نقطہ نظر/ کِرن عزیز کشمیری

بھارت کو مْنہ کی کھانا پڑی

موجودہ حالات میں بھارت کی پوری کوشش ہے کہ صورتحال کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اس ضمن میں اہم امریہ ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے حیوانی کردار مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی طور پر اجاگر کیا۔ بھارت نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔

واضح رہے کہ آفغان جنگ میں کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی امریکہ کو شکست حاصل ہوئی۔ اس وقت افغان عوام کے لئے آزمائشی صورتحال ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ بھارت نے امن عمل کو ہمیشہ سبوتاز کیا۔ مودی سرکار کیلئے یہ امر مایوس کن ہے کہ اب افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوسکے گی۔ پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے دور رہے۔ کابل کی موجودہ گھمبیر صورتحال بھارت کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔ افغان فوج کی شکست سے مودی سرکار حواس باختہ ہے۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی بھارت کا پرانا وطیرہ ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ بھارت کو سازشیں انجام دینے کے لئے ہر پلیٹ فارم پر مْنہ کی کھانی پڑتی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور یہ بھی کہ مودی سرکار کو جلد اندازہ ہو جائے گا کہ طالبان کی حکومت چلانے کی کیا قابلیت ہے۔ اس سلسلے میں قابل ذکر امر یہ ہے کہ مودی سرکار کا خیال یہ ہے کہ طالبان حکومتی امور نہیں چلا سکتے۔

اس سلسلے میں ترجمان طالبان نے واضح کیا ہے کہ تمام ممالک کے ساتھ دوطرفہ احترام کی بنیاد پر پْرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔ عالمی برادری کا مثبت رویہ خطے میں امن واستحکام کے قیام میں اہم کردار ہوگا۔ افغانستان میں پاکستان مخالف عناصر کو بھارتی فنڈنگ کا راستہ روک دیا گیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جس میں یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔ پاکستان نے یہ امر واضح کیا ہے کہ افغانستان کے کسی مسلے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ پاکستان کا امن خراب کرنے کا اڈہ جو چِھن گیا۔

اس امر کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کی افغانستان کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ملتی۔ اس کے باوجود افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے پاکستان کے خلاف استعمال کی گئی۔ قابل مذمت امریہ ہے کہ بھارت پون صدی سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ بھارت کشمیر میں ظلم ڈھا رہا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں کوئی بھی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارتی عوام غربت وافلاس کا شکار ہے اور دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے والی حکومت انتہاپسندی کو فروغ دینے کے علاوہ اپنی عوام کی بہتری کیلئے کوئی کردار ادا نہ کرسکی۔

یہی وجہ ہے کہ اندرون بھارت کئی آزادی کی تحریکیں سر اْٹھا رہی ہیں۔ مودی سرکار نے بھارت میں تقسیم اور انتشار والی پالیسی پر کام کیا ہے۔ بھارت کو افغانستان کی شکست نے ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ مزید دہشت گردی پھیلانے کے سارے خواب مودی سرکار کے ادھورے رہ گئے ہیں۔ اس حکومت کی مکاری اور سفاکی پر مشتمل حربوں کو اب خود بھارت کی عوام بھی پہچان گئی ہے۔ مودی سرکار اگر اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کی، امن کو ترجیح نہیں دی تو بھارت کو زوال پذیر ہونے کا وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ دہشت گردی پر اربوں ڈالر خرچ کرنا بھارت کے لئے بے سود رہا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی۔ اس ضمن میں مذاکرات کی دعوت بھی دی تاہم کشمیر کو ہضم کرنے کے بھارتی ارادوں نے اْسے مذاکرات کی میز تک آنے نہیں دیا۔

دوسری جانب روس کا ارادہ ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ طالبان کو دہشت گرد قرار دینے کا بھارت کے ہاتھ ایک نیا موضوع آگیا ہے کہ طالبان نے اب مقبوضہ وادی کو بھارت سے آزاد کرانا ہے۔ اس اْڑتی اْڑتی خبر سے بھارت پر سکتہ طاری ہے۔ اس خبر کی صداقت کیا ہے اس امر سے ہٹ کر بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے کہ دہشت گردی کی کاروائیاں بروئے کار لانے میں کردار ادا کرتے کرتے ایک دہشت گرد ملک کہلانے لگا ہے۔ اہم امر یہ یے کہ خطے میں مستقل امن کے لئے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ بھارت سے مقابلے کے لئے پاکستان اور چین ایک ساتھ ہیں۔ انتہاپسندی کو فروغ دینے والی مودی سرکار اسلحہ کے بجائے غربت پر پیسہ لگائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں