نقطہ نظر/تیمور چغتائی

آزادکشمیر کی نئی حکومت … چند گزارشات

عام انتخابات 2021،خصوصی نشستوں پر انتخابات، کابینہ کی تشکیل، کشمیر کونسل کے انتخابات سمیت صدر ریاست کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے۔ جہاں بہرحال وزارت امور کشمیر اور گلکت بلتستان کی آزاد کشمیر میں حکومت کے قیام میں مداخلت کچھ زیادہ ہی رہی جس کا اثر آنے والے وقت پر ظاہر ہو گا تاھم آج اس موضوع کو زیر بحث نہ لاتے ہوئے صرف چند گزراشات ہی گوش گزار کرنا ہی بہتر ہوگا۔ آزاد کشمیر کے آپ دسویں منتخب سینیر منسٹر ہیں اور اسی طرح مختلف ادوار میں مختلف لوگ وزیراعظم اور سینکڑوں لوگ ممبر اسمبلی اور وزیر حکومت بنے۔ اسمبلیاں بنتی اور ختم ہوتی رہی ہیں نئے چہرے آتے رہے اور جاتے رہے لیکن ریاست گیر مسائل حل ہوئے نہ ہی ختم ۔

“سب کا بھلا رب کی خیر” 2005 کے قیامت خیز زلزلے میں ہم نے اپنے قیمتی کم وبیش 75000 لوگ کھو دے لیکن اسی زلزلے کے نتیجے میں انٹرنیشنل این-جی-اوز نے کشمیر کا رخ کیا کشمیریوں کا رہن سہن دیکھا، انفراسٹکچر کی پوزیشن دیکھی اور اپنے اپنے ملکوں کے عوام اور حکومتوں کو مجبور کیا کے وہ کشمیر عوام کی ابتر معاشی، اقتصادی پوزیشن کو دیکھتے ہوہے حکومت آزادکشمیر کی باوساطت حکومت پاکستان مدد کریں جس کے نتیجے میں ایک خطیر رقم ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کی نام پر کشمیر آہی اور انفراسٹکچر کی بحالی کے لیے کام شروع ہویے۔ ہم نے دیکھا کے 2005 کا زلزلہ انفراسٹکچر کی تعمیر و ترقی میں ہمارا مددگار ثابت ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کے کیا ہم ایک اور قیامت خیز زلزلے کا انتظار فرماہیں ؟ نہیں بالکل نہیں۔
عام عوام کے مساہل کیا ہیں ان کی ضروریات کیا ہیں یہ سوال اپنی جگہ لیکن وقت کی ضرورت ہے کے گورننس کے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب تلاشہ جاہے۔ اب ہم سب کو یہ تو معلوم ہے کے کرپشن کا بازار گرم ہے۔

اب تو حکومتیں بھی خرید و فروخت کی بدولت بنتی اور بدلتی ہیں۔ایسے نامساعد حالات میں کوہی تو آگے بڑھےگا کوہی تو نظام کو درست کرنے کی کوشش کرے گا حالات جوں کے توں تو نہیں رہیں گے۔ عام عوام کے لیے آپ ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیں کے انگلی اٹھانے والوں کی تعداد بڑھے۔ جتنا زیادہ لوگ آواز اٹھاہیں گے اتنا نظام میں بہتری آ سکے گی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے عام عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی جاہے۔ماضی میں بننے والی حکومتوں کے نتیجے میں اکثر ممبران اسبملیوں کے اثاثہ جات میں ہوشروبا اضافہ ہوا ان کے بنک بیلنسس بڑھے ان کی پراپرٹیز میں طوفانی بلندیاں دیکھی ہیں جس کا علم عام آدمی سے لے کی احتساب اور انصاف کے ایوانوں میں موجود ہر شخص کو ہے لیکن افسوس کے عام عوام کے حصے میں کچھ نہ آیا اور آج تک حالت نہیں بدلی۔

لوگ کیوں اپنی مدد آپ سڑکیں، پل، سکول اور کالجز بنا رہےہیں۔ ایسا کیوں ہے کے سرکاری سکولوں میں پراہیویٹ ٹیچر رکھ کر سکول کا نظام چلایا جا رہا ہے۔ کیا اس نظام کو ایسے ہی چلتا رہنا چاہیے۔ آہی ٹی کی بدولت دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے عام عوام کیوں پٹواری کی ایک نقل کے پیچھے دس دس دن تک چکر لگاتی ہے اور کیوں پٹواری سرعام رشوت کی ڈیمانڈ کرتاہے۔ کیا اس نظام کو کمپیوٹرایزڈ نہیں کیا جا سکتا ۔ جی کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمت اور اخلاص نیت کی ضرورت ہے۔ کھبی کوہی وزیر اعظم آہے گا اور یہ نظام بدلے گا یہ میری اور میری طرح کے بہت سارے لوگوں کی خواہش تھی لیکن میری خواہش کے برخلاف ایک روایتی سیاستدان وزیر اعظم بن گیا صوم وصلوت کا پابند شخص، صوم و صلوت ضرور کریں رب کے حضور دعا فرماہیں اللہ سے مدد اور نصرت حاصل کریں اور نظام درست کریں۔ آزادکشمیر میں جرمانے کا کمپیوٹرایزڈ نظام لاہیں لوگوں کو سہولت مہیا کریں۔

یاد رکھیں جب تک بہاری جرمانے کا نظام راہج نہیں ہوگا اس وقت تک عام لوگ غلط کو غلط تصور بھی نہیں کریں گے۔ جس عمل کی سزا نہیں ہو اس کو غلطی تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ آزاد کشمیر میں ہر طرح کی بلیک میلنگ کی حوصلہ شکنی کریں تمام ادارہ جاتی تنظیموں پر فوری طور پر پابندی لگاہی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر ایسوسی ایشن، پیرامیڈکس ایسوسی ایشن، ٹیچر ایسو سی ایشن اور پتہ نہیں کیا کیا یہ تمام ایسو سی ایشینز کے لوگ پروفیشنل لوگ ہیں ان کی دفاتر سے باہر کسی کی سیاسی سرگرمی پر سزاوں اور جرمانوں کا نفاذ ہونا چاہیے۔ ان کے مساہل کے حل کے لیے سروس ٹریبونل کو اضافی اختیارات سونپ کر معمولات کو یکسو کروایا جا سکتا ہے۔ ہم نے ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھا ہے کے جرمانے کے ڈر سے رولز ہر صورت فالو ہوتے ہیں۔ تاھم یہ بات زہن میں رہے کے جرمانہ کیش میں وصول کرنے کا نظام فلفور ختم ہونا چاہیے۔

ایسا کیوں ہے بجلی کا میٹر خریدنے کی فیس لی جاتی ہے اور بھر میڑ کو فکس کرنے کے لیے بھی رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اب تو حالات ایسے بھی ہیں کے کسی کے گھر کوہی فنگشن ہو اور آپ اس کے کیے مساہل پیدا کرنا چاہیں تو ایس-ڈی-او کوکچھ رقم دے کر اس علاقے میں بجلی بند کرو دی جاتی ہے۔ کیا یہ رویے درست کیے جا سکتے ہیں۔ کیا اس کے لیے کونسلنگ نہیں کی جاسکتی۔
عام لوگوں کو کیا چاہیے صرف یہی کے روزمرہ کی زندگی جینے کے لیے بنیادی سامان، آٹا، چینی، دال، گھی اور اشیا خردونوش اب سوچیے کیا یہ چیزیں عام عوام کے ہاتھوں سے بھی نکل نہیں رہی ہیں۔ کیا اس پر کوہی ایکشن لیا جا سکتا ہے ۔ یہ تب کی ممکن ہے جب روایتی نظام کو بدلہ جاہے گا۔ عام عوام کے لیے سکولوں کی ضرورت ہے سکول موجود ہیں لیکن استاد نہیں کیوں ؟؟؟ چونکہ استاتذہ کرام الا ماشااللہ فل ٹاہم سیاست میں مشغول ہیں ان سے کون پوچھے گا کے خود محکمہ تعلیم کے آفیسران ان گندگی سیاست کا حصہ ہیں۔ کیا کھبی یہ سیاسی برتیاں بند ہونگی۔ کیا آزادکمشیر میں کوہی ایک ایسا ہسپتال موجود ہے جہاں عام عوام کو بہترین علاج کی سہولت میسر ہو۔ کیا ہمارے ہسپتال صرف مریض کو راولپنڈی اور اسلام آباد ٹرانسفر کرنے کے لیے بنے ہیں۔

لوگوں کو روزگار کے مواقع مہیا کیے جاہیں۔ اس کے لیے کیا حکمت عملی ہو گی روایتی سیاسی شخصیات کو نظام سے دور کرنے کی حکمت عملی بناہی جانی چاہیے۔ عام لوگوں کو زراعت ، سیاحت اور آہی ٹی میں بہت بہتر جابز مہیا کی جا سکتی ہیں۔ پراہیوہٹ پبلک پارٹنرشپ کی حوصلہ افزاہی کی جانی چاہیے۔ لیکن سرکار کا تمام کام اور ریکارڈ کمپیوٹرایزڈ ہونا چاہیے۔ وقت اور حالات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایدمنسٹریشن کو فعال کیا جانا چاہیے۔ جبکہ گزارش ہے کے موجودہ حالات میں بلدیاتی الیکشن کسی صورت بھی نہیں ہونے چاہیے جس سے مذید کرپشن اور اقربا پروری پروان چڑھنے کا اندیشہ موجود ہو۔ ایسا کیوں ہے کے ہمارے ہاں ٹھکیدار عربوں کے مالک بن گے۔ اور ان کے کام کو چیک کرنے والے بھی۔ یہ محکمہ جاتی کرپشن کو کون روکے گا۔ سڑکوں، پلوں اور سرکاری عمارات کی تعمیر کے لیے وزارت تعمیرات ٹینڈرنگ کرنے کے بجایے لوگ انجینیرز کو جابز دے کر مضبوط کیون نہیں کرتی اور تمام تعمیراتی کام محکمہ تعمیرات خود کیوں نہیں کرتا۔ ٹھیکیداروں کو بولیاں دے کر ٹوٹل پروجیکٹ بجٹ کا بیس فیصد بھی لگ نہیں پاتا اور پروجیکٹ کا اسی فیصد بجٹ کرپشن کی نزر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ نظام درست نہیں ہو سکتا۔
جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں