ابر نامہ : ابو بکر راٹھور

تلاش ، افغانستان، سائیکل

تلاش
وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے ۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتے اور دنوں میں سمٹ رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ۔ زمانہ آخر کی نشانیاں اور علامتیں آئے روز ظاہر ہو رہی ہیں ۔ سائنسی ایجادات ہوں کہ تسخیر کائنات کے مراحل ، ہم ہر روز ایک  قدم آگے بڑھ رہے ہیں ۔

کبھی کبھار کسی کی بیماری اور موت کی خبر سننے والے دن گئے ۔ وبا کے دنوں میں ہر روز ایک نئے سانحے کی خبر مل رہی ہے ۔ اتنی اموات سے گزر کر بھی ہم جی رہے ہیں تو اس پر شکر واجب لیکن کیا کریں کہ پچھلے چند روزہ واقعات نے دل اور جذبات کو قتل کر دیا ہے ۔ معاشرتی بے حسی اور بے راہ روی نے وحشیانہ روپ اختیار کر لیا ہے ۔

چودہ اگست کو مینار پاکستان پر ہونے والے واقعے کی تفصیل سامنے آئی تو ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ جس کا اظہار ممکن نہیں ۔ اگلے ہی روز متاثرہ لڑکی کی حمایت اور مخالفت کا بازار سج گیا ۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ اس کے ساتھ ہونے والی حرکت زیادہ گھٹیا اور غیر اخلاقی ہے یا اس حرکت کا دفاع کرنے والوں کے بیانات ۔

سوشل میڈیا کے دانشور حضرات کی ایک طویل فہرست ہے کہ جن کے بقول انھوں نے حقیقت بیان کی لیکن وہ اس حقیقت کو بھول رہے ہیں کہ کسی طور بھی ایسی بیہودگی کا دفاع ممکن نہیں ۔ ابھی اس سوچ اور الجھن سے نہ نکلے تھے کہ رکشہ سوار بچیوں کے ساتھ ہونے والی بیہودگی کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی اور پھر بائیک سوار کے ساتھ کی جانے والی حرکت الگ ۔

وزیراعظم آزاد ریاست جموں و کشمیر کے حلقے کی رہائشی بارہ سالہ بچی گھر سے غائب ہو گئی ۔ گھر والے پریشانی اور الجھن میں رہے اور بالآخر پولیس کی محنت رنگ لائی اور بچی مل گئی مگر مردہ ۔ شک کی بنیاد پر کی جانے والی تفتیش کے نتیجے میں ملزم کی نشاندھی پر بچی کی لاش نکالی گئی ۔ سفاک قاتل مقتول بچی کے خاندان کا ہے ۔

فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے کیا کہا جائے ۔ سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے والا بیانیہ اب کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔ بھلے اور نیک لوگوں کی موجودگی سے انکار نہیں لیکن کیا کریں کہ کثرت سے ہونے والے واقعات نے اپنے مشاہدے اور تجزیے سے رجوع کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ایسے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ٹیسٹ کیس بنتے جا رہے ہیں ۔

زینب قتل مقدمے کے بعد ہونے والی قانون سازی کے نتیجے میں ایسے واقعات میں کمی ہونی چاہیے تھی لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ قانون سازی اور عمل درآمد کے باوجود  ایسے واقعات کے بعد ہمیں تلاش کرنا ہے کہ کمی کہاں رہ گئی ہے ۔ اس کمی کو دور کرنا لازم ہے ۔

افغانستان
طالبان کی کامیابی کے بعد افغانستان کی سیاست اور حکومت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ تجربے ، جدوجہد اور مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والی افغان قیادت کو عالمی سطح پر ابھی تک کسی بڑے اعتراض کا سامنا نہیں ہے ۔

سابقہ دور حکومت میں طالبان کے متشدد رویے کی وجہ سے وہ حرف تنقید کا نشانہ بنتے رہے مگر اس مرتبہ صورت حال مختلف ہے ۔ طویل مذاکراتی دور کا نتیجا ہے کہ کم سے کم مزاحمت اور نقصان کی پالیسی اپناتے ہوئے طالبان نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے ۔ افغانستان میں نئی حکومت کا قیام خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بھارت کے لیے زیادہ باعث تشویش ہے ۔ بظاہر لگتا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کے بہت سے خواب تعبیر سے محروم ہو گئے ہیں ۔

بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں کی یہ پریشانی بے سبب نہیں ہے ۔ اب حالات ایسے نہیں رہے جو بھارتی مفادات کا تحفظ کر سکیں ۔ تمام مقتدر حلقوں کو وزیراعظم عمران کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا پیغام یہی پس منظر لیے ہوئے تھا ۔ پاکستانی نجی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان نے بھی افغانستان اور خطے میں بے چینی کی وجہ سیاسی حل کے بغیر امریکا کا واپس جانا قرار دیا ہے ۔

اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں بھی افغانستان میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کی کوششوں کو بڑھاوا دینے پر زور دیا گیا ہے ۔ سیاسی تصفیے کے بغیر افغانستان کو چھوڑنا امریکا کی آخری چال تھی لیکن اب تک وہ کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہی ۔

طالبان ترجمان اور افغان حکومت کے رویے نے ممکنہ خانہ جنگی اور انتشار کے خدشات کو کم کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے روس ، چین اور دیگر ممالک افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں ۔

بائیسکل
وقت گزرا اور زندگی کے معیار بدل گئے ۔ تیز رفتار مشینی دور میں زندگی کے ہر عمل کی عمارت تحسین و شناخت کی بنیاد پر قائم ہے ۔ ہم ایسے عجب دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں بغیر مطلب سانس لینا بھی خود پر بوجھ سمجھتے ہیں ۔ بھلے دن تھے کہ جب آوارہ گرد تسکین ذات اور تلاش ذات کے لیے شہر اور زندگی کی چکا چوند سے دور بھاگتے تھے ۔ اب ایک دوڑ شروع ہے اور ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ بس دو دو چوپڑی ہوئی مل جائیں ۔

سیاحت جیسا مقدس فریضہ بھی اس لیے انجام دیا جا رہا ہے کہ دنیا ہمیں جان پائے اور واہ واہ کی آوازیں بلند ہوں ۔ شہر کی جھلمل سے دووور کسی جھیل کے کنارے “بہتی چاندنی کا بولتا سکوت” ہمارا مقصد نہیں رہا ۔ بھلا ہو سوشل میڈیا اور کیمرا موبائل فون کا کہ دونوں “سیاح” اور “آوارہ گرد” کے مقام میں فرق ختم کر گئے ۔ “سیاحت” اور “آوارہ گردی” کے مابین باریک فرق پر پھر کبھی بات کریں گے ۔ اس وقت ذکر مقصود ہے ان خاتون کا جو کے-ٹو بیس کیمپ تک بائیسکل پر جانے کا دعوی کر رہی ہیں ۔

کنکورڈیا یا کے-ٹو بیس کیمپ راستے کی دشواریوں ، گلیشیئرز اور خوبصورت ٹریک کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ بیس کیمپ سے سینہ تانے مغرور کے-ٹو کا دیدار ایسا ناقابل بیان لطف ہے کہ جس کے عشق میں مجھ جیسے مجبور بھی طویل عرصے سے مبتلا ہے ۔ چند روز قبل ایک پاکستانی خاتون نے بائیسکل کے زریعے وہاں تک پہنچنے کا دعوی کیا ۔ سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا تک ان کے اس عالمی ریکارڈ کی دھوم مچ گئی لیکن افسوس کہ شہرت کی یہ گرد جلد ہی بیٹھ گئی ۔ بلندی تک سامان لے جانے والے پورٹرز کے گروپ میں وہ تصویر سامنے آئی کہ جس میں ایک پورٹر خاتون کی بائیسکل لیے نظر آ رہا ہے ۔

اس تصویر کا سامنے آنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف اسی کا چرچا ہونے لگا ۔ ریکارڈ کے اندراج کے لیے خاتون سے زیادہ پورٹر کی حمایت میں لوگ سامنے آئے ۔شہرت اور ناموری کے لیے ان خاتون کی کوششوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ۔ اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی گئی اور سیکڑوں کی تعداد میں سوشل میڈیا کی پوسٹ اور تجزیے سارا مزا کرکرا کر گئے ۔ چند روز تو عالمی ریکارڈ کے سحر میں جینے دیتے ۔

یکسر خوابوں کے محل کو گرانا بھی مناسب نہیں نا ۔ خاتون کی طرف سے جوابی ویڈیو سامنے آئی اور سب کچھ جھوٹ اور منفی پراپیگنڈا قرار دیا گیا لیکن ابھی تک کوئی ویڈیو ایسی سامنے نہ آ سکی جو ان کے دعوے کو سچ ثابت کر سکے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ داد و تحسین کے حصول کی اس کوشش میں دنیا بھر کے مہم جو حلقوں میں ہونے والی رسوائی اور سبکی کا انھیں احساس تک بھی نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں