وفاقی پولیس کے اعلی آفیسران دارلحکومت سے منشیات فروشی کے خاتمےکے لیےسرگرم ہوگئے

اسلام آباد (رپورٹ: علی عمران عباسی)ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر سید مصطفی تنویر اور ایڈیشنل ایس پی اسلام آباد فرحت عباس کاظمی کے ہمراہ جمعرات کے روز ریسکیو ون فائیو پر اسلام آباد پولیس کے طرف سے منشیات فروشی کے خاتمہ کے لئے چلائی جانے والی مہم کے سلسلہ میں اہم پریس کانفرنس کی۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق وفاقی دارلحکومت کو منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کے لئے اسلام آباد پولیس نے گزشتہ تین روز کے دوران ضلع بھرمیں منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا، اس آپریشن کے دوران 47منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

گرفتار منشیات فروشوں کے قبضے سے8230گرام ہیروئن،19698گرام چرس،519گرام آئس بھی برآمد کر لی گئی ہے۔14ملزمان کے خلاف 9C، 33ملزمان کے خلاف 9Bکے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔گرفتار منشیات فروشوں میں متعدد ایسے ملزمان بھی ہیں جو سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں اور ان کے خلاف مختلف تھانہ جات میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ آئی جی اسلام آبادقاضی جمیل الرحمان نے اس ناسور کے خاتمہ کے لئے علمائے کرام سے بھی مدد طلب کی اور ایک بڑا سیمینار بھی منعقد کیا گیا.

اسلام آباد پولیس ہر جمعہ کے روز مساجد میں بھی عوام الناس سے اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مدد کی اپیل کرتی ہے۔افضال احمد کوثر نے مزید کہا کہ منشیات نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے، اسلام آباد پولیس منشیات کی سپلائی کے ساتھ ساتھ اس کی ڈیمانڈ کے خاتمہ کے لئے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے۔گزشتہ دنوں جن منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ان میں ٹیکسی ڈرائیور، لیڈیز اور کچھ غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں.

ملزمان نے بتایا کہ ان کے گاہک بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کرتے ہیں اور ان کے بتائے ہوئے مقام پر ان کو منشیات سپلائی کرتے تھے، غیر ملکی باشندوں نے انکشاف کیا کہ وہ زیادہ تر نوجوانوں میں منشیات کی سپلائی کرتے تھے،ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایاکہ ہم نے منشیات فروشی کے نیٹ ورک کو توڑ نے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے اور یہ آپریشن اسکے خاتمہ تک جاری رہے گا۔انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کہیں وہ اس لعنت کا شکار تو نہیں ہو رہے.

شہری بھی اپنے اردگرد کے ماحول پرنظر رکھیں اور منشیات فروشوں کے بارے میں کسی بھی انفارمیشن کو فوری اپنی پولیس کے ساتھ شئیر کریں، اطلاع دہندگا ن کے نام مکمل صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اس سلسلہ میں پولیس کے ساتھ آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔آخر میں ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کریں تاکہ ہماری آنے والی نسل اس کی تباہی سے بچ سکے۔

اسلام آباد (رپورٹ: علی عمران عباسی)ڈاسلام آباد کے تھانہ جات میں مزید جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ تفصیلات کے مطابق آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کی ہدایت پر ضلع بھر کے تمام تھانہ جات کے اندرونی نگرانی کے عمل کو مربوط اور شفاف بنانے کیلئے مزید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تھانہ جات میں حوالات،محرر اور ایس ایچ اوز کے دفاتر کی براہ راست نگرانی سنٹرل پولیس آفس،ڈی آئی جی آپریشنز آفس، سیف سٹی میں قائم کنٹرول روم سے کی جائے گی، نگرانی کے ساتھ ساتھ ریکارڈنگ بھی کی جا ئے گی ان اقدامات سے تھانے کی سطح پر پولیس کے خلاف عوامی شکایات میں کمی اور انصاف کی فراہمی میں خاطر خواہ مدد ملے گی پولیس اسٹیشنز میں نصب کیمرے براہ راست ڈی آئی جی آپریشنز آفس اور سیف سٹی مانیٹرنگ روم سے منسلک ہوں گے جبکہ سنٹرل پولیس آفس کو بھی اس نظام تک رسائی حاصل ہو گی،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ تھانہ جات میں کیمروں کی تنصیب سے پولیس کے روئیے اورعوام کی بروقت مدد سمیت تھانہ جات کے اندر ہر فعل پر نظر رکھی جائے گی اور ان اقدامات سے تھانے کی سطح پر پولیس کے خلاف عوامی شکایات اور لاک اپ میں مبینہ پولیس تشدد کا خاتمہ ہوگا،انکی شفاف مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جائے گا،انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جدید ٹیکنالوجی کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو سہولیات اور انصاف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے اقدامات کا مقصد بھی عام آدمی کی عزت نفس کا خیال رکھنا اور انہیں تھانوں میں بہترین ماحول فراہم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں