افغانستان میں قیام امن کے بعد پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئی۔معروف دفاعی تجزیہ نگار کیپٹن(ر) ادیب الزماں صفوی کی سٹیٹ ویوز سے گفتگو

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز/راجہ ارشد محمود) افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئی ہے سابقہ افغان انٹیلی جنس اور انڈین انٹیلی جنس را کا گٹھ جوڑ بھی ٹوٹ چکا افغانستان میں قیام امن کے مزید ثمرات ابھی آنا باقی ہیں۔

ملک کے معروف دفاعی تجزیہ نگار پاکستان نیوی کے کیپٹن(ر) ادیب الزماں صفوی کی سٹیٹ ویوز سے خصوصی گفتگو، تفصیلات کے مطابق ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد بلخصوص پاکستان کی سیکیورٹی صورت حال پر اس کا کیا اثر مرتب ہوگا

سٹیٹ ویوز نے اس ضمن میں کراچی میں مقیم ملک کے معروف دفاعی تجزیہ نگار ادیب الزماں صفوی سے خصوصی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے افغانستان میں قیام امن کے حقیقی فوائد و ثمرات میں ابھی کچھ تاخیر ہے لیکن طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد کم از کم پاکستان کی مغربی سرحدیں اب محفوظ ہو گئی ہیں اور دوسری اہم ترین پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ کابل اور قندھار اور پاکستان سے ملحقہ دیگر علاقوں میں قائم انڈین اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے وہ دفاتر بھی بند ہو گئے ہیں جو پاکستان میں شدت پسندوں کی مالی مدد کے علاوہ انہیں دہشت گردی کے ضمن میں دیگر سہولیات باہم پہنچانے میں دن رات کام کر رہے تھے

کیپٹن صفوی نے سٹیٹ ویوز کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں متحرک ریاست مخالف تحریکیں طالبان کی حکومت کے ساتھ ہی یتیم ہو چکی ہیں انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی چیف لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کے گزشتہ دنوں دورہ کابل کے دوران جس طرح سے ہندوستانی میڈیا پر چیخ و پکار ہو رہی تھی اس صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے بہترین کاؤنٹر انٹیلی جنس حکمت عملی سے چانکیہ کے پیروکاروں کی دم پر پاؤں رکھا ہے انڈین میڈیا دن رات طالبان اور پاکستان کے خلاف زہریلا مواد اور بوگس خبریں پھیلانے میں مصروف ہے

ادیب الزماں صفوی نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ دنیا بھر کے پالیسی ساز پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت کو تسلیم کر چکے ہیں
پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان نے چین سمیت دیگر ہمسایہ ممالک سے قریبی روابط موجود ہیں اور گزشتہ دنوں اسلام آباد میں سات ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کا اہم اجلاس انہی رابطوں کا ایک سلسہ تھا جب کہ اس اجلاس سے قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے بھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی

کیپٹن صفوی نے مزید بتایا کہ حقیقت میں یہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی تھی کہ چین بھی طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہیں انھوں نے کہا ایران،روس، وسطی ایشیاء اور دنیابھر کے دیگر ممالک اب طالبان کے نئے طرز حکومت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں جب کہ طالبان دنیا کو بتدریج یقین دلا چکے ہیں کہ وہ ملک میں خواتین کے حقوق کے ساتھ دیگر اقلیتوں کے حقوق کا بھی تحفظ کریں گے

ادیب الزماں صفوی نے سٹیٹ ویوز کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کی مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں کو دنیا بڑے غور سے مانیٹر کرے گی کیوں کہ یہ پالیسیاں شرعی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے بنائی جائیں گی اور یہ دنیا کی پہلی اور واحد ریاست ہوگی جہاں پر شریعت کا مکمل نفاذ کیا جا رہا ہے ادیب الزماں صفوی نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر طالبان کو یقیناً کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن طالبان اپنے تدبر سے اس پر جلد قابو پالیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں