نقطہ نظر/ کِرن عزیز کشمیری

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ

بھارت کی جانب سے پاکستان کی اہم شخصیات سمیت دنیا بھر سے 50 ہزار صارفین کی جاسوسی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں یہ جاسوسی اسرائیلی سافٹ وئیر کے ذریعے کی گئی۔ پاکستان نے یہ معاملہ متعلقہ فورم پر اْٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی دہشت گردی کشمیر میں بھی عروج پر ہے۔ اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے لیڈروں کی بھی جاسوسی کی گئی۔ بھارت نے جن نمبروں کو جاسوسی کے لئے ہدف بنایا گیا اْن میں پاکستانی سفارتکاروں سمیت چینی سفارت کار اور کاروباری لوگ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سکھ برادری کے لوگوں کو بھی جاسوسی کے لئے ہدف بنایا گیا۔ مودی سرکار نے بھارت کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ دہشت گردی کے لئے استعمال کیاگیا آلہ جنگ کے نام پر حکومتوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ بھارت نے اس امر کا فایدہ اٹھاتے ہوئے اسے صحافت سیاست تجارت اور انصاف سمیت تمام شعبوں کے لئے استعمال کیا۔بھارت کا جارحانہ رویہ خطے کے امن و استحکام کے لئے بھی خطرناک امر ہے۔

بھارت اسرائیل کے تعاون سے جن منصوبوں پر عمل پیرا ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے۔ واضح رہے کے فرانس نے اسرائیلی سافٹ وئیر سے جاسوسی کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ دوسری جانب بھارت امریکی بحریہ کے ساتھ مل کر بحر ہند میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے سازشوں میں مصروف عمل ہے۔ چین سے الجھ کر شکست ِفاش حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے خلاف اپنے مزموم عزائم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہے۔ بوکھلاہٹ کا شکا ر ہے۔ پاکستان کیخلاف اپنی ناکام چالوں کی وجہ سے تذبذب کا شکاربھی ہے۔

مودی سرکار کا اسرائیل سے بغلگیر ہونے کا مطلب صاف ہے کہ اقتدار کا وقت ختم ہونے تک ملکی نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کیے جائیں۔ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کی وجہ سے بھارت کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔جب کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری نے بھارت کو مزید الجھا دیا ہے۔جس کے نتیجے میں خطے میں نیا سیاسی منظر نامہ تشکیل پارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سرکا رکے اسرائیل میں تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اپنے لڑاکا اور جاسوس طیارے بھارت کوفروخت کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں اہم امریہ ہے کہ بھارت ایک عرصے سے روسی فوجی سازوسامان خرید رہا ہے۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر نا صرف پاکستان بلکہ کشمیریوں کے خلاف بھی گھناونی سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہے۔

اب حقیقت کھل کرسامنے آچکی ہیکہ پاکستان میں انارکی پھیلانے میں واضح طور پر بھارت کا ہی ہاتھ ہے۔ مودی سرکار کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان داخلی طور پر کمزور ہو۔ کلبھوشن یادیوکی گرفتاری و سزا سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ نئے حالات میں پرانے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اسرائیل بھارت کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ عالمی برادری دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتی ہے۔ جب کہ ضرورت اس امر کی ہیکہ بھارت کا دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے پر سخت نوٹس لیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں قابل ذکر امر یہ ہے کہ بھارت پر جنگی جنون سوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلحہ کی خرید وفروخت میں مصروف ہے۔ 25 کھرب روپے کا دفاہی بجٹ پیش کیا گیا۔

جبکہ بھارت کے جنگی اخراجات میں 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں یہ امر واضح ہے کہ بھارت کی گھناونی سازشیں اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بھارت انتہائی چالاک اور منافقانہ پالیسی پر عمل پیراہے۔ پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسرائیل کا سہارا لے کر بھارت نا صرف پاکستان بلکہ اپنے پڑوسی ممالک کے لئے بھی خطرناک عزائم رکھتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مضبوط دوستانہ تعلقات سے چین کو چیلنج کر رہا ہے۔ تاہم چین سے بھارت نے ہر محاذ پر شکشت ہی کھائی ہے۔اہم امریہ ہے کہ بھارت سب سے زیادہ رقم اسلحے کیلئے مختص رکھتا ہے۔ مودی سرکا ر ایڑی چوٹی کا زور لگاکر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ تاہم ماضی کے تجربے بھارت کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ اسرائیل کا مودی حکومت کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون بھارتی عوام کے لئے بھی بے چینی کا سبب ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی وجہ سے پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں