ابر نامہ : ابو بکر راٹھور

انیمومیٹر- -سلسلہ – -بہتر گھنٹے


کالم : ابر نامہ
تحریر : ابو بکر راٹھور

“انیمومیٹر”
ہوا کے رخ اور دباؤ کا علم رکھنا صرف سائنس یا اس سے متعلقہ شعبہ جات کا کام نہیں ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اس کا ادراک ہونا ضروری ہے ۔ سیاست میں بھی ہوا کا رخ اور دباؤ دیکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ سائنس کی دنیا میں ہوا کے رخ اور دباؤ کو جان لینے والے آلے کو انیمومیٹر کہا جاتا ہے اور سیاسی رخ اور دباؤ کو جاننے والے کو سیانا مانا جاتا ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی ۔ سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی غیر متوقع نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ سیاسی پنڈت اور ماہرین کسی بھی رائے کے اظہار میں انیس بیس سے دس بیس تک کے فرق کو بھی سامنے رکھتے ہیں اور ناممکن کو ممکن کے ذیل میں رکھتے ہیں ۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بھی ہو سکتے ہیں ۔
پاکستان اور آزاد کشمیر  کی تمام سیاسی جماعتوں میں دو جماعتیں ایسی ہیں کہ جو سیاسی انیمومیٹر کا درجہ رکھتی ہیں ۔ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ آنے والے دنوں کا ادارک بھی رکھتی ہیں اور حسب موقع اپنے اس علم سے استفادہ بھی کرتی ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں کے ماضی کو دیکھ کر جان سکتے کہ گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کریں گی ۔ آزاد کشمیر کے آمدہ الیکشن میں دونوں انیمومیٹر جماعتیں اسی اصول پر سیاست جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ وادی نیلم میں جمعیت علمائے اسلام اور باغ میں جماعت اسلامی کا تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان اس بات کی طرف اشارا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں سیاسی ہوا کا رخ جان چکی ہیں ۔

“سلسلے وار سلسلہ”
عظیم شخصیت کا قول ہے کہ جس سے نیکی کرو اس کے شر سے بچو لیکن ہمارے نصیب میں شر سے بچے رہنا نہیں لکھا کہ ہمارے نصیب کمال کے ہیں ۔ ہم نے جب بھی نیکی کی وہ الٹی ہمارے ہی گلے پڑ گئی ۔ نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کی نوبت بھی نہیں آئی ۔
اس کی ایک مثال افغانستان ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی بہتری کا سوچا اور بڑے بھائی ہونے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ایسے فیصلے بھی کیے کہ جن میں بڑے بھائی کے لیے فائدے کا خدشہ تک بھی نہ تھا ۔
روس کے جانے سے لے کر اب تک دیکھا جائے تو افغانستان کے امن اور سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان کا کردار سر فہرست رہا ہے ۔ افغان مہاجرین کی آباد کاری سے لے کر سہولیات زندگی کی فراہمی اور عالمی سطح پر افغانستان کے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجا ہمیشہ یہ رہا کہ افغان حکومت ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف شمشیر بہ کف رہی ۔ افغان حکومت نے ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا کہ جس کے نتیجے میں وہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈا نہ کر سکیں ۔ ایسا ہی ایک معاملہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد ہوا ۔ ذہنی طور پر نومولود افغان صدر کی پاکستان خلاف ہزرہ سرائی اور اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کی کہانی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
“سلسلہ” نامی افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کی کہانی میں کمزور پلاٹ نے ساری پلاننگ کا ستیاناس کر دیا ۔ ذہنی نومولود افغان صدر کی طرح لگتا ہے کہ اس کہانی کا لکھاری بھی نومولود ہی تھا ۔ اب تک کے تمام مسودے کو حقائق اور ثبوت کی روشنی میں رد کیا جا چکا ہے اور “سلسلہ” نامی لڑکی اور اس کے سہولت کاروں کو یہ پیغام پہنچ چکا ہے کہ ہرزہ سرائی کا یہ “سلسلہ” ختم ہونا چاہیے ۔ تحقیقاتی ادارے پاکستان کے تشخص کو خراب کرنے کی عالمی قوتوں کی سازش سے بے خبر بالکل بھی نہیں اور نہ ہی کسی غفلت کا شکار ہیں ۔  ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف یہ سلسلہ اگر یہیں رک جائے تو افغانستان کے لیے یہی بہتر ہے ۔

“اگلے بہتر گھنٹے”
کشمیر کی سیاست اور الیکشن 2021ء میں “اگلے بہتر گھنٹے بہت اہم ہیں” ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے مریض کو انتہائی نگہداشت کے عملے کے حوالے کر کے ڈاکٹر صاحبان نے اپنی ہر ممکن کوشش کو یقینی بناتے ہوئے لواحقین  سے بس اتنا کہا کہ “اگلے بہتر گھنٹے بہت اہم ہیں ۔ ہم کوشش کر رہے ہیں ، آپ بھی دعا کریں” ۔
دوا اور دعا دونوں ساتھ مل کر ہی چلتے ہیں ۔ ورثاء نے بھی ہر ممکن کوشش کی ۔ اچھے سے اچھے معالج ، ادویات اور مشورے کے لیے ہر کسی سے رابطہ کیا اور آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں “اگلے بہتر گھنٹے بہت اہم ہیں” کا پیغام مل رہا ہے وہیں پر ہر ممکن زریعے کو استعمال میں لایا جا رہا ہے  ۔ ہر ممکن کوشش کی گئی ہے اور اب اگلے بہتر گھنٹے سیاسی  ماہرین اور معالجین کی ٹیم سر جوڑے تمام صورت حال کا جائزہ لے گی اور ان تمام علامات اور خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل طے کرے گی جو ان کے لیے سود مند رہے ۔ علاقائی سطح پر ایک ایک یونین کونسل ،  پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ کے ممکنہ نتائج کو دیکھا جائے گا ۔
الیکشن کے لیے بھی ان بہتر گھنٹوں میں تمام زرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی کے “کھرے” کو تلاش کیا جائے گا ۔ ہر جماعت اور امیدوار وہ انتہائی قدم اٹھائیں گے جو بس جیت کی طرف لے جائے ۔ سیاسی مفادات اور ذاتی مفاد کو تولا جائے گا ۔ اگلے پانچ سالہ منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کئی امیدوار الیکشن سے “خاموشی” سے دستبردار بھی ہو سکتے ہیں ۔ ان بہتر گھنٹوں کے اختتام پر بہت سے دوبارہ جی اٹھیں گے اور بہت سے “مرگ مفاجات” کا شکار ہوتے ہوئے اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ایک ہی جواب ملے گا کہ “اب بہت دیر ہو چکی ہے” ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں