ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم

آزادکشمیر الیکشن۔نئی قیادت کی امید

آزادکشمیر میں انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے جوش و جذبہ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ووٹرز کو فیصلہ کرنا ہے کہ کون سی جماعت اور نماہئندہُ ان کے ساتھ ماضی میں کھڑا رہا اور حلقے کے کام کروائے ہیں اور مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ بھی ضروری ہے کہ کس جماعت نے کشمیر کی آزادی اور نظریاتی محاذ پر پہرہ دیا ہے نیز اچھی حکمرانی اور عوامی فلاح و ترقی میں دلچسپی لی ہے۔

آزادکشمیر کے عوام نے ماضی میں ہمیشہ سیاسی بالیدگی اور فہم و شعور کا مظاہرہ کیا اور اچھے فیصلے کئے ہیں۔ کیونکہ ان کی تربیت عظیم قائدین غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور سردار محمد عبدالقیوم خان جیسی نابغہ روزگار کشمیری لیجنڈز نے کی ہے اور انہیں کشمیر کی آزادی، نظریے کی پاسداری اور پاکستان سے محبت کا ایسا سبق سکھایا ہے کہ تین نسلوں سے اس کی حرارت پوری طرح موجود ہے۔ اور اب تو عوام اپنے لیڈروں سے زیادہ عقل و شعور رکھتے ہیں۔ انتخابات میں پہلی مرتبہ خواتین اور نوجوانوں کی خاصی تعداد حصہ لے رہی ہے جس کا سہرا بجا طور پر وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے۔ جنہوں نے ہر شعبہ زندگی میں نوجوانوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

میں ذاتی طور پر تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہوں تاہم مجھے ان معاملات میں کام کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہے اور تقریباً تیس سال سے اس کے مدوجزر کا حصہ ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ریاستی تشخص، نظریہ و عقیدہ، رواداری، روایات کی پاسداری اور برداشت کا عنصر سیاسی جماعتوں سے معدوم ہو رہا ہے اور مفادات، برادری ازم، موروثیت زیادہ فروغ پا چکی ہے جو معاشرے اور سیاست کے لئے زھر قاتل ہے۔ سب سے زیادہ گند ریاستی جماعتوں نے ڈال دیا ہے۔ جس کا خمیازہ کشمیری عوام طویل عرصے تک بھگتیں گے۔ ہر جماعت اور لیڈر اختیار ،اقتدار اور دولت کے لئے ہر بے ایمانی اور غیر فطری اتحاد کرنے کے لئے بیتاب ہے۔

اس لالچی، حریص اور فرسودہ لیڈرشپ کو ضرب کاری لگانے کا واحد راستہ انتخابات میں ووٹ کا ہتھیار ہے جس کے ذریعے انہیں شکست فاش دے کر نوجوان طبقہ سے نئی قیادت اور تعلیم یافتہ، اعلی ظرف نماہندوں کا انتخاب ہے جو برادی ازم، عصبیت اور علاقائیت سے بالاتر ہو کر خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہوں اور موروثی سیاست کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور برادری و قبیلہ کے نام پر سیاست کی بجائے قومی اور ریاستی سوچ کے مظہر بن کر بلا امتیاز خدمت کر سکیں۔اور فرسودہ نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہماری موجودہ قیادت میں اب وہ دم خم نہیں ہے یہ مکھی پہ مکھی مارنے سے زیادہ کوئی بڑی تبدیلی لانے سے عاری اور خاندان و برادری کے علاوہ کسی کو برداشت نیں کر تے مسلم لیگ ن، مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام اور قوم پرست جماعتیں سبھی اس معاملے میں ایک ہی ڈگر پر ہیں تحریک انصاف کا بھی یہی حال ہے اس میں گروپ بندی برادریوں اور علاقوں کی بنیاد پر ہے جو انتخابات میں نقصان دہ ثابت ہو گی۔

ہر جماعت میں موروثیت کو دوام دیا جا رہا ہے۔ جو صلاحیت اور فکر و شعور کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ سردار سکندر حیات، راجہ فاروق حیدر، سردار عتیق احمد، بیرسٹر سلطان محمود اور سردار حسن ابراہیم خان موریثیت کی پیداوار ہیں تاہم ان میں سے بعض نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور باقی ماندہ لیڈر حضرات اپنی ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر قیادت کے قابل نہیں ہیں۔ تمام لیڈر صرف اپنی کھڑپینچی اور اقتدار کے متمنی ہیں نہ کسی کو کشمیر کی آزادی کا فکر ہے نہ ہی کشمیری تشخص اور روایات کا غم، ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے پرعزم ہے۔

پاکستانی پارٹیوں نے انتخابات کے دوران آزادکشمیر کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف زبان درازی اور کشمیریوں کی توہین کر رہے ہیں سیاسی اختلافات کو الیکشن میں دھرانے کی بجائے کوئی ٹھوس لائحہ عمل دیں اور وہ اقدامات بتائیں جو انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران آزادکشمیر کی ترقی اور کشمیر کے حوالے سے انجام دئے ہیں۔ وفاق اور الیکشن کمیشن کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ نیب کا دائرہ کار بڑھا یا جائے یا احتساب بیورو کو متحرک کیا جائے اور موجودہ حکومت سمیت برسر اقتدار رہنے والے لیڈروں کی گو شمالی کی جانی چاہیے جنہوں نے آزادی کے بیس کیمپ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کئے رکھا ہے ان کا کڑا احتساب کیا جائے۔

نئی قیادت کی اشد ضرورت ہے جو پہلے سے متمول ہو اور لوٹ مار کی بجائے خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر عوام کے لئے کوئی اچھا کام اور ریاست میں میگا پراجیکٹس کے لئے پرعزم ہو۔ تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ گڈگورنس اور نظریاتی محاذ پر بھی کام کرنے کی امنگ رکھتی ہو۔ میرے خیال میں سردار تنویر الیاس ایک اچھا تجربہ ثابت ہو سکتا ہے جو کاروبار کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور اب سیاست کے میدان میں بھی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، وہ پرعزم نوجوان رہنماہیں جن میں صلاحیت، تجربہ اور اخلاص کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کا خاندان نظریاتی طور پر بھی پختہ فکر کا حامل ہے۔ ان کے وسیع تعلقات اور جان پہچان پہلے سے موجود ہے۔

انہوں نے تمام جماعتوں کے اہم رہنماوں اور کابینہ کےبا اثر اراکین کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور وفاقی وزراُ نے پانچ سو ارب روپے کے پیکج کا بھی عندیہ دیا ہے جو آزادکشمیر میں ایک بڑا انقلاب لا سکتا ہے اور ہر سطح پہ تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں