چٹان/عائشہ نور

خطے میں سلگتی ہوئی چنگاری

افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا انخلاء خطے میں ہونے والی اہم اور غیرمعمولی پیش رفت ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں مداخلت بلاجواز اور غلط فیصلہ تھا ۔ افغانستان سے امریکہ اور اتحادیوں کو انخلاء پر مجبور کرنے میں افغان طالبان کی طویل عسکری مزاحمت کا کلیدی کردار ہے ۔ اس وقت افغان طالبان جس طرح زیادہ سے زیادہ افغان علاقوں کا کنٹرول حاصل کررہے ہیں ، اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ مستقبل میں افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہو جائےگی ۔ افغانستان کو داخلی سیاسی استحکام دلانے اور خانہ جنگی سے نجات کا واحد راستہ بھی یہ ہی ہے کہ طالبان کی افغانستان میں بالادستی کو تسلیم کرلیاجائے۔ اگر کسی نے بھارت نواز CIA کی کٹھ پتلی اشرف غنی حکومت کو برتری دلانے کےلیے کوئی بھی کھیل کھیلنے کی کوشش کی یہ کافی خطرناک ہوگا۔

لہذٰا بھارتی پالیسی سازوں کو افغانستان میں خوامخواہ مداخلت سے باز رہنا چاہئے۔ جب سے بھارتی سفارتی عملے کو واپس بلائے جانے کے بہانے کابل ائیرپورٹ بھیجے جانےوالے بھارتی طیارے سے اسلحے کی کھیپ پکڑی گئی ہے ، اس سے بھارتی عزائم بےنقاب ہوگئے ہیں ۔ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کیونکہ بھارت نے یہ اسلحہ کابل ائیرپورٹ پہنچانے کےلیے جو فضائی راستہ اختیار کیا ، وہ خطے میں بھارت اور اس کے دوست ممالک کے طالبان کے خلاف گٹھ جوڑ کو واضح کرنے کےلیے کافی ہے ۔ بھارت اشرف غنی حکومت کی مدد کے بہانے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتاہے ۔ اس صورت میں افغان فورسز اور طالبان کو باہم برسرپیکار رکھنا مودی سرکار کے منصوبے کا اہم حصہ ہوگا ۔ بھارت ہر قیمت پر اشرف غنی حکومت کو پاکستان کے خلاف اکسانا چاہتاہے ۔

بھارت کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب کرنے کےلیے ہرحربہ آزمایا جائے اور پاکستان کو خطے میں تنہا کیاجائے۔ ایسے ماحول میں طالبان کے خلاف عسکری مدد کے بہانے اشرف غنی حکومت کی طرف سے بھارتی فوج کو مداخلت کی دعوت بھی دی جاسکتی ہے۔افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ، اس کھیل کا مقصد ہی یہ تھا کہ کوئی جواز تلاش کرکے افغانستان اورپاکستان کے سفارتی روابط خراب اور تعلقات کشیدہ کردیئےجائیں ، اور پاکستان کے افغان دشمن ہونےکا تاثراجاگرکیا جائے، تاکہ پاکستان سے الجھاؤ کی فضاء بنی رہے۔ نفرتوں اور بیزاری کی انتہا دیکھیےکہ افغان نائب صدر امر اللہ صالح ہمیں سقوط ڈھاکہ کی یاددلاتا ہے ۔

ایسے میں نوازشریف جیسے لوگ جو افغان عہدیداران سے ملاقات کرنا ضروری سمجھیں ، ان پر صرف افسوس ہی کیاجاسکتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں دہشتگردی کے دو بدترین واقعات ہوئے ۔ کیا خبر کہ لاہور دہشتگردحملے اور داسو میں توانائی منصوبے پرکام کرنےوالےچینی انجینئرز پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی کی کڑیاں کس دشمن ملک سے جاملیں۔ خطے میں کھیلے جانے والے اس سارے کھیل میں امریکہ بھلا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے ۔ چنانچہ افغانستان سے جاتے جاتے نہ جانے امریکیوں کو کیا شرارت سوجھی کہ کابل ہوائی اڈے کی حفاظت ترکی کو دینے کی چال چل گئے ۔ یہ معاملہ کافی لے دے کا باعث بنا ہوا ہے ۔

اب امریکی پیشکش قبول کرنا یا نہ کرنا بہرحال ترکی پر منحصر ہے ۔ افغان طالبان ترکی کو خوش آمدید کہنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہیں۔ چنانچہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے افغان طالبان کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنےکی دعوت دی ہے ، جسے قبول کرتے ہوئے مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا فریقین کےبہترین مفاد میں ہے ۔ ہمارےلیے ترک اور افغان دونوں قابلِ احترام ہیں ۔ جہاں افغان طالبان نے سوویت یونین اور بعدازاں امریکہ و اتحادیوں کے خلاف عسکری مزاحمت کرکے خود کو “مجاہدین” کہلوایاہے ، وہیں ترکوں کی ہزار سالہ تاریخ بھی اسلام پسندی ، جذبہ جہاد اور شہادتوں کی طویل داستان سے بھری پڑی ہے۔ لہذٰا دونوں میں کسی قسم کی محاذ آرائی ہوگئ تو امریکہ کو شکست خوردگی سے بھی ایک بڑی کامیابی دلانے کے مترادف ہوگا۔

جہاں تک ترک صدر کے افغان طالبان کے متعلق متنازعہ بیانات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ترک صدر کا بیان قابلِ غوروفکر​ ہے، طالبان کوچاہیے کہ ہم مذہب مسلمانوں سے صلح رحمی اورحسن سلوک برتیں ۔ اعتدال پسندی اورامن کی راہ اپنائیں، اب افغان سرزمین غیرملکی قابض قوتوں سے آزاد ہوچکی ہے ، لہذٰا اندرونی معاملات میں صبروتحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں ۔ اور ایک مثبت اور تعمیری سوچ اپناتے ہوئے افغانستان کی بحالی اورترقی میں بھی اپنا کردار اداکریں کیونکہ افغانستان مزید خونریزی کا متحمل نہیں ہوسکتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں