ویکسین نہ لگوانے والوں کیلئے 31 اگست کی ڈیڈ لائن، مزید پابندیوں کا عندیہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان میں کرونا وبا کے نگراں ادارے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ویکسین نہ لگوانے والے پبلک سیکٹرز میں کام کرنے والے ملازمین، دکان دار، ریستوران اور ٹرانسپورٹرز کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

پاکستان میں کرونا وبا کے نگراں ادارے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے ملک میں ویکسین نہ لگوانے والوں کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن کا اعلان کیا ہے۔اسد عمر نے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک بند کر کے وبا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وبا سے مکمل طور پر نکلنے کا حل ویکسین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اور جہاز کا سفر کرنے والے شہریوں کو ویکسین لگوانے کے لیے یکم اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 31 اگست تک پبلک سیکٹرز، قانون نافذ کرنے والے ادارے، دکان دار، ٹرانسپورٹزر، شادی ہالز اور ریستوران میں کام کرنے والے افراد لازمی ویکسین لگوائیں۔ 31 اگست تک ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اسد عمر نے کہا کہ جیسے ہی وبا کم ہوتی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ وبا ختم ہو گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آپ کی حفاظت کے لیے ہی کیا جا رہا ہے۔ آپ کا کاروبار چلے تو ہی معیشت بھی چلے گی۔

اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سندھ حکومت کی پوری مدد کریں گے۔ان کے بقول سندھ حکومت کرونا کو بڑے مستعد انداز میں دیکھ رہی ہے، شہر کو بند کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے ‘سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول’ (سی ڈی سی) نے تجویز کیا ہے کہ ملک کے مخصوص حصوں میں جن لوگوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لے رکھی ہیں ان کو بھی اس وقت ماسک پہننے کی ضرورت ہے جب وہ بند کمروں میں موجود ہوں۔

ایک اور فیصلہ واپس لیتے ہوئے سی ڈی سی نے اساتذہ، طلبہ اور اسٹاف کے لیے بھی تجویز کیا ہے کہ وہ اسکولوں کے اندر ماسک پہنیں بھلے انہوں نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں۔سی ڈی سی نے کہا ہے کہ اِن ڈور ماسک پہننے کی تجویز ملک کے مختلف حصوں میں ویکسین لگوانے کی کم شرح کے پیشِ نظر دی گئی ہے۔

کرونا کیسز میں اضافے کا سبب وائرس کی تیزی سے پھیلنے والی قسم ’ڈیلٹا‘ ہے۔ ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ویکسین کی خوراکیں مکمل کرنے والے افراد بھی ڈیلٹا ویرینٹ کی زد میں آئے ہیں گو کہ اُن میں بیماری کی شدت کم تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں