مجلس شوریٰ کا اہم اجلاس، 17گھنٹے کی بحث کے بعد عبدالرشید ترابی جماعت اسلامی سے فارغ،جماعت دو دھڑوں میں تقسیم

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی کو پارٹی سے فارغ کرنے کی اندرونی کہانی ذرائع نے سٹیٹ ویوز کو سنا دی۔تین بار مجلس شوری کا اجلاس ملتوی کرنے کے بعد لابنگ اور کونسلنگ کے ذریعے گذشتہ روز اراکین شوری آزادکشمیر نے غیر دستوری فیصلے کو تحفظ دیتے ہوئے سترہ گھنٹے کی بحث کے بعد سابق امیر جماعت اسلامی عبد الرشید ترابی اور ضلع باغ کے امیر کی رکنیت کی منسوخی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے انہیں جماعت اسلامی سے فارغ کردیا جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی واضع طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوریٰ کے چند ممبران کی مخالفت، عبد الرشید ترابی کیخلاف شوریٰ کا فیصلہ مسترد ، یکطرفہ فیصلہ سنا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی آزادکشمیر کا مجلس شوری کا اجلاس تین دن جاری رہا۔آخری روز بھی اراکین شوری کا مشاورتی عمل چلتا رہا۔اس سے قبل یہ اجلاس 4 اور 5 اگست کو طلب کیا گیا تھا جس کے بعد اس اجلاس کی تاریخ تبدیل کر کے 13 اور 14اگست رکھی گئی۔

ایک بار پھرمجلس شوری کے اجلاس کی تاریخ تبدیل کر کے 27 اور28 اگست رکھی گئی لیکن اجلاس پھر نہ ہو سکا۔ اراکین شوری نے احتجاج کیا تو شوری کے اجلاس کی تاریخ 11اور 12ستمبر رکھی گئی۔گزشتہ روز اختتام ہونے والے اجلاس میں شوری کے ممبران نے کھل کر اپنا موقف پیش کیا۔اراکین شوری جن میں ارشد ندیم،سجاد انور،سردار جاوید خان،عبید الرحمن عباسی،مظفر شیخ،عقیل الرحمن،کبیر ہاشم اور حبیب الرحمن آفاقی نے امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی کو جماعت اسلامی سے فارغ کرنے کی تائید کی جبکہ اشرف بلال محمود احمد،شمشیر احمد،محمد الحسن چوہدری، نثار شائق،راجہ فاضل تبسم نے امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود کے فیصلہ کو غیر دستوری قرار دیتے کہا کہ اپ کا فیصلہ جماعت اسلامی کے دستور کے خلاف ہے۔

ان اراکین نے موقف اختیار کیا کہ دستور میں واضح لکھا ہوا ہے کہ جو امیر جماعت ہو گا وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل شوری سے مشورہ کرے گا اور اسکے بعد فیصلہ سنایا جائے گا جب عبد الرشید ترابی نے اپنے الیکشن سے دستبردای کا اعلان کیا تو انھوں نے ضلعی شوری سے مشاورت کے بعد اعلان کیا تھا اور یہ حق انہیں جماعت اسلامی کا دستور دیتا ہے۔اسکے بعد انھوں نے مرکزی قیادت کو خط لکھا کہ الیکشن سے دستبردار ہونے کا فیصلہ میرا ذاتی نہیں بلکہ ضلعی ساتھیوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا ہے۔وہ خط اراکین شوری تک کیوں نہیں پہنچایا گیا۔ اراکین اجلاس شوری میں کچھ ہم خیال لوگوں کو ڈاکٹر خالد محمود کی طرف سے خفیہ طور پر خصوصی دعوت پر اجلاس میں بلایا گیا تاکہ فیصلے کرنے میں آسانی رہے۔

اشرف بلال،محمود احمد،شمشیر احمد،محمود الحسن چوہدری، نثار شائق،راجہ فاضل تبسم اراکین شوری نے کہا کہ تین بار شوری کا اجلاس بلا کر ملتوی کیا گیا۔ایسا پہلی بار ہوا ہے اس دوران اراکین شوری کی کونسلنگ کی گئی۔ان پر دبائو ڈالا گیا جس کے بعد اراکین شوریٰ تذبذب کا شکار رہے کہ وہ شوریٰ کے اجلاس میں بات کیا کریں۔سابق امیر جماعت اسلامی اعجاز افضل نے اجلاس میں یہ تجویز دی کہ اگر آپ عبد الرشید ترابی کی بحالی چاہتے ہیں تو سارے اراکین پرانے فیصلے کو تسلیم کریں۔اگلا طریقہ میں بتائوں گا کہ عبد الرشید ترابی کیسے بحال ہونگے۔ اس پر محمود احمد نے کہا کہ پرانے فیصلے کو کیسے تسلیم کریں جب وہ فیصلہ ہی غیر دستوری ہے۔اس پر سابق امیر جماعت اسلامی اعجاز افضل ،محمود احمد اور اشرف بلال کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اس لئے آخری روز اجلاس میں محمود احمد،اشرف بلال،محمود الحسن چوہدری شریک نہیں ہوئے اور اراکین شوری کو پیغام بھیجا کہ ہم اجلاس میں شریک نہیں ہونگے جہاں تعصب اور منافقت کی بنیاد پر فیصلے ہوں۔

اجلاس میں پروفیسر غلام سرور نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی کا فیصلہ دستور کے خلاف تھا۔انکا وہ فیصلہ جماعت اسلامی کی سیاست کو دفن کرنے کے مترادف تھا اور آج بھی جو فیصلہ کرنے جا رہے ہیں یہ فیصلہ جماعت اسلامی کیلئے آخری کیل ٹھونک رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود نے جماعت کو تباہ کیا ہے۔ یہ بات تاریخ میں لکھی جائے گی اور انکا ساتھ اعجاز افضل نے دیا۔مسجد کے احاطے میں بیٹھ کر اپ لوگ کیسے غلط فیصلہ اراکین شوری پر مسلط کر سکتے ہیں۔عبد الرشید ترابی نے جماعت اسلامی کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ جماعت کے لیے ادارے بنائے اور انکی خواہش ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے پرچم کے ساتھ دفن ہوں۔ڈاکٹر خالد محمود نے جب فیصلہ سنایا تھا توشوریٰ کے کس کس ممبر سے مشاورت کی؟ لابنگ کے ذریعے آپ نے اس وقت فیصلہ کیا جو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں سابق امیدوار اسمبلی راجہ خالد محمود، نورالباری،راجہ شوکت نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہ کی۔ یاد رہے کہ موجودہ امیر جماعت ڈاکٹر خالد محمود کا جب انتخاب ہوا تھا تو اس وقت بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈاکٹر خالد محمود کنونس کر کے جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے ہیں۔ اس وقت ایک کیمٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے تین ماہ بعد رپورٹ دی کہ بعض شوری کے ممبران نے ڈاکٹر خالد محمود کو امیر منتخب کروانے میں باقاعدہ مہم کی ہے اور خود ڈاکٹر خالد نے الیکشن سے قبل پورے آزادکشمیر کا دورہ کیا تھا جو دستور کے خلاف تھا۔

اس پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو اراکین شوری ایسا کر چکے ہیں وہ معافی مانگیں اور کوشش کریں کہ وہ دوبارہ یہ غلطی نہ کریں۔دوسری جانب موجودہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اس بات کا بھی اہتمام کیا گیا کہ عبدالرشید ترابی دوبارہ ممبر شپ حاصل کرسکیں گے لیکن جماعت اسلامی کا یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد تنظیم واضع طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ایک دھڑا تنظیم کے فیصلے کی حمایت کررہا ہے اور دوسرا دھڑا اس فیصلے کو یکسر مسترد کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں