قلم کی قسم/راجہ شہزادخان

ڈاکٹرقدیر اورگلوبٹ میں فرق ہوناچاہیئے

گزشتہ دنوں نیوز ویب سائیٹ “سٹیٹ ویوز”کی سافٹ لانچنگ کے لیےمحسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان سےملاقات کاشرف حاصل ھوا۔اس موقع پر سٹیٹ ویوز کےایڈیٹرسید خالدگردیزی اور ڈائریکٹر راجہ منصوربھی موجود تھے۔ ملاقات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نےادارےکے لیے جہاں نیک خواہشات کا اظہارکیاوہاں ٹیم کو ھدایات دیتے ھوئےکہاکہ سٹیٹ ویوز کو جانبدارنہ بنانااور غیرجانبداری سے کام کرنا۔اس سےپہلے پریس کانفرنس یا کسی فنگشن میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ھو چکی تھی تاہم پہلی بارانکے کیساتھ قدرے تنہائی میں مل بیٹھنےاورانکو سننےکاموقع ملا۔

ڈاکٹر صاحب سےملاقات کیلئےآدھے گھنٹےکاوقت مختص تھاجس میں سافٹ لانچنگ سےمتعلق رسمی کاروائی ہوناتھی لیکن لگ بھگ تین گھنٹےانکےساتھ پلک جھپکتےگذرگئے۔دوران گفتگو جن جن باتوں کا ڈاکٹر صاحب نے ذکرکیا ان میں سےاکثر باتیں ضیغہ راز ہی رہیں گی تاہم اہم نوٹ یہ کہ ڈاکٹر صاحب سےجب میں نے پوچھا کہ کشمیرکوبھارت کےچنگل سےچھڑانےکیلئےکیاپاکستان کوایٹمی طاقت کامظاہرہ کردیناچاہیئے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نےغور سے میری طرف دیکھتے ھوئے کہا کہ اٹیم بم کااستعمال ممکن ھے لیکن کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان اٹیم بم کااستعمال کرتا ھے تو بھارت نہیں کریگا۔بھارت بھی اٹیمی ملک ھے۔ ہمارے چارصوبےاور بھارت کے 26 صوبے ہیں۔ پاکستان اگرلڑائی کرتا ھے تو بھارت ایک منٹ بھی دیر نہیں لگائےگالڑنےمیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بھارت ہر لحاظ سےبڑا ملک ھے اور دوسری بات اب جنگیں مسئلے کا حل نہیں رہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ کے بغیر بھی ممکن ھے۔ پرویز مشرف کےچار نکاتی فارمولےکے تحت مسئلہ کشمیر حل ھوتا ھوا نظر آرھا تھا لیکن مشرف اورعدلیہ کی لڑائی کےباعث پاک بھارت معاہدہ نہ ہوسکاجس پر بھارت راضی تھا۔اب کشمیریوں کیلئےبہترہےکہ وہ فی الحال زیادہ سےزیادہ اندرونی خومختاری لیں۔

ڈاکٹر صاحب نے دوران گفتگو بتایاکہ ذوالقفارعلی بھٹو کے کہنے پر پاکستان آیااور جب پاکستان پہنچا تو ایف ایٹ میں ایک گھر میں رہائش دی گئی جہاں ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا۔ بہت مشکل سے ہمیں کھانے پینے کی اشیاءملتی تھیں۔ پہلی تنخواہ چھ ماہ بعد تین ہزارروپےماہواردی گئی۔ہمیں تنخواہ اورمراعات سےزیادہ اس بات کاجنون تھا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بناناہے۔اٹامک کمشن نےکچھ بھی نہیں کیاہواتھا۔ اٹیمی پروگرام پر کام شروع کیا تو کام کو سمجھنےوالامیرےسوا کوئی بھی ملک میں موجود نہ تھا۔ہم نے سائنسدانوں کی ٹیم بنائی اوردن رات محنت کی اوردنیانےدیکھاکہ ہم نے ایک پسماندہ ملک کو ایٹمی طاقت بنادیا۔

جب 2001میں ریٹائر ھوا تو مجھے4461 روپے پینشن دی گئی جو اب بڑھتے بڑھتے 86000 تک پہنچ چکی ھے۔ڈاکٹر صاحب نے اٹمیی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ مجھے اس وقت کی سیاسی اورعسکری قیادت نے جیسا کہا میں نے کیا۔بعدازاں مجھےایک بند کمرے میں کیمرے کے سامنے زرکوب کر کے بیٹھادیا گیا اورایک کاغذ کا ٹکرا تھماتے ھوئےکہاگیا کہ آپ یہ پڑھ لیں باقی ہم سنبھال لیں گے۔میں نے انکی بات پر عمل کرتے ھوئے وہی کیا جسکا مجھے کہا گیا اسکے بعد مجھے اپنے گھر ڈراپ کیا گیا تو میرے گھرکی ٹیلی فون تار۔ ٹیلی ویژن سب کچھ بند کردیاگیا۔میرا کسی سے کوئی رابطہ نہ تھا۔بعد میں معلوم ہواکہ مجھےقربان کردیاگیاہے۔

لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصحف علی میرکوبھی اڑایا گیا کیونکہ وہ نہیں چاھتے تھے کہ پاکستان اپنےائیربیس دوسروں ممالک کو دے۔یوں لگتاہے کہ پرویز مشرف نےاپنےاقتدارکودوام بخشنےکیلئےسپرپاورزکوخوش کیا۔ڈاکٹر صاحب سے جب یہ پوچھا کہ پاکستان کی ترقی کیسےممکن ھےاور کیاکوئی ایسی سیاسی جماعت ھے جو پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ کر سکے اس سوال کا جواب دیتے ھوئے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اس وقت جو سیاسی جماعتیں پاکستان میں موجود ہیں سب کرپٹ اور چور ہیں۔ مجھے ان میں سے کوئی ایک جماعت پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں لگتی۔

ہم نےایٹم بم بنایا تھاتاکہ دفاع پرخرچ ہونےوالےبجٹ میں کمی آئےاورجواخراجات دفاع پرہورہےہیں وہ صحت اورتعلیم کے شعبوں میں ہوں لیکن ایسانہیں ہوسکا۔ ڈاکٹر صاحب کی باتیں سن کردل پرچکی چل رہی تھی۔ماناکہ ڈاکٹرصاحب کو سکوریٹی ایشوز کا سامنا ہےاوردنیاکے بڑےسائنسدان کوسکوریٹی فراہم کرناملک کی ذمہ داری ہےلیکن قید اورحفاظت میں فرق روار کھا جاناچاہیئے۔ معمولات زندگی میں انکی خواہشات اوراحساسات کااحترام ہوناچاہیئے۔ جس شخص کی خدمات کا اعتراف دشمن ملک بھی کررہا ہے اسے محض 86000 پینشن دی جارہی ھے۔ ڈاکٹر صاحب کی رہائش کے چند فرلانگ کے فاصلے پر ججز کالونی میں رہائش پذیر ایک ایک ریٹارئر جج ماہانہ آٹھ سے دس لاکھ پینشن اور دیگر مراعات لے رہاھےجنکی خدمات صرف یہی ہیں کہ سینکڑوں فائلیں ہیں جنہیں وہ دیکھ بھی نہ سکےاور ان فائلوں پر اب گردکی تہیں جمی ہوئی ہیں۔

انصاف کے متلاشی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ جنرل لاکھوں روپے پنشن اور دیگر مراعات لے کر زندگی انجوائے کرتا ہے۔ بیوروکریٹس اور سیاسی پنڈت جن کی گردنوں تک کرپشن دھنس چکی ھےوہ سکون سے اپنے گھر میں رہ رھےہیں اورچلتےپھرتےہیں۔ جس شخص نےپاکستان کو دنیا کاساتواں اوراسلامی دنیاکا پہلاایٹمی ملک بنایاوہ کسمپرسی کی زندگی گذاررہاہےاورگھٹ گھٹ کرجی رہاہے۔ سیکوریٹی اوردیگر معاملات اپنی جگہ لیکن ان سطور میں یہ کہنامقصودہےکہ ڈاکٹرصاحب کوحکومتی سطح پرخصوصی عزت واحترام ملناچاہیئے۔ انہیں خوش وخرم اپنی زندگی گذارنےکاموقع ملناچاہیئے۔انہیں محسوس ہوناچاہیئےوہ اس ملک کےایٹمی سائنسدان ہیں مجرم پٹواری یاگلوبٹ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں