نقطہ نظر/ قاضی عدیل

نهنی کلی

ایک اور پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا نھنی کلی کو دبوچ لیا گیا ایک ماں کی لاڈلی کو کو نہ صرف اس سے جدا کیا گیا بلکہ ایسی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے جو وہ عمر بھر کا روگ لیے سسکتی رہے گی وہ ماں جو اولا کے کھانا نہ کھانے پر تڑپ جاتی ہے اس سے اس کی بیٹی کو پانچ دن تک غائب رکھا گیا اس کی یہ آس امید ہوئی ہو گی کہ نہ جانے کس لحمہ اپنی معصوم کلی کی خیریت معلوم ہو گی وہ انتظار کی اسی کڑک دھوپ میں جل رہی تھی کہ جب اسے پتہ چلا کہ اس کی نھنی معصوم بیٹی کو بے رحم اور ظالم نے پانچ دن کے بعد قتل کر دیا تو اس وقت اس پر کیا گزری ہو گی یہ آپ اور میں تصور بھی نہیں کر سکتے

برداشت کرنا اور معاف کر دینا کیا ہوتا ہے؟ ان کے معنی سے شاید ہمارا معاشرہ واقف ہی نہیں ہے۔ ہمیں اب عدم برداشت سے متاثرہ اور جان لیوا کئی واقعات کے بعد یہ تسلیم کر لینا چاہیئے کہ ہم ایک بیمار ذہنیت کا معاشرہ ہیں جو نہ صرف ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بھلا دیتا ہے بلکہ ایک نئے سرے سے جرم اور بےحسی کے عزم سے پوری تیاری کے ساتھ ایک بار پھر پچھلی غلطیوں کو دہرانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتہ 16 تاریخ کو عباسپور سکنہ مہنگار سے زاہد شاہ کی بیٹی حلیمہ دختر زاہد شاہ عمر 12 سال تھی جو کلاس ششم کی سٹوڈنٹ تھی کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا ملزم محسن ولد محمد مشتاق جو کہ ایم ایس سی کا سٹوڈنٹ ہے مقتولہ کا قریبی رشتے دار اور پڑوسی ہے نے لاش کو ایک گٹر میں ڈال کر دو فٹ مٹی کا ملبہ ڈال دیا اس ظالم کو ایک لمحہ کیلئے بھی ترس نہ آیا کہ وہ وہ کیوں اس معصوم کلی کو دبوچ رہا ہے جو ابھی کھلی ہی نہیں لاش کا پوسٹ مارٹم کرکے تدفین کردی گئ ہے تاہم پوست مارٹم کی رپورٹ ملنے پر ہی معلوم ہوگا کہ قتل کی اصل کیا وجہ ہے اس موقع پر انجمن تاجران ،سول سوسائٹی،ہرمکتب فکر اورعوام نے گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر ،آئی جی پولیس ،ڈی آئی جی سمیت دیگر احکام بالا سے پرزور اپیل کی کہ ایسے ملزمان کو سر عام پھانسی دی جائے

کیا اس ملزم کو پھانسی دی جائے گی کیا اس سے پہلے ہونے والے ایسے واقعات کے ملزم آزاد گھوم رہے ہیں ہم نے ملزمان کو نشان عبرت کیوں نہیں بنایا کیوں ہم ایک کے بعد ایک حادثے کا انتظار کرتے ہیں آج وہ تو کل آپ اگر آج آپ اس ظلم کے خلاف نہیں بھولیں گے تو کل یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے پھر سوائے افسوس دکھ درد کے کچھ بھی نہیں ملے گا

۔آج ہر جانب قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں قتل ہو رہے ہیں۔ جنہیں مائیں برسوں جھولے جھلا جھلا کر جوان کرتی ہیں، کسی شقی القلب کی انا کی بھینٹ چڑھ کر آن واحد میں ماضی کی گَرد بن جاتے ہیں۔ بلا تفریق رنگ و نسل، عمر و جنس ہر ایک قتل کیا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب والدین کے ہاتھوں اپنے بچوں کے قتل کی لرزہ خیز خبریں سننے میں آ رہی ہیں۔ عدم برداشت کا مرض ہر کچے پکے گھر میں پہنچ چکا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کرنے والے بھی دم سادھے خاموش ہیں۔ اخبارات میں روزانہ قتل کی بیسیوں خبریں منہ چڑا رہی ہوتی ہیں لیکن کسی کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انھیں معمول کا قصہ سمجھ کر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ اہل علم کی قلمیں خشک ہو گئی ہیں اور اہل اقتدار اپنے اقتدار کے گھن چکر میں پس رہے ہیں۔ اہل منبر اپنی جانیں بچانے کی فکر میں ہیں جبکہ منصفین، اہل سطوت کی چاپلوسی میں لگ کر کھرے کھوٹے کی پہچان بھول گئے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں