم از کم اس معاملے میں جیت ہماری ہے ۔

“پری پول دھاندلی”
اس تحریر کی چھپنے تک الیکشن کا دن مزید قریب آ جائے گا ۔ 25 جولائی کی صبح ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ قریب آتی جا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتیں انتخابی کھیل کے آخری لمحات کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔  ایک طرف چھکے چوکے لگانے کی خواہش ہے تو دوسری طرف مخالفین کی وکٹیں اڑانے کا جوش و جذبہ بھی ۔ تینوں بڑی جماعتوں کے مرکزی قائدین اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کی کمپین کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے مختلف شہروں کا دورہ مکمل کر کے امریکا یاترا پر روانہ ہو چکے ہیں ۔ ان دنوں محترمہ مریم صاحبہ اپنی جماعت کی انتخابی مہم چلانے کے لیے آزاد کشمیر کے دورے پر ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزراء کی ایک جماعت بھی آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں مصروف ہے ۔ شنید ہے کہ آنے والے چند دنوں میں وزیراعظم جناب عمران خان صاحب بھی کئی سیاسی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
انتخابی جلسوں میں کیے جانے والے معاشی پیکجز کے اعلانات کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے پھیکے رہے ۔ اپوزیشن میں ہونے کے وجہ سے معاشی امداد کے اعلانات ان کے جلسوں میں نہیں سنائی دیے ۔ نون لیگ حکومت جاتے جاتے آیندہ الیکشن میں ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکنہ ذرائع استعمال کر رہی ہے ۔ سرکاری فنڈز اور اسکیمیں تقسیم کی جا رہی ہیں ۔ گاؤں دیہات میں ووٹوں کے حصول میں سب سے زیادہ معاون رات کی تاریکی میں سرکاری ایمبولینس میں سپلائی کیے جانے والے پلاسٹک کے کالے پائپ ہیں ۔ اب تک کے اعلانات میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سب سے بہتر ہے ۔ مرکز میں حکومت اور وفاقی وزراء کی لمبی فہرست نے بلیک اینڈ وائٹ سیاسی منظر نامے میں “قوس قزح” کے رنگ بھر دیے ہیں ۔ تحریک نصاف جب تک اپوزیشن میں رہی وہ ان تمام ذرائع اور ان کے استعمال پر تنقید کرتی رہے لیکن اس مرتبہ وہ ان سب کو استعمال کر رہی ہے ۔ تحریک انصاف شاید اپنا کہا بھول رہی ہے کہ ایسے تمام اعلانات “پری پول دھاندلی” کہلاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں