پکار/ شیراز خان ( لندن ) sherazkhan7@hotmail.com

آزاد کشمیر الیکشن ; عمران اور فوج کیخلاف ہرزہ سرائی اور ابوبچائو مہم

آزاد کشمیر کے الیکشن میں جھوٹ منافقت اور ڈس انفارمیشن پر مبنی انتخابی مہم ختم ہوگئی ہے آزاد کشمیر کے مقامی لیڈر منظر سے غائب ہو گئے اور پاکستان کے نووارد گھس بیٹھیے گالم گلوچ اور جھوٹ سے اپنا منجن کچھ اس طرح فروخت کرتے رہے کہ مسئلہ کشمیر غائب ہی ہوگیا نہ کشمیر کے مسائل کا پتہ نہ اس علاقے کی روایات سے کوئی غرض اور نہ اس بات کا دھیان رہا کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف کیا پیغام جائے گا جو منہ میں آتا رہا ہے کہہ گئے اس بات سے غرض نہیں ابو بچائو مہم اور پی ڈی ایم کا بیانیہ جاری رہا ہے فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور ابو کے حق میں مدح سرائی- یہ بھی جھوٹ کہ 2018 کے پاکستان کے الیکشن چرائے گئے حالانکہ 2018 تک مسلم لیگ کی حکومت تھی آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کبھی اقتدار میں آئی ہی نہیں پھر بھی الیکشن چوری کرنے کا واویلہ – پوری الیکشن مہم انٹی عمران اور انٹی فوج چلائی گئی کشمیر صوبہ نہیں بنے گا کا راگ الاپا گیا جو بے بنیاد اور پراپیگنڈہ تھا اچھا ہوا وزیراعظم نے کوٹلی اور تراڑکھل کے جلسے میں کشمیر کو غائب ہونے سے بچا لیا اور اتنا بڑا سلوگن دے دیا کہ پاکستان نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے چاہتا ہے بلکہ خود مختار کشمیر کے حامیوں کو ریفرنڈم کا حق دیتا ہے یہ ہے وہ گیم چینج کہ ایک گیند سے دو وکٹیں لی گئی ہیں

ایک تو بھارت کو پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ دوسرا پی ڈی ایم فضل الرحمان گروپ اور ابو بچائو کے بچوں کے غبارے سے ہوا نکال دی اور پتلی تماشا شروع ہو نے سے پہلے ہی ڈرامہ فلاپ کر دیا۔۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں حریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور یاسین ملک کو خراج تحسین پیش کر کے خود مختاری کا راگ الاپنے والے قوم پرستوں کو دس قدم آگے جا کر خاموش کر دیا ہے جس پر سستی جھوٹی اور گھٹیا سیاست کی گئی اور وزیراعظم کی بات کا تمسخر اڑایا گیا بات سیدھی سی وزیر اعظم نے کی ہے اقوام متحدہ جب ریفرنڈم کا حق دے گی کہ آپ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ – جب فیصلہ ہوجائے گا تو پھر پاکستان کشمیریوں کو حق دے گا کہ وہ خود مختار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یہاں میڈیا میں نئے آنے والوں کو یاد دلانا تھا

سڑکیں پل اور تعمیر و ترقی کا دور دورہ صدر برگیڈئیر حیات خان کے دور میں سب سے زیادہ ہوا ہے جبکہ 1985 سے 1990 کے دوران مسلم کانفرنس کی حکومت نے خاصا کام کیا 1991 سے 1996 تک پھر مسلم کانفرنس اور 2001 سے2006 تک پھر 2011 تک مسلم کانفرنس کی حکومت میں تعمیر و ترقی کے کام ہوئے 2005 کے زلزلے کے بعد مظفر آباد ڈویژن میں ترکی کی مدد سے سڑکیں پل بنائے گئے پیپلز پارٹی 96 سے لے 2001 تک پھر 2011 سے 2016 تک رہی انہوں نے فریال تالپور کی خوب خدمت کی اور چوہدری مجید خود کو لاڑکانہ کا مجاور کہتے تھے تین میڈیکل کالج البتہ دئیے گئے پاکستان کا میڈیا یہ بھول ہی گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ حکومت مسلم کانفرنس نے کی ہے جس کی پیٹھ میں نوازشریف نے چھرا گھونپا اور راجہ فاروق حیدر سردار سکندر حیات اور شاہ غلام قادر اور طارق فاروق وغیرہ نے کشمیریوں کی نمایندہ جماعت سواد اعظم مسلم کانفرنس دو لخت کردیا 2016 میں وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزاد کشمیر میں راجہ فاروق حیدر کی حکومت قائم کردی اور وفاقی وزیروں نے سابق وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کی مدد سے انتخابات پر اثر انداز ہوئے وقت جاتے پتہ نہیں چلتا

آج 2021 میں وفاقی وزیر وہی کررہے ہیں جو اس سے پہلے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کرتی رہی ہے نہ وہ ٹھیک تھا اور نہ یہ درست ہے ایک اور خدا لگتی بات عمران خان کا ایک ماضی اور ایک جد وجہد ہے جو سیاست میں آیا مریم نواز اور بلاول بھٹو کس جدوجہد اور کون سے ماضی کے کارناموں کی بنیاد پر سیاست میں ہیں یا پارٹی کے چیئرمین اور نائب صدر ہیں یہی ناں کہ وہ خاندانی نظام اور وراثتی سیاست کے امین ہیں کوئی اور کوالیفیکشن ہے یہ پاکستان کے علاوہ کس ملک میں ممکن ہے بادشاہی نظام صرف آج کشمیر کے پہاڑوں میں عمران کا طوطی بولے گا جیسے اس سے پہلے بھٹو نے 1970 میں پیپلزپارٹی آزادکشمیر میں قائم کرکے غیر ریاستی جماعتوں کی آزاد کشمیر میں بنیاد رکھی پھر میاں نواز شریف نے ن لیگ قائم کرکے کشمیریوں کو تقسیم کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں