آگہی/عمرفاروق

روحانی سفر

زندگی کے سفر میں ہم سب یونہی ان گنت جسمانی، ذہنی اور جذباتی سفروں کے مراحل طے کرتے رہتے ہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ، سبھی کی زندگی اِس طرح کے بے شمار سفروں کی کہانیوں سے بھری ہوتی ہے۔ سفر کسی بھی طرح کا ہو، جسمانی ہو یا ذہنی، قلبی ہویا پھر روحانی۔ ہر سفر ہماری زندگی پر کچھ نہ کچھ اثرات ضرور مرتب کرتا ہے۔ کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے۔ کوئی نشان ضرور چھوڑتا ہے۔ اور ہماری زندگی کے اگلے مرحلے میں پرانے سفروں کا رنگ، تھوڑا یا بہت، کسی نہ کسی شکل میں ضرور جھلکتا ہے۔

آزادکشمیرکے حالیہ سفرمیں ہمارے لیے سفرسے زیادہ ہم سفراہم تھا،سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کے روح رواں،خادم الامت پیرطریقت مفتی سیدنورزمان شاہ نقشبندی شاذلی کے ساتھ یہ سفر روح کے لیے تازہ ہوا کاجھونکا ثابت ہوا۔محفل،مجلس،تنہائی، یکسوئی اور ایک نئے انسان کی کہانی۔ آپ بھی سفر کے بہانے ڈھونڈتے رہا کریں۔ آپ کی شخصیت میں بھی تازہ ہوا کے جھونکے آتے رہیں گے اور بدن کی تھکن دور ہونے کے ساتھ دل، دماغ اور روح کی بے چینی بھی دور ہوتی رہے گی۔ ضروری نہیں کہ سفر جسمانی ہی ہو۔ ذہنی، قلبی اور روحانی سفر کی منازل تو ہم ایک جگہ بیٹھے بیٹھے طے کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہماری نیت سفر برائے سفر کی نہ ہو، بلکہ سفر وسیلہ ظفر کی ہو۔ پھر ایک سفر، کئی سفروں کے راستے کھول دیتا ہے۔

مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جوسفرکیاجائے عمومااس کوروحانی سفرسے تعبیرکیاجاتاہے مگرمیں نے آزادکشمیرکے حالیہ سفرکواس لیے روحانی سفرقراردیااس سفرمیں جہاں شیخ کاقرب اورفیض نصیب ہواوہاں یہ خالصتا تبلیغی سفرتھا جس میں کہیں ذکرکی مجلسیں تھیں توکہیں اللہ ہوکی صدائیں بلندہورہی تھیں،کشمیرکے بلندوبالاپہاڑوں پر اللہ کی وحدانیت کانعرہ تھا توکہیں دنیاکی بے رغبتی کاتذکرہ تھا،کہیں مسجدکی چٹائیوں پربیٹھ کرشریعت،طریقت اورمعرفت کی باتیں تھیں توکہیں اہل مدارس کے ساتھ علم وعمل، عبادت وریاضت اور اطاعت و خدمت پرمذاکرہ تھا غرضیکہ ہماراہرلمحہ انمول بن رہاتھا..ہمارے اس مختصرقافلے کا پہلا پڑاؤ مری کے خوبصورت مقام پرتھا جہاں سلسلہ نقشبندیہ شازلیہ راولپنڈی کے امیرحافظ عامرعباسی،مری کے امیرحافظ عقیل احمدعباسی ودیگرنے جھیکاگلی کے مقام پرراولپنڈی ڈویژن کے ساتھیوں کاجوڑرکھا ہواتھا جہاں اہل وفاکھنچے چلے آئے تھے حضرت کاخصوصی بیان ہوابیان کے بعد نئی تشکیلات ہوئیں اورہمارے مہربان دوست شاہدشاہ حیدری کوراولپنڈی ڈویژن کا امیر مقرر کیاگیاکچھ نئے احباب نے بیعت کی اورعشق وفاکے اس راستے پرچلنے کاعہدکیا۔

یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہمارااگلاپڑاؤمظفرآبادتھا ھچکے اور بل کھاتے پہاڑی سلسلوں،بھائی حسنین کی طوفانی ڈرائیونگ کے سبب رکتی چلتی دھواں چھوڑتی گاڑیوں کوپھلانگتے ہوئے،دریائے جہلم کے اس پارپہنچے تورات اترچکی تھی آزادکشمیرکے عارضی دارالحکومت گوجرہ کے مقام پرہمارے میزبان راجہ فرخ اورراجہ فرہاد ہمارے بے تابی سے منتطرتھے ان کی مہمان نوازی کے بعد پیرچناسی روڈ پرقائم مدرسہ عبداللہ بن عمر میں کھلی فضاء میں محفل سجی جونمازفجرتک جاری رہی۔

اگلے دن جب ہم مظفرآبادسے باغ کے لیے روانہ ہوئے توحضرت والانے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ انسان جب اپنی صلاحیت کو سمجھے،بروئے کار لائے اور اسے اپنے اندر اجاگر کرے،تابندہ رکھے،تقوی اور طہارت کے ذریعہ،مخلوق خدا کی خدمت کے ذریعے،دنیا بیزاری اور آخرت طلبی کے ذریعے، کثرت عبادت اور حسن اخلاق کے ذریعے،اپنے اندر وہ یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے لئے سب کچھ قربان کر کے اس کے احکام کا پابند بن جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالی کا خاص قرب عطاہوتا ہے،وہ بارگاہ الہی کے مقرب لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور مقام قرب کا یہ اثر ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالی اس کی آنکھ بن جاتے ہیں،اس کا ہاتھ پاؤں بن جاتے ہیں اور اس کا دل ودماغ بن جاتے ہیں۔

کوہالہ سے زرااوپرہل کے مقام پرجمعیت علماء اسلام جموں و کشمیرکے سیکرٹری جنرل مولاناامتیازعباسی نے ہمارااستقبال کیا نمازظہرکی ادائیگی کے بعدحضرت خادم الامت نے خصوصی دعاکروائی اورآزادکشمیرکے مشہورمدرسے جامعہ انوارالعلوم دھیرکوٹ میں طلباء سے خطاب کیا وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی کے رکن وشیخ الحدیث مولاناسلیم اعجازسے ملاقات ہوئی اوراگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے ارجہ کے مقام پرباغ کے ساتھیوں حاجی سرفرازنقشبندی،اظہرنقشبندی شاذلی،مولاناعبدالحلیم قاسمی ودیگر نے حضرت کااستقبال کیا اورہاڑی گہل کے معروف دینی ادارے جامعہ امدادالاسلام میں عوام اورخواص سے الگ الگ بیانات ہوئے بیانات کے بعد پیرسیدنورزمان نے نالہ ماہل کی سیرکی۔

اگلی رات ہماراقیام سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ باغ کے امیرحاجی سرفرازنقشبندی شاذلی کے گھرمیں تھا حاجی سرفرازصاحب اوربھائی اظہر نے محبت اور خلوص بھری باتوں کے ساتھ پر تکلف کھاناکھلایا۔ یہاں ضلع قاضی مظفرآبادمولاناقاضی عبدالباسط کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی،صبح کی نماز کے بعدحاجی سرفرازصاحب کی قائم کردہ مکی مسجدمیں ذکرکی خصوصی مجلس ہوئی۔

باغ چوں کہ پیرسیدنورزمان کے مرشدحضرت قاری ضیاء اللہ نقشبندی کاعلاقہ ہے اس لیے یہاں کی ہرچیزکے ساتھ انہیں محبت ہے قاری ضیاء اللہ نقشبندی ؒ کاتعلق باغ کے علاقے کھرل ملدیالاں سے تھامگرانہوں نے زندگی کراچی میں گزاری وہ مہر و محبت کے پیکر، علم و آشتی کے چلتاپھرتامجسمہ، صلح و نرمی کے جیتے جاگتے نمونہ تھے، صبر و تحمل کے کوہِ وقار، زہد و تقوی کے عظیم شاہ کار اور عدل و انصاف کے پیامبر، اس دنیا میں رہے تو اس شجرِ سایہ دار کی مانند جو اپنوں کو بھی سایہ فراہم کرتا ہے اور بیگانوں کو بھی، جس کی چھاؤں میں دوست بھی بیٹھتے ہیں اور دشمن بھی۔ باد نسیم کے خوش گوار جھونکے کی مانند اس خلیق اور شفیق ہستی نے مخلوق کے دلوں اور ذہنوں پر حکومت کی۔

باغ شہرکی مرکزی جامع مسجدمیں مولاناعطاء اللہ شاہ نے ضیافت کااہتمام کیاتھا یہاں توچندمریض ایسے تھے جوواقعی مسیحاکے منتطرتھے علااج معالجے کے بعدمسجدمیں خطاب ہواجس میں حضرت نے فرمایالوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پرسکون نہیں ہے اور اضطراب کا شکار ہے تو آپ نے زندگی سے کیا پایا؟سکون کی دولت پانے کے لئے لازم ہے کہ آپ کی روح پیاسی اور بے تاب نہ ہو۔ روح کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ رزائلِ اخلاق مثلاجھوٹ، لالچ، حسد، منافقت،غصہ، چوری،نفرت وغیرہ سے اپنی ذات اور شخصیت کو آہستہ آہستہ پاک کریں۔ جسم مادے سے بنا ہے اور ہمیں زمین کی طرف کھینچتا ہے جب کہ روح ایسا امرِربی ہے جو نور سے تشکیل پائی ہے وہ ہمیں کائنات کی وسعتوں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔

باغ سے نکلنے کے بعدمعروف عالم دین وروحانی معالج مفتی محفوظ کی معیت میں راوالاکوٹ پہنچے جہاں سلسلہ کے ساتھی محمدنوازنے علماء کے ساتھ نشست رکھی ہوئی تھی متحرک عالم دین مولانامحمداتفاق،مولانامحمدفاروق ودیگرسے ملاقاتیں ہوئیں یوں یہ مبارک سفرحضرت کے اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیرہواکہ آج کے اس تیز رفتار سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں انسان اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ کائنات کے سربستہ رازوں سے پردے اٹھا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنی ذات سے اس قدر غافل ہوتا جا رہا ہے کہ اپنی اصلاح، نفس کے تزکیہ، مقصدِ حیات اور اس کی تکمیل کی جانب دھیان کم ہی جاتا ہے۔

ہمیں دوسروں کی خامیاں اور کجیاں تو باآسانی نظر آجاتی ہیں لیکن اپنی غلطیاں و کوتاہیاں نظر نہیں آتیں۔ جس طرح دنیاوی علوم کی تحصیل کے لیے کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لینا ضروری ہے اسی طرح طالبِ مولی کے لیے بھی اپنی باطنی تربیت کے لیے خانقاہ میں قیام کرنا ضروری ہے اگرچہ یہ قیام مختصر وقت اور چند روز کے لیے ہی ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں