تبدیلی /چوہدری عبدالعزیز (لندن)

محسنوں کا قاتل

 ۱۹۹۰ میں چوہدری یاسین نے چڑھوئی کوٹلی سے آزد کشمیر اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا اس سے پہلے وہ یونین کونسل راجدھانی سے کونسلر کے الیکشن کے لیے بھی امیدوار تھا اس کے مد مقابل چوہدری محمد اقبال جو چڑھوئی سے ۱۹۸۵ کا الیکشن لڑے تھے چوہدری یاسین چوہدری اقبال کے مقابلے میں آدھے ووٹ بھی نہیں لے سکا تھا اور کونسلر کا الیکشن بری طرح ہار گیا تھا.

پھر چوہدری یاسین ۱۹۹۰ میں اسمبلی کا امیدوار بنا تو اس کی ذاتی فیملی کے لوگ بھی اس کے مخالف تھے چوہدری آمین چوہدری قیوم چوہدری محمد اقبال ( میرے بڑے بھائی) چوہدری یعقوب چوہدری منشی ایس پی ریٹائیرڈ مرحوم چوہدری محمد اقبال سابق امیدوار اسمبلی ۱۹۸۵ چوہدری محمد تاج چوہدری عبدالمجید اور چوہدری یاسین ( ٹکھیدار)چوہدری اعظم یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ایسے شخص کو سپورٹ کرنا شروع کیا جو کونسلر کا الیکشنُ بھی بُری طرح ہارا ہوا تھا پھر وہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا ممبر منتخب ہو گیا اور وزیر خوراک بن گیا

یہ وہ وقت تھا جب آٹھ یونین کونسلوں سے چوہدری برادری کے جتنے بھی ممبرز کونسلرز اور چئیرمین منتخب ہوئے تھے اکثریت چوہدری یاسین کے خلاف تھی لیکن چوہدری اقبال  اور چوہدری منشی کی قیادت میں نوجوانوں کی اس ٹیم نے اتنی سخت محنت کی کہ پورے حلقے کے نوجوانوں کو اپنی کمپین میں شامل کیا اور اسمبلی کا ممبر منتخب کروا دیا پھر اسی ٹیم نے ۱۹۹۱ کے الیکشن میں بھی بڑی جانفشانی سے کام کیا لیکن چوہدری یاسین الیکشن ہار گیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس بار اکثریت برادری کے بی ڈی ممبرز کونسلرز اور چیئرمینوں نے بھی ووٹ دیئے

1996 کے الیکشن میں نوجوانوں کی محنت رنگ لائی اور چوہدری یاسین دوسری بار ممبر اسمبلی منتخب ہو گیا2001  کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تعلیمی شق رکھی گئی چونکہ چوہدری یاسین  سکول تو جاتے رہے تھے لیکن ان کے پاس میٹرک پاس سرٹیفیکیٹ بھی نہیں تھا لہذا وہ الیکشن میں حصہ نہ لے سکے اور آپنے کزن بھائی چوہدری آمین جو کے میرا کلاس فیلو تھا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جتوایا 2006 میں جناب میجر ریٹائیرڈ منصف داد مرحوم الیکشن جیت کر اسمبلی ممبر منتخب ہوگئے اور 2011  میں ایک بار پھر چوہدری یاسین الیکشن جیتے اور سنیئر وزیر اور قائم مقام وزیراعظم بھی بنے

اب جب قائم مقام وزیراعظم کے عہدے پر پہنچے تو جیسا کہ اکثر ہوتا ہے بہت سارے مفاد پرست موقع پرست چاپلوسوں اور خوشآمدیوں نے چوہدری یاسین کو اپنے گھیرے میں لے لیا اب چوہدری آمین گرداور اور چوہدری قیوم چوہدری اقبال چوہدری منشی جیسے مخلص ایماندار شریف لوگوں کی جگہہ مفاد پرست اور کرپٹ لوگوں نے لے لی چوہدری یاسین بھی اب وہاں پہنچ چکے تھے کہ انکے کان تنقید سننے کے عادی نہیں رہے تھے اب وہ صرف ان لوگوں کو سننے لگے جو صرف اور صرف انکے جاہ وجلال  کی بات کرتے جو انکی دہشت اور رعب دبدبے کی بات کرتے جو انکو ناجائز طریقے سے مال کمانے کا مشورہ دیتے جو انکو کرپشن کے نت نئے طریقے بتاتے اور کرپشن میں ان کا ہاتھ بٹاتے

اب وہ مخلص اور ایماندار ساتھی کوسوں دور ہو گے جو بلاوجہ تنقید کرتے تھے کہ یہ چیزیں ہمیں نقصان دینے والی ہیں پورا آزاد کشمیر اس چیز کا گواہ ہے چوہدری یاسین آزاد کشمیر کا سب سے زیادہ امیر سیاستدان ہے کیا کوئی شخص یہ بتا سکتا ہے کے پچھلے تیس سالوں میں چوہدری یاسین یا اس کے بیٹوں کا کیا کاروبار ہے چوک صاحبان کوٹلی میرپور اسلام آباد لاہور اور یوکے میں محل نما گھر کہاں سے آئے ہیں .پورا آزاد کشمیر جانتا ہے چوہدری یاسین صاحب کے ساتھ درجنوں گاڑیوں کا قافلہ ہوتا ہے اور گن مین اور کلاشنکوف بردار جلوس بھی ہوتا ہےجو روزانہ لاکھوں کا خرچ ہے..اگر چوہدری یاسین خود فل ٹائم سیاست میں ہیں بیٹے بھی کوئی کام نہیں کرتے تو یہ لاکھوں کروڑوں  روپے کی جائیدادیں کہا ں سے آئی ہیں.

اس علاقے سے جس ٹیم نے دن رات ایک کر کے ایک کونسلر کی سیٹ برے طریقے سے ہارنے والے شخص کو اسمبلی میں پہنچایا تھا اس میں ننانوے فیصد اسی چوہدری آمین گرداور اور چوہدری قیوم کی فیمبلی کے لوگ تھے ۲۰۱۶ کے الیکشن سے پہلے جب انھوں نے اس کرپشن پر احتجاج کیا تو چوہدری یاسین  جو اب مکمل خوشامدیوں کے چنگل میں پھنس چکے تھے بجائے ان لوگوں سے ملتے اور انکو راضی کرنے کی کوشش کرتے آپنے خوشآمدیوں کے زریعے رابطے کرتے رہے جو چوہدری یاسین  کو کچھ اور بتاتے اور چوہدری آمین گرداور اور چوہدری قیوم کو کچھ اور بتاتے اسطرح سیاسی دوریاں شروع ہو گئیں اور ۲۰۱۶ میں یہ میھٹھی جنڈ پولینگ سٹیشن جہاں سے سو فیصد ووٹ چوہدری یاسین کو ملتے تھے اب چوہدری یاسین لاکھوں روپے دے کر بھی صرف ایک سو اٹھارہ ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے چوہدری یاسین ۲۰۱۶ میں بھی اسی طرح آپنے گن مینوں کے ساتھ گئے تھے لیکن فوج کی موجودگی میں وہاں پر اپنا رعب اور دبدبہ نہ دکھا سکے

اس طرح یونین کونسل پرائی اور یونین کو نسل راجدھانی میں چھبیس سالوں کے بعد واحد پولینگ سٹیشن تھا جہاں سے چوہدری یاسین  کو شکست ہوئی اور اس کا چوہدری یاسین کو بہت دکھ تھااب 2021 کے الیکشن میں وہ دو یونین کونسلیں چوہدری یاسین کو سات سے آٹھ ہزار کی لیڈ دیتی تھی  حال یہ تھا کے اگر الیکشن دو ہزار ایک کی طرح فوج کی نگرانی میں ہوتے تو ان دو یونین کونسلوں سے شاید ہی کوئی ایسا پولینگ سٹیشن ہوتا جہاں سے چوہدری یاسین جیت پاتے بجائے اس کے اس بات سے سبق لیا جاتا کہ میں تو کونسلر کا الیکشن بھی بڑی بری طرح ہار گیا تھا جس وقت میری فیمبلی کے سارے لوگ بھی میرے ساتھ نہیں تھے جن لوگوں کی محنت لگن اور کاوشوں سے میں خود ممبر اسمبلی بنا تھا جن لوگوں نے مجھے چھبیس سال ووٹ دیئے اگر وہ ناراض ہیں تو خود چل کر انکے گھر چلا جاؤں اور راضی کروں لیکن خوشآمدیوں چاپلوسوں نے مفاد پرستوں نے آپنے گھیرے میں اتنا مضبوط کرلیا تھا کے چوہدری یاسین  نے اب فرعونی طرز سیاست اختیار کر لیا بجائے اس کے اپنے محسنوں کو راضی کرتے وہی چوہدری آمین گرداور اور چوہدری قیوم جنہوں نے آپنی فیمبلی کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک میٹرک فیل شخص کو اسمبلی ممبر بنوایا تھا اور چھبیس سال تک ووٹ اور سپورٹ کی آج میٹرک فیل شخص نے آپنے محسنوں کو پولینگ سٹیشن کے اندر جاکر مارا پیٹا اور فائرنگ کر کے انہی کے فیمبلی کے دو نوجوانوں کو شہید کر دیا

اس طرح ایک شخص جو وزارت عظمی کا خواب دیکھ رہا تھا اپنے محسنوں کو قتل کر کے جیل جانے کی تیاری کر رہا ہے
قارئین کی اطلاع کے لیے دو دھائیوں تک چوہدری یاسین  کہتے رہے ہیں میں نے سیاست کا آغاز چوہدری صوفی عبدالعزیز جونا اور چوہدری عبدالحمید جونا والوں کی سپورٹ اور راہنمائی سے شروع کی ہے آج وہی جونا ہے جہاں سے بہت سارے خوشآمدیوں نے چوہدری یاسین صاحب کو گھیرے میں لیا ہے اور ۲۰۱۶ کے الیکشن میں اور اب اس الیکشن میں بھی چوہدری صوفی عبدالعزیز مرحوم اور چوہدری عبدالحمید مرحوم کے بیٹے کرپشن کے خلاف کھڑے ہیں اور عمران خان کے ویژن کو سپورٹ کرتے ہیں
اسی لیے سیانے کہتے ہیں اچھے دوست زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں اور خوشامدی اور چاپلوس جیل بھیج دیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں