قلم/پروفیسر رفیق بھٹی

شیراز خان ایک بیباک صحافی

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ، مقننہ ،عدلیہ اور عاملہ کے بعد جدید ریاستوں میں صحافت ریاست کا وہ شعبہ ہے جو عوام اور حکمرانوں کے مابین حقوق وفرائض کے حدود وقیود اور تمیز وتفریق کے تعین میں فعال کردار ادا کرتا ہے لیکن صحافت کو ملک وقوم کیلئے مفید اور موثر بنانے کا دارومدار صحافی کی صحافتی دیانت ، امانت ، صداقت اور جرا ت پر ہوتا ہے ۔ ابلاغ عاملہ کے اس جدید ذرائع نے صحافت اور صحافی کے کردار کو مزید فعال کردیا ۔

ایسے میں اگر کوئی صحافی قومی مفادات سے ہم اآہنگ ،اخلاص فکر ونظر کے مطابق بیباک صحافیانہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہوتا نظراآئے تو اسے سراہا جانا ایک قومی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے ۔ میرے نزدیک صحافت دودھاری تلوار ہے ، اگر کوئی سحافی پیش ورانہ دیانت کے ساتھ تدبر وتوازن کو حرو ف والفاظ کا جامعہ پہنا کر ملکی اور عالمی حالات کے تناظر ملک وقوم کے وسیع تر مفادت کو مد نظررکھتے ہوئے صحافتی ذمہ داریوں کو سرانجام دیتا ہے توہ جہاد میں مصروف ہے ۔ چند روز قبل لوٹن برطانیہ کے میئر نے برطانیہ میں مقیم آزادکشمیر کے ایک نامور صحافی ، قلمکار ، ادیب ، شاعر ، تجزیہ نگار، اور اینکر شیراز خان کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ اور اسناد سے نوازا تو مجھے دوگانہ خوشی ہوئی .

اول اس بات کی کہ موصوف میرے شاگرد رشید ہیں اور دوئم اس بات کی کہ اس تقریب تقسیم اعزاز واسناد میں شامل جمعلہ شخصیات کا برطانیہ میں ریاست جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کیلئے گرانقدر خدمات ہیں جن میں سے بیشتر کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، میرے علم ومشاہدہ کے مطابق شیراز خان برطانیہ میں تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کے قومی مفادات کے حوالے سے ایک جاندار آواز ہے جس نے نظریہ پاکستان اور ریاست جموں وکشمیر کی تحریک حریت پر کبھی مصلحت یا مفاہمت روا نہیں رکھی.

اخبارات میں کالمز ہوں یا چینلز پر مذاکرے ، علمی مباحث ہو یا تجزیہ وتبصرے سینئر صحافی شیراز خان کی آواز نمایاں، جداگانہ اور دراندیشانہ رہی ہے جس میں روز نیوز پر چلنے والے ہفتہ وار پروگرام تجزیاتی پروگراموں میں انکے بے لاگ تجزئے ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں جو حقائق پر مبنی ہوتے ہیں جس طرح لوٹن کے میئر اور معززین نے شیراز خان کی صحافتی خدمات کو سراہا ہے ، حکومت پاکستان اور آزادکشمیر کو بھی ایسے ہی صحافیوں کو اعزازات واسناد سے نوازنے کی ضرورت ہے

برطانیہ میرا دوسرا گھر ہے جہاں میں اکثر جاتا ہوں آجکل برطانیہ میں یہ رواج عام ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن لندن ممبران آف پارلیمنٹس کو تمغوں سے نواز رہا ہے حیران ہوں کہ پاکستان ہائی کمیشن کا خیال صحافیوں پر کیوں نہیں جاتا جو وطن کے بلامعاوضہ سفیر ہیں لندن کے بعض دیرینہ نامور صحافی جو وطن کی خوشبو پاکستانیوں کے لئے ساری زندگی پردیس میں بکھیرتے رہے ہیں انہیں بھی ایسے اعزازات سے نوازنا بے جا نہ ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں