چٹان/عائشہ نور

سقوط کابل یا فتح کابل؟

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے عالم کفر کیخلاف جتنی بھی عسکری کامیابیاں حاصل کیں​ وہ عددی یا حربی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ قوت ایمانی، جذبہ جہاد اور شوق شہادت کے سبب پائی ہیں ۔ ان میں سے صلیبی جنگوں میں فتح کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ صلیبی جنگوں میں اقوامِ مغرب نے متحد ہوکر پورے مذہبی جوش وخروش سے عالم اسلام کے خلاف آگ اور خون کا کھیل کھیلا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ صلیبی جنگیں سینکڑوں سال پہلے ختم ہوگئی تھیں ، تو آپ غلط ہیں ۔ یہ ضرور ہے کہ خلافت عثمانیہ کے زمانہ عروج میں یورپ پر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم رہا۔ جب خلافتِ عثمانیہ کو زوال آیا اور پہلی جنگ عظیم میں شکست کھانے کے بعد عیسائی دنیا نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کردئیے اور فلسطین کے قلب میں اسرائیل نامی خنجر پیوست کردیا گیا ۔

خلافت کا خاتمہ مسلم دنیاکےلیے صدی کا سب سے عظیم سانحہ تھا ۔ مسلم دنیا پھر کبھی سکھ کا سانس نہ لے سکی ، خون مسلم ارزاں قرار پایا ۔ یہاں تک کہ اکیسویں صدی نے زندگی کے دروازے پر دستک دے دی۔ یہ صدی بھی مسلمانوں کیلئے نئی آزمائشوں کے ساتھ وارد ہوئی ۔ 9/11 کے واقعے نے افغانستان میں صلیبی لشکرکشی کی راہ ہموار کردی ۔ مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر انگلیاں اٹھنے لگیں ، دہشتگردی اور انتہاپسندی کے گھناؤنے الزامات لگے ۔ مسلمانوں اوراسلام کو بدنام کرنے کیلئے مغربی دنیا یک زبان ہوکر زہریلے پروپیگنڈے میں مشغول ہوگئے ۔ دوسری جانب بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام عائد کرکے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئ ۔ پھر شام کو فرقہ واریت کے جال میں پھنسا کر خانہ جنگی میں الجھا دیاگیا۔ وقت نے ثابت کردیا کہ بش انتظامیہ نے افغانستان اور عراق میں خون کی ہولی کھیلنے کے جو بہانے تراشے ،وہ سفید جھوٹ تھے ۔

9/11کو مسلمانوں اورعیسائیوں کے درمیان تہذیبی تصادم بناکر پیش کیاگیا ، جس کے جواب میں مسلمان دانشور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے صفائیاں دیتے نظرآئے ۔ عراق اور افغانستان استعماری طاقتوں کا مقتل بنے اور ان کا غرور خاک میں ملادیا۔ امریکہ گزشتہ پانچ برس سے افغانستان سے فرار ہونے کےلیے حیلے بہانوں کی تلاش میں تھا ۔ ملا عبدالغنی برادر جوکہ افغان طالبان کے بانی راہنماؤں میں ایک ہیں انہیں آئی ایس آئی نے 2010 میں گرفتار کیاتھا ، وہ خود امریکہ ہی درخواست پر 2018میں رہا کیے گئے تاکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے ۔مذاکرات کی یہ میز دوحہ میں سجی ، اور وہ افغان طالبان جنہیں دہشتگرد قراردیاجاتا رہا، انہیں دنیانے ایک فاتح قوت کے طورپر تسلیم کرلیا۔

کہاجاتاہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ اور طالبان کے درمیان کچھ ایسا ضرور طے پایا کہ جس کے نتیجے میں طالبان کو افغانستان پر اتنی برق رفتاری سے قبضہ کرنےمیں امریکہ کی جانب سے کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی۔ افغانستان دراصل ایسامیدان جنگ تھا ، جہاں مختلف ممالک نے اپنے اپنے مفاد کی خاطر اپنے حریفوں کے خلاف پراکسیز لڑیں اور نتیجتاً تمام باطل قوتوں کو عبرت ناک شکست ہوئی۔

ان پراکسیز میں بھارت اور اسرائیل نے بھرپور حصہ لیا تھا کیونکہ امریکہ کااگلا ہدف پاکستان تھا۔ بھارتی میڈیا امریکی افواج کے افغانستان سے نکل جانے پر بےوجہ تو غمزدہ نہیں ہے۔ دراصل یہ صلیب کے ہلال پر غالب نہ آپانےپر ہنود ویہودکا ماتم ہے۔
افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کا سب سے زیادہ فائدہ سی پیک کو ہوگا۔ کیونکہ اب بھارتی راء افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف مزید استعمال نہیں کرسکے گی ۔دنیا نے دیکھ لیا کہ جب افغان طالبان فاتحانہ انداز میں کابل میں داخل ہوئے تو کوئی لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں نہیں آئی ۔

طالبان نے خواتین کوحقوق دینے کا بھی عندیہ دیا۔ یہ پرامن انتقالِ اقتدار دراصل جہادی تنظیموں کے خلاف مغربی میڈیا کے بیانیے کی بھی شکست ہے ۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ افغان طالبان دہشتگرد نہیں ہیں ، بلکہ وہ اپنے ملک کو غاصب قوتوں سے چھڑانے کےلیے لڑےتھے۔ ان سے جو کچھ جبراً چھینا گیا ، وہ اسے واپس لینے کے بعد انہوں نے بدلہ لینےکی بجائے عام معافی کا اعلان بھی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں