دنیا کی بڑی کمپنی دیوالیہ، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں ہل گئیں

بیجنگ (کامرس رپورٹر) چین کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کمپنی “ایورگرینڈ” مالیاتی بحران کا شکار ہوگئی ہے جس کے تباہ کُن اثرات چینی معیشت پر مرتب ہوں گے، جبکہ اس کے اثرات عالمی مالیاتی اداروں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

“ایورگرینڈ” نے بتایا ہے کہ انتظامیہ نے بانڈ انٹرسٹ کی ادائیگی کیلئے ایک معاہدہ کرلیا ہے۔ ایور گرینڈ تقریباً 300 بلین ڈالر کے قرضوں میں گرفتار ہے، تاہم فوری طور پر گھریلو بانڈ کے لئے 35 اعشاریہ 9 ملین ڈالر کی ادائیگی کیلئے معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کمپنی سے جڑے مفاد وابستگان اور سرمایہ کاروں کو کچھ راحت ملے گی۔ تاہم ایورگرینڈ کو جمعرات تک 83 اعشاریہ 5 ملین ڈالر سود کی رقم اوورسیز بانڈز کی مد میں جمع کرانا ہے۔

“ایورگرینڈ” کی جانب سے شینزین اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ فریقین کو قرض کی ادائیگی کیلئے ایک معاہدے پرمتفق ہوگئی ہے تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں کہ کتنا سود ادا کیا جائے گا اور کتنے وقت میں یہ ادائیگی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ شینزین ایکسچینج شینزین شہر میں واقع ہے اور یہ شنگھائی اسٹاک ایکسچینج کے بعد چین کے یہ دو اسٹاک ایکسچینجوں میں سے ایک ہے جو چین میں آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدے کے تحت کمپنی کے پاس 30 دنوں کی رعایتی مدت ہے، تاہم اس دوران سود کی رقم کا تصفیہ کرنے میں ناکامی پر جمع کرائے گئے آف شور بانڈ ڈیفالٹ ہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں