آرپار/مقصودمنتظر

خود مختاریے کہاں کھڑے ہیں؟

مجنوں لیلیٰ کی زلفوں کا اسیر تھا۔ لیلیٰ کی محبت کی وجہ سے وہ اپنی محبوبہ کی گلیاں اور کوچوں سے بھی تعظیم کرتا تھا۔ کسی نے بتایا لیلیٰ کالی ہے تو مجبوں نے جواب دیا میری آنکھ سے دیکھو تو سہی، مہتاب نظر آئے گا۔ وطن سے محبت، وفا اور عشق کا تقاضا بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔
بقول معروف انڈین صحافی اور اینکر رویش کمار، جو انسان اپنی دھرتی کا دم بھرتا ہو،اس پر لازم ہے کہ وہ وہاں بسنے والے انسانوں سے بھی پیار و اخلاص اور احترام و ایمانداری سے پیش آئے۔

خود مختار کشمیر کا نعرے لگانے یا نظریہ کا دم بھرنے والوں کو وطن سے محبت کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو بدقسمتی سے اکثریت کے حوالے سے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ اس کے کئی وجوہات ہیں جو کشمیر کے باشندوں کے علاوہ وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ چونکہ کشمیر کی آزادی ایک محکموم اور غلام قوم کا مطالبہ ہونے کیساتھ ساتھ دو ایٹمی طاقتوں کے بیچ بنے سینڈ وچ والے خطے کا مسئلہ ہے تو ایسے میں تحریکی یا تنظمیی کمزوریوں اورمایوسی کا جواز کسی حد تک قابل فہم ہے۔

البتہ المیہ یہ ہے کہ وہ مہاراجہ ہری سنگھ کو تو بھرپورعقیدت و احترام پیش کرتے ہیں لیکن چوہدری غلام عباس اور سردار قیوم خان جیسی شخصیات اور ان کے پیش روں کو کسی بھی موقع پر نہیں بخشتے۔ وہ شیخ محمد عبداللہ کو بے قصور قرار دیتے ہیں لیکن کشمیر کی خاطر سالہا سال اسیر اور کئی سال گھر میں نظر بند رہنے والے سید علی شاہ گیلانی، ضمیر کے قیدی کہلانے والے شبیر احمد شاہ اور دیگر کشمیری حریت رہنماوں حتیٰ کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک تک کوبھی پاکستانی ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔

بعض تو تحریک آزادی میں سرگرم کشمیریوں کیلئے ٹاوٹ اور باڑے کے ٹٹو جیسے غلیظ الفاظ تک بھی استعمال کرنے سےنہیں کتراتےحالانکہ نظریاتی طور پر اختلاف قطعا کسی محب وطن کو اس حد تک گرنے کی اجازت نہیں دیتا .خود مختار کشمیر کا دعویٰ کرنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اپنے اس خطے میں بسنے والے اپنے ہی لوگوں کی پکڑی اچھالیں.

الحاق یا کسی اور نظریے والوں کو گالیاں دیں. خود کو عقل کل اور دوسروں کو بے وقوف سمجھیں. بدقسمتی سے یہ سلسلہ دراز ہے اور اس کا افسوسناک تسلسل اس وقت بھی دیکھنے کو ملا جب سید علی شاہ گیلانی آخری سانسیں لے چکے تھے اور یہاں ایک طبقہ جشن منا رہا تھا . جشن سے تسلی نہ ہوئی تو سوشل میڈیا پر ان کی طرف سے غلیظ پوسٹیں گردش کرنے لگیں.

انا للہ وانا الیہ راجعون کے بجائے الحمد للہ اور تھینک گارڈ کی پوسٹیں شیئر کی گئیں . پھر جائیداد کا ناپ تول شروع ہوا اور حوالہ دیا گیا انڈین میڈیا کی رپورٹس کا.سید علی شاہ گیلانی کے نظریے سے اختلاف رکھنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ۔ کشمیر کی بڑی تعداد ان کے نظریے کے حامی نہیں لیکن ان کی استقامت ،صبر و قربانیوں سے کوئی ذی شعور انکار کرہی نہیں سکتا ۔کیونکہ مرحوم عملی طور پر قوم اور وطن کے خیر خواہ تھے۔

بھارتی آرٹسٹ اور دانشور رولی مکھرجی کہتی ہیں استقامت، ہمت اور حوصلے کا نام ہی سید علی گیلانی ہے. مرحوم کی دست شفقت سے کبھی کوئی خودمختاری حتیٰ کہ الحاق ہندوستان والے بھی محروم نہیں رہے۔ ان کا ہر کشمیری کے ساتھ احترام کا رشتہ تھا ۔ تب ہی تو پرو انڈین طبقہ بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔البتہ وہ دشمن کی آنکھ میں ہمیشہ کھٹکتے رہے.

خود مختار کشمیر کے کامریڈ خود کو لبرل اور آزاد سوچ کے حامل انسان سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ان کی یہ سوچ عملی طور پر بھی ظاہر ہے ۔ وہ آزادی اظہار رائے کے ساتھ آزادی سوچ کا بھی پرچار کرتے ہیں . یہاں تک وہ میرا جسم میری مرضی کی گمراہ کن مہم کو بھی قابل جواز قرار دیتے ہیں لیکن اگر سید علی گیلانی یا کوئی اورکامریڈوں کی سوچ کے برعکس کوئی بات کرتا ہے تو پیٹ میں مروڑ اور دماغ میں خنس آجاتا ہے۔

ایک اور بڑاالمیہ یہ بھی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح جدوجہد کو کاروبار سے تعبیر کرتے ہیں ۔ وہ جس تحریک میں ایک لاکھ شہیدوں کا خون شامل ہیں ۔ جس میں ہر فرد کی قربانی ہے۔ جس میں اب تک کشمیری مالی طور پر کھربوں روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں .دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ مسلح تحریک آئی ایس آئی کے کہنے پر شروع ہو ئی اور غلیظ تنقید کا ہدف اس تحریک میں شامل لوگوں کو بنایا جاتا ہے ۔

بعض تو بھارتی بیانیہ سینے سے لگا کر کشمیری مجاہدین کو دہشتگرد کہتے ہیں ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک کا آغاز کسی گیلانی یا صلاح الدین کے ہاتھوں نہیں ہوا .بلکہ اس کی بانی خود جے کے ایل ایف یعنی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ہے ۔ ۱۹۹۴ کے وسط تک وای میں جے کے ایل ایف برسر پیکار رہی۔ قوم کو گرد آب اور طوفان میں دھکیل کر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ پھر حزب اور دیگر تنظیموں نے کاررواں آگے بڑھایا اور آج تک مظلوموں کی آزادی کیلئے جانیں دیتے آئے .

تحریک کیوں شروع ہوئی؟کس نے شروع کی ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کشمیر کے پاس ہونا چاہیے لیکن اس بنیاد پرکسی کو غدار یا ایجنٹ قرار دینا سراسر کشمیر دشمنی ہے۔ اب جبکہ قوم گرداب میں ہے ۔ پیچھے ہٹنے کا سرے سے ہی کوئی آپشن نہیں ایسے میں کوئی پتہ کاٹے بغیر اپنے محفوظ گھر میں بیٹھ کر قربانی دینے والوں پر سوال آٹھائے تو یہ کشمیر یا کشمیریوں کی خدمت ہرگز نہیں ہے ۔

آپ خامیوں پر پردہ پوشی نہیں کرسکتے تو کم سے کم دشمن کے ایجنڈے کو بھی سینے سے تو نہ لگائیں. آپ اپنی تحقیق اپنی تحریر سامنے لائیں لیکن بے تکی انڈین رپورٹس کوحقیقت کا رنگ نہ دیں. کیونکہ کوئی الحاقی ہے یا خودمختاری ، آزادکشمیر کا رہنے والا ہے یا مقبوضہ کشمیر کا یہ سب کا مسئلہ ہے۔ اس میں سب نے اپنا حق ادا کرنا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کو ذہن میں ڈالنے کی بھی ضرورت ہے کہ اپنے گھر میں خشک فلفسے جھاڑنے والے سے میدان میں کھڑا وہ ایک عام شخص بہتر ہے۔

یہ بھی قابل غورامر ہے کہ اگر بعض سروے رپورٹس کے مطابق ستر فیصد سے زائد کشمیری خود مختار کشمیر کے حامی ہیں تو پھر جلسی یا جلوسی میں کامریڈ چند سو ہی کیوں نظر آتے ہیں۔ وہ بھی بٹے ہوئے. اس میں آپ کی کوتاہی اور تنگ نظری ہے یا یہ غفلت اور بے حسی بھی سید علی مرحوم کی عارضی قبر پر ڈال دی جائے .میری ہر کشمیری سے گزارش ہے کہ صرف لیلائے کشمیر سے نہیں بلکہ کشمیر کے ہرگوشے ہر حصے ، ہر باشندے اور ہر شے کو اس مقام اور مرتبہ دیا جائے اور اگر کچھ نہیں کرسکتے تو برائے مہربانی تنقید برائے تنقید بھی نہ کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں