امجد شریف

یہ تحریک انصاف کا دور ہے

۔
تحریر:

رومن قوم کے زوال کے بارے میں یورپین تاریخ دانوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ بڑے بڑے ابواب محض اس تاریخی زوال کے اسباب پر رقم کئے گئے ہیں،لیکن رومن حکمرانوں اور اشرافیہ کی جانب سے ان اسباب کی وجوہات کے مصنوعی ازالے کا بھی ذکر ہمیں تاریخ میں ملتا ہے۔یہ اسباب کیا تھے؟ حد سے زیادہ کرپشن کابڑھ جانا، غلاموں کی کثرت اور سستی لیبر کی وجہ سے رومن میڈل کلاس میں بے روزگاری کا حدسےتجاوزکرنا۔رومی سلطنت کی وسعت کے لحاظ سے بھاری فوجی اخراجات نے لوگوں پر سخت ترین ٹیکسوں کی بھرمار کررکھی تھی۔رومی حکمرانوں اور اشرافیہ میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تھا۔ رومن سینٹرز اور سیزروں کےدرمیان بڑھتا ہوا سیاسی اختلاف اورسیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھاری رشوت کا استعمال عام ہوچکا تھا ۔مشرقی یورپ سے اٹیلا دی ہن اور جنوب کی جانب سے جرمینین قبائل کی شورشوں نے رومی فوج کو متوار جنگ کی حالت میں رکھنے کی وجہ سے بددل کر دیا تھا۔لیکن ان وجوہات کا اگر براہ راست اثر پڑ رہا تھا تو وہ رومی عوام تھے۔

جن پر نئے نئے ٹیکس لگا کر ان کا خون بری طرح نچوڑا جاتا تھا اور جب کبھی ردعمل کی فضاء محسوس کی جاتی تو رومی حکمران اور اشرافیہ ”گیمز“ کا اعلان کرا دیتی اور یوں مہینوں تک رومی عوام ان گیمز میں گم ہوکر اپنے تمام مصائب بھول جاتے،نہ انہیں اس بات کا ہوش رہتا کہ حکمران ظالمانہ ٹیکسوں کےذریعےان کی کھال اتار رہےہیں،نہ انہیں اس بات کا خیال آتا کہ سرحدوں پر بڑھتے ہوئے خطرات سے حکمران نمٹنے سے عاری ہوچکے ہیں اور اپنی عیاشیوں میں غرق ہیں۔انہیں یہ بھی یاد نہیں آتا تھا کہ اس ناگفتابہ حالت میں وہ روٹی کہاں سے کھائیں گے۔جو پہلے ہی عنقا ہوچکی ہے۔یہ ان لوگوں کا حال تھا جو 27 قبل مسیح میں ایک قوم بن کر ابھری تھی۔ مگر 476 عیسوی تک عوام میں بدل کر تاریخ کے گمنام اوراق میں گم ہوچکی تھی۔

جدید تاریخ کے عرب دانشوروں نےبھی عوام اور قوم میں ایک جوہری فرق بیان کیا ہے ۔ان کے خیال میں قوم ان افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔جوایک دوسرےکی خوشی اور غمی سے پوری طرح آگاہ ہو اور جب اسی قوم میں آپس کا فکری اور شخصی بُعد پیدا ہوجائے تو یہ عوام بن جاتے ہیں۔ایک ایسا بے سمت ہجوم جو اپنے ہمسروں تک سے غافل ہو۔آزاد کشمیر میں بھی حکمران طبقے اور اشرفیہ نے کشمیری ہجوم کے لیے 25 جولائی کے دن ایک ”گیم“یعنی انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان انتخابات کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ انتخابات نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ خاندانی، شخصی اورقبیلائی بنیادوں پر لڑے جا رہے ہیں۔ جب کہ پاکستان کی جانب سےان انتخابات کا مقصد ایک ربڑ سٹمپ اسمبلی کا قیام ہے۔جو محض ان کی وفاداری کا حلف لے گی۔

جب 1947کو آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے نام سے تحریک آزادی کشمیر کی ایک نمائندہ حکومت معرض وجود میں آئی تھی۔اُس حکومت کا ہدف یہ قرار پایا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کو تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ بنا کر تحریکِ آزادی کشمیر کی تکمیل کےلئےجدوجہد کرےگی۔وہ اپنے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کشمیر کی تائید و حمایت کرکےاسےکامیابی سےہمکنار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔مگر تحریک آزادی کشمیرکےاس بیس کیمپ میں گزشتہ پون صدی کے دوران میں برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتوں کی کارکردگی کا اگر ہم جائزہ لیں، تو ہمیں اس پر افسوس ہی ہوتا ہے۔اس سار عرصے میں جو لوگ حکمران رہے انہوں نے آزاد کشمیرکوتحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہونے کے تقاضوں کو مکمل طور پر پس پشت ڈالے رکھا۔

ان میں آزاد کشمیر کے موجودہ حکمران بھی شامل ہیں اور وہ پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ جو اس وقت تو اپوزیشن میں ہیں لیکن گزشتہ عرصے کے دوران باری باری آزاد کشمیر میں برسر اقتدار رہ چکی ہیں۔ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا ایک ہی ہدف رہا ہے۔ وہ یہ کہ جس طریقے سے بھی ممکن ہو کرسیِ اقتدار تک پہنچ جائیں،اس کے لیے وہ جس سطع تک اپنے آپ کو لےکرگے۔وہ آپ مجھ سےبہتر جانتے ہیں۔کوئی ایک جماعت بھی یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس کی قیادت نے کبھی بھی انتخابات محض نظریاتی اور فکری بنیادوں پر لڑیں ہیں۔ہر بار اسلام آباد اور راولپنڈی کے آشیرباد ہی سے اس خطے میں حکومتیں بنتی رہی ہیں۔لہذا اب بھی وہی ہوگا۔

فوج کی چھتری تلے ایک حصار میں سہمی ہوئی تحریک انصاف کی قیادت کا یہ دور ہردور میں یاد رکھا جائے گا۔وہ تحریکِ انصاف جس کے لیڈروں سے لے کر عام کارکنان تک، سب فقط یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا خان تقریر بہت اچھی کرتا ہے۔ وہ کسی پرچی کے بغیرتقریر کرتا ہے۔ہمارا خان یہ کرے گا ہمارا خان وہ کرے گا، یعنی وہ بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح شخصیت پرستی کی معراج پر ہیں شخصیت پرستی ہی کرپٹ عناصر کا ہتھیار ہے۔ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں اور تعلیمی اداروں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی،کسی سطع پربھی کوئی نظریاتی، فکری یا اخلاقی تربیت کا عمل نہ ہوسکا، نتیجہ یہ نکلا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ یاد رکھیےجب آپ کسی سیاسی تربیتی عمل سے نہیں گزرے اور نہ ہی آپ روایات کے امین ہوں تو پھر آپ کے ہاں قوم ایک ہجوم ہی کہلاتی ہے۔جس کاکام تقریر سننا اور نعرے لگانا ہی ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تحریک انصاف کا دور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں