نقطہ نظر/ کِرن عزیز کشمیری

امن عمل کی حمایت جاری

پاکستان افغان ہم آہنگی کیلئے سرگرم ہے۔ افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانا چاہتا ہے۔ نیز پاکستان نے مسلہ افغانستان پر کانفرنس بلا لی ہے۔ امریکی انخلا کے بعد خطے کی صورتحال کا جائزہ لینا بھی اہم امرہے۔ واضح رہے کے افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیشقدمی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری فورسزمکمل بے بس ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے دعوی کیاجارہا ہے کہ اسپین بولدک پر طالبان کا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اس علاقے پر طالبان کا سفید پرچم لہرا دیا گیا ہے جو اس امرکی دلیل ہے کہ علاقے میں طالبان کو کنٹرول حاصل ہے۔ افغانستان میں تعمیرو ترقی وخوشحالی کے لئے پاکستان سرگرم ہے۔

اس ضمن میں اہم امریہ ہے کہ افغان حکومت نے طالبان سے خلاف بھارت سے فوجی امداد لینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ امر طالبان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ اس ضمن میں اہم امریہ ہے کہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ سابق امریکی صدربش نے افغانستان سے امریکی انخلا غلطی قرار دے دیا ہے۔اس ضمن میں سابق امریکی صدرکا بیان کچھ یوں ہے کہ افغان شہریوں کو قربان ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ واضح رہے کہ 12 گھنٹوں کے دوران 40 اضلاع میں افغان طالبان نے 66 حملے کئے ہیں۔

اس سلسلے میں افغان طالبان کے حملوں میں 112افرادہلاک ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں افغان سفیرکا کہنا ہے کہ افغان علاقے طالبان سے جلد خالی کرا لئے جائیں گے۔دوسری طرف برطانیہ کا کہناہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ افغانستان کی صورتحال خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی۔برطانوی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برطانیہ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے گا۔پاکستان نے طالبان کا پرچم لہرانے کا دعوی وحملہ مسترد کرتے ہوئے سرحد سیل کردی ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ افغان نائب صدرنے اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ہے۔

افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ موجودہ افغان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے توصورتحال کے پیش نظر مکمل طور پر ناکام ہے۔ جبکہ افغان فورسز کمزورپڑتی جارہی ہیں۔ ایک ضلع میں شہری طالبان کے حملوں سے تنگ ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن کے حولے سے اسلئے بھی سرگرم ہے کہ اس امرکے براہ راست اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے افغان معاملات سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوسکتا۔ کئی دہائیوں کی جنگ نے افغانستان میں ترقی و معشیت کو مضبوط ہونے نہیں دیا اور اب افغانستان ایک بار پھربحران کا شکارہے۔

اہم امریہ ہے کہ طالبان کا کہنا ہے کہ تمام تر صورتحال کے باوجود مقامی تاجروں کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ افغانستان کی سنگین صورتحال پر پاکستان کو تشویش ہے۔ اس ضمن میں اہم کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔اس امر کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغان جنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ پاکستان ہی متاثر ہوا ہے۔واضع رہے کہ اس ضمن میں پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بھی افغان سرزمین استعمال کی گئی ہے۔ اس اہم امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ناصرف پاکستان کیلئے تشویشناک ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی افغان حالات سے مایوس ہیں۔

اس سلسلے میں افغان فورسزکی ناکامی اہم امرہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے زیادہ تر حصے پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس ضمن میں اہم امریہ ہے کہ اس وقت 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔واضح رہے کہ طالبان اب تیزی سے کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے قیام کے لئے طالبان کو بھی شریک کیا جائے۔ پاکستان اس سلسلے میں افغان امن عمل کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔

افغانستان کے معاملے پر اس ضمن میں نیابلاک تشکیل دیا جائیگا۔ نئے بلاک میں پاکستان ازبکستان تاجکستان ایران اور ترکی شامل ہونگے۔پاک افغان مسلے کے لئے پرامن کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کے لئے پاکستان بھرپور تعاون کا مظاہرہ کررہا ہے اور کوشش یہ کی جارہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوجائے۔ خطے میں امن واستحکام کا قیام پاکستان کا مشن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں