مکتوب /سید افتخار گیلانی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل……(2)

کسی کو فرصت تھی، نہ اتنے انسانی وسائل تھے، جو ان کو استعمال کرسکتے تھے۔ خیرکئی ما ہ بعد جب نئے سربراہ نے عہدہ سنبھالا اور اس نے ان کمروں میں موجود کاٹھ کباڑ کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس مشق کو بند کرنے کا فرمان جاری کردیا۔ 2مارچ 2017کو میکسکو میں ایک صحافی سیسیلو پینڈا نے جب اپنے موبائل فون پر حکومتی عہدیداروں اور مقامی ڈرگ مافیا کے درمیان تال میل کے بارے میں ایک اسٹوری ریکارڈ کی اور اسکے ابتدائی حصے اپنی فیس بک پر اپ لوڈ کئے تو اسکے چند گھنٹوں کے بعد ہی کسی موٹر سائیکل سوار نے اسکے سینے میں چھ گولیاں اتار کر اسکو موت کی نیند سلا دیا۔ اسکا موبائل فون بھی غائب تھا۔ فوربڈن سٹوریز کی تحقیق کے مطابق پینڈا ان پچاس ہزار افراد کی لسٹ میں ہے جن کے فون کو پیگاسس کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا تھا۔ چونکہ اس کا فون برآمد نہیں ہوا اسلئے اسکی فورنزک جانچ نہیں کی گئی۔ اسی طرح اکتوبر 2018میں جب واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس جمال خشوگی کو ترکی کے شہر استبول میں واقع سعودی قونصل خانہ کے اندر قتل کیا گیاتو ان کے ایک قریبی دوست عمر عبدالعزیز کے فون کو پیگاسس کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا تھا۔

نئے انکشافات کے مطابق پیگاسس کا سافٹ ویئر خشوگی کی منگیتر حاطس چنگیز کے فون پر بھی قتل کی واردت سے چار دن قبل نصب کیا گیا تھا۔ تقریباً ایک سال قبل فوربڈن سٹوریز اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واشنگٹن پوسٹ، لندن کے گارڈین اخبار اور بھارت کے دی وائر کی مدد سے اسرائیلی کمپنی این ایس او ٹیکنالوجی کے تیار کردہ پیگا سس سافٹ وئیر سے جاسوسی نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑنے کا بیڑا اٹھایا۔ معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 50ہزار کے قریب افراد اسکی زد میں ہیں، جن میں 180صحافی ، 50سیاستدان، جن میں کئی مملکتوں کے سربراہان یا وزیر بھی شامل ہیں اور ایک بڑی تعداد انسانی حقوق کے کارکنان و افسران اور ججوں کی ہے۔ اس لسٹ کو حاصل کرنے کے بعد لندن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک سکیورٹی لیب قائم کرکے ان میں سے اکثر افراد سے رابط کرکے ان سے اپنے فون کی فورنزک جانچ کروانے کی گذارش کی۔ دوبارہ تصدیق کیلئے کینیڈا کے تکنیکی گروپ سٹیزن لیب نے بھی معاونت فراہم کی۔ اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یہ حساس سافٹ ویئرصرف حکومتوں کو ہی مہیا کرتے ہیں اسلئے کسی غیر متعلق شخص یا پرائیویٹ پارٹی کا اس تک رسائی حاصل کرنا ناممکن ہے۔اسکو خریدنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے کیونکہ اس کی خریدوفروخت کی تمام دستاویزات مکمل طور پر خفیہ رکھی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 40ممالک میں ان کے 60گاہک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سافٹ ویئر سے دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں پر قد غن لگانے میں مدد ملی ہے اورکئی حادثے ٹل گئے ہیں۔ مگر جو نام منظر عام پر آ ئے ہیں ان میں نہ تو کوئی دہشت گرد ہے اور نہ ہی جرائم پیشہ۔ بیشتر افراد تو حکومت کے سیاسی مخالفین ہیں یا پھر اس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ اس کمپنی کے ایک افسر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ اس سافٹ ویئر کے ذریعے صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کئے جانے کا نوٹس لیکر متعلقہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی عام سافٹ ویئر نہیں ہے، اسکو نصب کرنے کیلئے تکنیکی مہارت کا ہونا لازمی ہے۔ بھار ت میں میرے ایک سینئر ساتھی پرنجے گوہاٹھاکرتا کو اس سافٹ ویئر کا نشانہ اس وقت بنایا گیا جب وہ معروف صنعتی گھرانہ امبانی سے متعلق ایک اسٹوری پر کام کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے فون کو صرف اس وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ سٹوری کیلئے کون مواد فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح میرے سابق ادارے ڈی این اے میں میرے دو کولیگ سیکت دتہ اور دیپک گڈوانی بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔ دہلی میں مقیم دو اور کشمیری صحافی انڈین ایکسپریس کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مزمل جلیل اور ہندوستان ٹائمز کیلئے کانگریس پارٹی کو کور کرنے والے اورنگ زیب نقشبندی اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا یعنی پی ٹی آئی کے سکیورٹی ایڈیٹر سمیر کول بھی پیگاسس کی زد میں رہے ہیں۔ دی وائر کا ایک طرح سے پورا سٹاف ہی لسٹ میں ہے۔ الیکٹرانک فرنٹئیر فاونڈیشن میں سائبر سکیورٹی کی ڈائریکٹر ایوا گالپی رن نے 2010میں پہلی بار پیگاسس کی مدد سے ویت نام اور میکسکو میں صحافیوں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کا پتہ لگایا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ 2011تک اس کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ ایک ای میل بھیجی جاتی تھی۔ جونہی وصول کرنے والا شخص اس کو کھولتا تھا تو اسکا میل ویئر اسکے کمپوٹر میں جذب ہوکر اس کا ڈیٹا ارسال کرنے والے ادارہ تک پہنچاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر اب خاصا جدید ہو گیا ہے،

اب میل وغیرہ بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے۔ فون کو استعمال کرنے والے صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی موبائل فون پر یہ لوڈ ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد فون کا سارا ڈیٹا، فون کالز، انکرپٹ کا دعویٰ کرنے والے ایپ یعنی واٹس ایپ، ٹیلیگرام، سگنل وغیرہ سب نگرانی کرنے والے کی دسترس میں آجاتے ہیں۔ گالپی رن کے مطابق پیگاسس کی مدد سے ٹارگٹ کئے گئے فون کے ذریعے آڈیو اور ویڈیو بھی ریموٹ سے ہی ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں۔ ویسے ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد دنیا بھر کے خفیہ ادارے انسانوں کے ذریعے خفیہ معلومات کے حصول یعنی HUMINTکے بجائے ٹیکنالوجی کے ذریعے خفیہ معلومات یعنی TECHINTکے حصول کو ترجیح دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ دو دہائی قبل تک کانگریس پارٹی کی بریفنگ کے بعد ہال یا دفتر کے باہر انٹیلی جنس بیورو کے سیاسی سیل کے اہلکار گھومتے رہتے تھے اور صحافیو ں کی منت سماجت کرکے معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ ترجمان نے آج کیا بیان دیا ہے۔

یہ سلسلہ کافی عرصے قبل بند ہو گیا ہے۔ شاید اب انکو کسی لیڈر کے فون کی جاسوسی کرنا نسبتاً آسان لگتا ہوگا۔ دنیا بھر میں اب کئی حکومتیں اور کمپنیاں جاسوسی کے آلات بیچتی ہیں۔ اسی سال جون میں معلوم ہوا تھا کہ ایک فرانسیسی کمپنی ایمی سس نے 2007سے 2011تک لیبیا کی حکومت کو ایسا سافٹ ویئر فراہم کیا تھا جس کی مدد سے وہ اپوزیشن لیڈروں کی نگرانی کر رہی تھی اور بعد میں ان کو گرفتار کرکے ٹارچر کیا گیا۔ ان تمام تر انکشافات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی پیگاسس سافٹ ویئر اب دنیا بھر میں مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو چپ کرانے کیلئے ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ یہ بھی طشت از بام ہوگیا ہے کہ حکومتیں جمہوری ہی سہی، مگر وہ تمام ضابطوں کی دھجیاں بکھیر کر نجی زندگی میں کس حد تک مداخلت کرسکتی ہیں۔ یہ شاید پوری دنیا کیلئے ایک ویک اپ کال ہے۔ یہ انکشافات کہہ رہے ہیں کہ اگر اب بھی نہ جاگے ، اورضابطو ں و پرائیویسی کے قوانین کو اور سخت نہ بنایا گیا تو آپ کا بیڈ روم بھی کسی کی دسترس سے محفوظ نہیں ہے۔ (ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں