*باغ کے بعد راولپنڈی ارکان جنرل کونسل کا عبدالرشید ترابی کیخلاف فیصلہ ماننے سے انکار جو دستور آپ پڑھ کر ہمیں سنا رہے ہیں وہی دستور ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دیتا ، اراکین کا احتجاج الیکشن میں ناکام کا جائزہ لیا جانا چاہیے تھا، ڈاکٹر خالد محمود کے دور میں جماعت اسلامی آزادکشمیر مزید تنزلی کا شکار ہوئی عبدالرشید ترابی کو سامنے رکھ کر امیر جماعت اپنی ناکامیاں چھپارہے ہیں،سابق امیر جماعت کو نشانہ بنانا درست نہیں،ارکان کونسل*

اسلام آباد(نیوز رپورٹر/سٹیٹ ویوز)جماعت اسلامی آزادکشمیر ضلع راولپنڈی کے اراکین کا اجلاس امیر ضلع صالح طاہر کے زیر قیادت منعقد ہوا۔اجلاس میں امیر ضلع راولپنڈی صالح طاہر نے جماعت اسلامی کا دستور پڑھا کر سنایا اور اراکین کو بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر اراکین نے اجتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جو دستور اپ پڑھ کر ہمیں سنا رہے ہیں وہی دستور ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے

ضلع باغ کے شوری اجلاس کے بعد راولپنڈی میں ہونے والے ارکان جنرل کونسل نے امیر جماعت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور نئے امیر جماعت کا مطالبہ کر دیا

ارکان جنرل کونسل امتیاز عباسی نے کہا کہ 2001میں عبدالرشید ترابی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے عام انتخابات میں حصہ لیا عبدالرشید ترابی اپنی سیٹ چند سو ووٹ سے ہارے اور حلقہ غربی باغ سے جماعت اسلامی کا امیدوار دو ہزار کے مہارجن سے اپنی سیٹ ہار گیا مظفر آباد سے ڈاکٹر مشتاق نے خوب مقابلہ کیا اور پورے آزادکشمیر سے جماعت اسلامی نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیے اسکے بعد اعجاز افضل جماعت کے امیر بنے تو جماعت اسلامی آزادکشمیر تنزلی کا شکار ہوئی موجود امیر ڈاکٹر خالد محمود کے دور میں جماعت اسلامی آزادکشمیر مزید تنزلی کا شکار ہوئی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موجودہ الیکشن میں شکست کھانے کے جماعت اسلامی آزادکشمیر کو اپنا جائزہ لینے کی کوشش کرتی لیکن ایک فرد عبد الرشید کو سامنے رکھ کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے موجودہ امیر ڈاکٹر خالد محمود کے پانچواں سال شروع ہو چکا ہے انھوں نے ان پانچ سالوں میں ایک حلقے کا تفصیلی تنظیمی دورہ نہیں کیا مسلسل ایک ماہ جماعت کو نہیں دئیے انکو فی الفور استعفی دنیا چاہیے یہاں انکو پیشن نہیں ملنی

واجد اقبال عباسی نے کہا کہ یہ سراسر زیادتی ہے کہ جب ضلعی شوری فیصلہ کرے اور اسکی اجازت دستور میں موجود ہے پھر مرکزی شوری ضلعی شوری کے فیصلے کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے اور مرکزی شوری سے مشاورت کرتی ہے عبدالرشید ترابی کو نشانہ بنانا کسی صورت درست نہیں 31حلقوں میں جماعت 28000ووٹ لے رہی ہے اسکا جائزہ لینا چاہیے ہم عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں موجودہ قیادت کو استعفی دینا چاہیے اور اس شخص کو سامنے لایا جائے جو کردار ادا کر سکے

صغیر قمر نے کہا کہ موجودہ امیر ڈاکٹر خالد محمود کو امیر تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ گروپنگ اور لابنگ کے ذریعے امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے ہیں اور جن لوگوں نے گروپنگ کونسلینگ اور لابنگ کی وہ امیر جماعت اسلامی کے کچن کیبینٹ کے لوگ ہیں گزشتہ چھ ماہ میں امیر جماعت نے آزادکشمیر کے کسی بھی حلقے کا دورہ نہیں کیا اور جب پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ امیر جماعت کی طبعیت نہیں ٹھیک وہ ڈیپریشن کا شکار ہیں

احسان الرشید ترابی نے ضلعی امیر صالح طاہر کو مخاطب کر کے کہا کہ اپ کے ہاتھ میں دستور کی کاپی موجود ہے دستور میں ایسا کہاں لکھا ہے کہ اراکین اپنی بات اجلاس میں نہ کر سکیں شوری کے پاس اختیار ہے کہ وہ امیر کے غیر دستوری فیصلے کو توسیع نہ کرے ایسا کس عدالت میں ہوتا ہے کہ متلعقہ فریق کو سنے بغیر امیر جماعت اپنا فیصلہ سنا دیں عبد الرشید ترابی اور عثمان انور نے خط لکھا وہ خط قیادت نے شوری کے ممبران تک نہیں پہنچایا گیا عام انتخابات میں عبد الرشید کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ ضلعی شوری کے فیصلے کی روشنی میں عبدالرشید ترابی نے سیاسی فیصلہ کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں